20

معروف ترک صوفی اسکالر فتح اللہ گولن اور درویشیت

  • News cod : 58376
  • 03 نوامبر 2024 - 17:29
معروف ترک صوفی اسکالر فتح اللہ گولن اور درویشیت
نظریات میں صوفیت و درویشیت کا نعرہ لگانے والا پنسلوانیا میں چھبیس ایکڑ کے محل میں رہتا تھا۔ گاندھی امن ایوارڈ لینے والے گولن کا ایران کے بارے میں کہنا تھا کہ اگر جنت کا راستہ ایران سے ہوکر جاتا ہے تو وہ اس راستے سے نہیں جائیں گے۔

معروف ترک صوفی اسکالر فتح اللہ گولن اور درویشیت

تحریر: محمد بشیر دولتی

مجھے متنازعہ شخصیات کو پڑھنے کا شوق ہے ۔ یہی شوق مجھے فتح اللہ گولن کی طرف لے گیا۔ میرے خیال میں گولن اس صدی کی متنازع ترین شخصیت ہیں۔

فتح اللہ گولن 27 اپریل 1941 کو ترکی میں پیدا ہوئے اور 20 اکتوبر 2025 کو امریکہ میں وفات پاگئے۔ 83 سال کی عمر میں گولن صدی کی متنازع ترین شخصیت کیوں اور کیسے بنے؟ ان کے خیالات، افکار، شکل و شمائل اور طرزِ زندگی تضادات کا مجموعہ کیوں تھے؟ ان کے چاہنے والوں کی تعداد تو بہت تھی، مگر اتنے ہی مخالفین بھی کیوں تھے؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو ان کی زندگی کے نشیب و فراز اور افکار و کردار کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا ہوگا۔

گولن نے ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی جہاں سیکولرازم کا چرچا اور مذہب پر پابندی تھی۔ ہوش سنبھالتے ہی وہ ترکی کے معروف صوفی اسکالر بدیع الزماں نورسی کے پیروکار بن گئے۔ اتاترک کی سیکولر کوششوں کے باوجود ترکی میں ابن عربی کی صوفیانہ رنگت باقی تھی۔ بدیع الزماں سعید نورسی اسی صوفیانہ باقیات کی علامت تھے۔ صوفی نورسی دینی مدارس میں سیاسی مضامین پڑھانے اور سیکولر اداروں میں مذہبی تعلیم دینے کے قائل تھے۔ گولن نے صوفی نورسی کے افکار کو سخت ترین سیکولر ماحول میں عملی جامہ پہنانا چاہا۔ ابتدا میں انہوں نے مختلف ٹیوشن سینٹرز قائم کیے جن کا مقصد طلبا کو بہترین تعلیم و تربیت فراہم کرنا تھا۔ بعد میں مخیر حضرات کی مدد سے طلبا کے لیے مختلف ہاسٹلز بنائے، جہاں نمازِ جماعت کا بھی اہتمام کیا گیا، مگر جماعت میں شرکت اختیاری رکھی گئی۔ ان ہاسٹلوں میں رفتہ رفتہ شرم و حیا، ادب و احترام، حق و سچ جیسی اقدار کو ترکی کی قومی ثقافت کے طور پر پیش کیا گیا جس کے نتیجے میں دین دار تاجر اور عام لوگ تو ان کی طرف مائل ہوئے ہی، بلکہ قوم پرست افراد بھی ان کے ساتھ جڑنے لگے۔

اگلے مرحلے میں انہوں نے اسکول، اخبارات، ٹی وی چینل اور کاروباری ادارے قائم کیے۔ اسکولوں کا جال بچھانے، عوام میں نفوذ کرنے اور میڈیا پر مقبول ہونے کے ساتھ ہی انہوں نے ترک کلچر کے نام پر اپنے اداروں میں ڈانس اور موسیقی کے قومی و عالمی مقابلے شروع کیے اور ’’گریٹر ترکی‘‘ کا نعرہ بھی بلند کیا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ گولن نے یہاں سے یوٹرن لیا یا پھر استعماری قوتوں نے غیر محسوس طریقے سے انہیں اپنی طرف کر لیا۔
رفتہ رفتہ گولن نے ’’معتدل اسلام‘‘ کا نعرہ بلند کیا اور بین المذاہب گفتگو و روابط کو فروغ دینے لگے۔ وہ سیاست کو دین سمجھنے والی مذہبی تنظیموں سے دور ہوتے گئے اور انقلابِ اسلامی ایران سمیت مقاومتی تنظیموں پر تنقید کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں ان کی پہنچ یہودی عبادت گاہوں سے لے کر ویٹی کن تک ہوگئی۔ یوں ان کے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات مضبوط ہوئے اور مغرب نے انہیں ’’معتدل‘‘ ہونے کا سرٹیفکیٹ عطا کیا۔

2008 میں انہیں دنیا کے سو عقلمند ترین افراد میں نویں نمبر پر قرار دیا گیا۔ اردن نے انہیں پانچ سو اہم ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا اور 2013 میں دنیا کی سو اہم ترین شخصیات میں شامل کیا۔ 2015 میں انہیں بھارت نے گاندھی کنگ امن ایوارڈ سے نوازا۔ مغربی میڈیا نے انہیں امن کا علمبردار اور بین المذاہب رواداری کا علمبردار قرار دیا۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ یہ شخصیت اردوغان سے اختلاف اور بدعنوانی اسکینڈل کے سبب امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہی تھی۔ اردوغان کے بقول، 2016 کی بغاوت کے پیچھے گولن کا ہاتھ تھا۔ اس بغاوت میں فوج اور فضائی حملوں کے باعث 251 افراد جاں بحق اور دو ہزار زخمی ہوئے۔ اس بغاوت کی اطلاع شہید قاسم سلیمانی کے ذریعے اردوغان تک پہنچی اور وہ بغاوت کو کچلنے میں کامیاب رہے۔ اس رات فضائی حملے سے بچنے کے لیے اردوغان یا تو ایرانی فضائی حدود میں تھے یا ایران کی سرزمین پر، جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔ اس کے بعد ترکی، جو پہلے داعش کو سپورٹ کرتا تھا اور بشار الاسد کی حکومت گرا کر مسجد بنو امیہ میں نماز جمعہ پڑھنے کا خواہاں تھا، داعش اور شام کے معاملے میں پیچھے ہٹنے اور ایران کے قریب ہونے پر مجبور ہوگیا۔

جون 2016 کی بغاوت کے مرکزی ملزم عثمان خولیا کو اردوغان نے 2017 میں گرفتار کیا۔ عثمان خولیا اردوغان حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو فنڈنگ اور سپورٹ فراہم کرنے والے افراد میں شامل تھا۔ امریکہ، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، فن لینڈ اور فرانس کے سفیروں نے اسے چھڑانے کی کافی کوششیں کیں، مگر وہ ریمنڈ ڈیوس کی طرح خوش قسمت ثابت نہ ہوا۔ اس کے بعد یورپی یونین نے ترکی کو اس معاملے میں رعایت دینے کے لیے قانون سازی تک کی، مگر اردوغان نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور دس ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کر دیا۔

یہ بغاوت اگر کامیاب ہوجاتی تو امریکہ میں چھبیس ایکڑ کے محل میں رہنے والا درویش صفت صوفی منش گولن شاید ترکی کا صدر بن جاتا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بین المذاہب رواداری اور اتحاد کا دعویدار گولن شیعوں اور انقلابِ اسلامی ایران کا سخت مخالف تھا۔ یہودیوں، مسیحیوں اور بھارت سے امن کا ایوارڈ لینے والے گولن شیعوں سے کسی گفتگو کے قائل نہیں تھے۔ یہودیوں کی آنکھ کا تارا بن کر جینے والے گولن شیعوں کو یہودی ایجنٹ کہتے تھے۔ وائٹ ہاؤس اور ویٹی کن کے کانفرنسوں میں اتحاد و بھائی چارے کا درس دینے والے گولن شیعوں سے گفتگو کے قائل نہیں تھے۔ نظریات میں صوفیت و درویشیت کا نعرہ لگانے والا پنسلوانیا میں چھبیس ایکڑ کے محل میں رہتا تھا۔ گاندھی امن ایوارڈ لینے والے گولن کا ایران کے بارے میں کہنا تھا کہ اگر جنت کا راستہ ایران سے ہوکر جاتا ہے تو وہ اس راستے سے نہیں جائیں گے۔ آخرکار امسال 20 اکتوبر 2024 کو امریکہ کی سرزمین سے آخرت کے سفر پر روانہ ہوگئے۔ خدا ان کے چاہنے والوں کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=58376

ٹیگز