33

اربعین مارچ، بدعت یا دینی رسم؟

  • News cod : 57016
  • 09 آگوست 2024 - 22:37
اربعین مارچ، بدعت یا دینی رسم؟
اربعین کی زیارت اور مشی ہمیں اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں نظر آتا ہے۔

اربعین کی زیارت اور اربعین مارچ  ہمیں اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں نظر آتا ہے۔ اسکو انجام دینا شیعہ ثقافت کی پہچان اور اسکی سر بلندی کا سبب بھی ہے۔ مزید بھی اسکی بہت برکات بیان کی گئی ہیں۔

سوال:

اس نکتے پہ نظر رکھتے ہوئے کہ اربعین پہ پیدل چلنے کی رسم پرانی نہیں ہے اور نہ ہی آئمہ معصومین علیھم السلام کے زمانے کے شیعوں نے اس پر عمل کیا ہے کہ آئمہ علیھم السلام اس کو رد یا اسکی تصدیق کر سکیں تو کیا اسے بدعت اور انتشار کا ذریعہ نہیں سمجھا جاسکتا؟

مقدمہ:

اربعین کی پیادہ روی شیعہ رسومات میں سے ایک ہے جو 20 صفر تک یعنی حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کی شہادت کے چالیس دن تک مختلف راستوں سے شروع ہوتے ہوئے حرم پہنچنے تک اختتام پذیر ہوتی ہے۔ خاص طور پر عراق میں نجف سے کربلا تک امام علیہ السلام کی زیارت کے ارادے سے زائرین پیدل چلتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں اس اربعین مارچ نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے اور اس موضوع پر بہت سے اعترضات بھی ہوئے ہیں کیونکہ اس کے شیعہ مکتب کو فروغ دینے اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی سربلندی کہ ضمن میں بہت سے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اس تمہید کے ساتھ ہم مذکورہ سوال کی طرف جاتے ہیں اور اس کا جواب چند نکات کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔

پہلا نکتہ:

ادیان و مذاہب کی تاریخ کے مطابق جس چیز نے ماضی کے مذاہب بالخصوص عیسائیت اور یہودیت کو فکری مسائل سے محروم رکھا اور ان کے لیے مذہبی تقریبات کا صرف ایک خول چھوڑا، وہ مسئلہ بدعت ہے۔

اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بدعت شیطان کے قدموں میں سے ایک خطرناک قدم ہے جو بعض اوقات شروع میں فرد پر اور معاشرے میں اپنے تباہ کن اثرات ظاہر نہیں کرتا، لیکن آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ شریعت کا اصول غیر معقول اور ناقابل قبول لگتا ہے اور عملی طور پر اس کا خاتمہ بھی ہو چکا ہوتا ہے۔

دوسرا نکتہ:

جو بدعت کو ختم کرنے کا خواہشمند ہے اسے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ یہ جنون اور زیادتی کا سبب نہ بنے اور اس کا نتیجہ کسی ایسی چیز کی مخالفت ہونا چاہیے جو دینی فضیلت کا خواہاں ہو۔ کیونکہ بدعت کی واضح تعریف ہے کے کسی چیز کا بے مثال ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بدعت ہے۔

نتیجتاً کسی بدعت کو بدعت کے عنوان سے منسوب کرنا اس وقت جائز ہے جب اس میں دو چیزیں موجود ہوں:

1- تاریخ میں بے مثال ہونا
2- اصولوں یا عمومیات پر انحصار نہ کرنا

اس تعریف کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ اربعین کے دن حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے پیدل چلنا بدعت کی مثال نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کے اجزاء “زیارت اربعین” اور “زیارت کے لیے پیدل چلنا” کے ہیں۔

پیدل چلنا آئمہ معصومین علیہ السّلام کی روایات میں موجود ہے اور درحقیقت ہم یہ سنت کے مطابق عمل کر رہے ہیں، یہ کوئی ایسا عمل نہیں جس کی آئمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت میں کوئی مثال نہ ہو۔

زیارت اربعین سے متعلق روایت پر بحث کرتے ہوئے مثال کے طور پر ہم امام صادق علیہ السلام کی روایت کا حوالہ دے سکتے ہیں۔

سید محمد علی قاضی طباطبائی نے سید الشہداء کے پہلے اربعین مارچ پر اپنی تحقیقی کتاب میں اربعین کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو شیعوں کی ایک رسم کے طور پر ںیان کیا ہے۔ آئمہ معصومین علیہم السلام جو بنی امیہ اور بنی عباس کے زمانے میں بھی اس تحریک پر کاربند رہے نیز حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کی زیارت میں پیدل چلنے کی فضیلت کے بارے میں ہم اس روایت کا حوالہ دے سکتے ہیں جو کے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک جو شخص اپنے گھر سے قبر حسین بن علی کی زیارت کی نیت سے نکلے، اگر پیدل ہو تو اسکے ہر ایک ایک قدم کے ساتھ اس کے لیے نیکی لکھی جاتی ہے اور گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔

نتیجہ کے طور پہ مذکورہ روایت یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ اربعین کے دن حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے پیدل چلنے کا ذکر انبیاء معصومین علیہم السلام کی روایات میں موجود ہے اور بنیادی طور پر یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، اس لیے یہ “بدعت” کے موضوع کے زیر میں نہیں آسکتی۔

تیسرا نکتہ:

اس معاملے میں ہم سوال کرنے والے محترم کی اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ عام عنوانات مثلاً “تشبیہات کا احترام” یا “مودۃ فی القربی” کے محض ایک عمل کی موجودگی انفرادی یا اجتماعی طور پر اسے انجام دینے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

یا دوسرے لفظوں میں، ذاتی اور سماجی میدان میں کسی فعل کو مطلوبہ اور شرعی طور پر جائز ہونے اور بدعنوانی کا سبب نہ بننے کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ بدعت نہیں ہے، بلکہ یہ جاننا چاہیے کہ کیا اس عمل کے اجازت دینے کی شرائط بھی پوری ہوتی ہیں یا نہیں؟

مثال کے طور پر، فرض کرتے ہیں کہ کوئی شخص چاقو اور بلیڈ سے زنجیر زنی کرنے کے مسئلے کو اس مثال میں شامل کر سکتا ہے، حالانکہ ان اعمال کو اس سے خارج کیا جا سکتا ہے۔

“بدعت” کا عنوان، عمومیات جیسے “خود کو نقصان پہنچانے” یا “مذہب کی حرمت” یہاں انفرادی اور سماجی سطح پر اس فعل کی اجازت، کارکردگی یا پھیلاؤ کو روکنے کے نتیجے کے طور پر، یہ درست ہے کہ ان رسومات کو کسی فعل کہ طور پہ داخل کرنا اور اسے ایک عام اصول کہ طور پہ ظاہر کرنا، بدعت سے دور کر دیتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اگر دوسرے اصولوں کو بنیادی قواعد پر یا ثانوی عنوانات کے طور پر بھی غور کیا جائے تو ان اصولوں پر عمل کرنے سے انتشار پیدا ہونے اور مذہب میں غیر اخلاقی رسومات کو متعارف ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

نتیجہ:

جو کچھ کہا گیا ہے اس سے یہ واضح ہے کہ اربعین کی زیارت کے لیے پیدل چلنا کوئی حادثاتی یا نیا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اس فعل کا ہر ایک جز یعنی اربعین کی زیارت اور پیدل سفر اہل بیت علیہم السلام کی سیرت اور روایات میں بھی درج ہے اور اس پر عمل کرنے سے مکتب تشیع کی ثقافت اور اسکی تشخیص میں سر بلندی ہوئی ہے۔ مزید
اس کے بہت سے اثرات اور برکات بھی بیان ہوئے ہیں۔

بلاشبہ اج اربعین مارچ کی تحریک کی بحث اپنے تاریخی جمود سے گزر چکی ہے اور ایک عالمی تحریک بن چکی ہے جس کے کارنامے اور برکات ہمارے سامنے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ اربعین مارچ دنیا بھر میں حضرت امام حسین علیہ السلام کہ عاشقوں اور بالخصوص شیعوں کی پہچان کا حصہ بن چکی ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=57016

ٹیگز