اُسوۂ ادب
غلام رسول فیضی
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻡّ ﺍﻟﺒﻨﻴﻦ علیها ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ ﻣﺎﺩﺭ گرامی حضرت ﻗﻤﺮ ﺑﻨﻰ ﻫﺎﺷﻢ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ 13 جمادی الثانی ﺳﺎﻝ 64 ه قمری کے دن وفات پائی.
آپکا اسم ﻣﺒﺎﺭک ﻓﺎﻃﻤﻪ، اور آپکی کنیت ﺍﻡّ ﺍﻟﺒﻨﻴﻦ ہے اور آپ سلام اللہ علیہا اسی کنیت سے ہی زیادہ مشہور ہیں. آپکے والد گرامی ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺰﺍﻡ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ، اور آپکی والدہ ماجدہ کا نام مبارک ﻟﻴﻠﻰ ہے جو ﺷﻬﻴﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻋﺎﻣﺮ کی بیٹی ہیں۔
حضرت ام البنین (س) ایسے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں کہ جو اخلاق ، شجاعت ، وفا ، ادب میں مشہور تھا آپ (س) اسوہ ادب تھیں، آپ انکساری اور عاجزی کی مالک تھیں لیکن آپ ادب کا بھترین محور بھی تھیں اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت علی(ع) جب آپ کو گھر میں لائے تو سب سے پہلے آپ نے بچوں سے اجازت لی تاکہ کہیں بے ادبی نہ ہو جائے اور آپ نے اپنے آپ کو حضرت فاطمه (س) کا جانشین نہیں جانا بلکہ اولاد حضرت زھراء بتول سلام اللہ علیہا کا خادم جانا. اور آپ(س) کی رفتار اور گفتار ہمیشہ پورے گھر میں مؤدبانہ تھی ۔ حضرت عباس اور انکے بھائیوں نے اسی سر چشمہ وفا اور ادب سے سیراب ہوکر اپنے وقت کے امام کے ساتھ کھڑے رہے اور امامت کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ حضرت عباس علمدار وفا اور آپکے دیگر بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کو ہمیشہ سیدی و مولای پکارتے تھے .
حضرت ﺍﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ نے آپ سلام اللہ علیہا کو شادی کیلئے منتخب کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار فرزند عطا فرمائے :
ﺣﻀﺮات:ﻗﻤﺮ ﺑﻨﻰ ﻫﺎﺷﻢ ﻋﺒّﺎﺱ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ، ﻋﺒﺪالله، ﺟﻌﻔﺮ ﻭ ﻋﺜﻤﺎﻥ علیهما السّلام، آپکے عظیم چاروں فرزند کربلا میں شہید ہوئے.
کربلائے معلٰی سے جب اسرا مدینہ پہنچے تو خواتین حضرت ﺍﻡّ ﺍﻟﺒﻨﻴﻦ ﻋﻠﻴﻬﺎ السلام کے گھر ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﻯ کرتیں تھیں. ﺍﮔﺮﭼﻪ آپ سلام اللہ علیہا کربلا میں موجود نہیں تھیں۔ لیکن آپ (س) نے گریہ و نالہ کیا اور بہت بے قرار تھیں. جب مدینہ کی خواتین آپ کو ام البنین کے نام سے پکارتیں اور تسلیت کہتی تو آپ (س) انہیں فرماتیں کہ اب مجھے ام البنین مت کہیں۔
حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا تاریخ کی عظیم الشان ماؤں میں سے ایک ہیں کہ جن کی زندگی امامت اور ولایت کی دولت سے مالا مال تھی۔ آپ (س) اپنے زمانے کی با فضیلت و با بصیرت خاتون ہیں۔ اور آپ(س) کا شمار ان میں ہوتا ہے جنہوں نے حریم حسینی کا دفاع کیا اور عزاداری امام حسین علیہ السلام کو برپا کیا۔
حضرت امام باقر علیه السلام فرماتے ہیں:
«جب حضرت (س) قبرستان بقیع میں جاتیں اور وہاں پر آپ (س) اتنا غمگین پر درد انداز میں شھدا کربلا کے لیے مرثیہ پڑھتی تھیں کہ والی مدینہ مروان بن حکم جو سخت دل ہونے کے باوجود بھی آپ کے مرثیہ پر گریہ کرتا تھا».
اور آپ (س) نے اپنی وفات تک بہت گریہ و زاری کیا۔
علّامه مامقانی لکھتے ہیں: حضرت امّ البنین علیها السلام کے بلند مرتبہ و مقام کیلئے اتنا کافی ہے کہ جب بشیر بن جزاکم نے آپ چاروں بیٹوں کی خبر شہادت دی تو آپ(س) نے فرمایا :
«آپ نے خبر سنا کر میرے میرے دل کی رگوں کو کاٹ دیا ہے ! میرے سارے بیٹے اور جو کچھ اس آسمان کے نیچے ہے سب حضرت ابا عبدالله الحسین علیه السلام قربان ہے».
منابع:
1. ﺍﻡّ ﺍﻟﺒﻨﻴﻦ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ ﺳﻴّﺪﺓ ﻧﺴﺎﺀ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﺹ 84.
2. ﺭﻳﺎﺣﻴﻦ ﺍﻟﺸﺮﻳﻌﺔ ﺝ 3 ﺹ 294.
3- مقتل الحسین علیه السلام
4- الحائری، بی تا: ج1، 443












