واشنگٹن سمجھتا ہے کہ جنگ کو جاری رکھنا نہ صرف مالی طور پر بھاری ہے بلکہ روس کے ساتھ بڑے تصادم کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔ اسی لیے امریکہ چاہتا ہے کہ جنگ کو ایک منظم طریقے سے ختم کرے تاکہ نہ یوکرین کی شکست کا سامنا ہو اور نہ ہی بڑے عالمی تصادم میں پھنسنا پڑے۔
یورپ کو لگتا ہے کہ امریکہ براعظم کی سلامتی کو نظرانداز کرتے ہوئے روس کو بڑے جغرافیائی فائدے دینے پر تیار ہے۔ ان کے نزدیک الحاق شدہ علاقوں کو قبول کرنا طاقت کے زور کو جائز قرار دینا ہے اور یہ روس کو دوبارہ حملے کی تیاری کا موقع دے سکتا ہے۔ جبکہ کییف جانتا ہے کہ موجودہ حالات اور مغربی حمایت میں کمی کے ساتھ تمام علاقوں کو جنگ کے ذریعے واپس لینا ممکن نہیں۔ امریکہ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ امداد کا تسلسل اسی تجویز کردہ راستے پر چلنے سے مشروط ہے۔ یوکرین کے صدر سیاسی طور پر مخالفت کر سکتے ہیں، لیکن فوجی اور مالی دباؤ آخرکار انہیں مجبور کر سکتا ہے کہ وہ امریکی منصوبے کو قبول کریں۔












