4

رمضان کی جنگ میں دشمن سات بڑی غلط فہمیوں کا شکار ہوا، آیت اللہ اعرافی

  • News cod : 64060
  • 05 آوریل 2026 - 18:35
رمضان کی جنگ میں دشمن سات بڑی غلط فہمیوں کا شکار ہوا، آیت اللہ اعرافی
انہوں نے کہا کہ آج ملتِ ایران کے مطالبات واضح ہیں: دفاع کا تسلسل، تانہ شاہی کے مقابلے میں عدمِ تسلیم، میدان اور سڑکوں پر عوامی اجتماعات، شہداء کے خون کا انتقام، غدار عناصر کے خلاف کارروائی اور امریکہ کے مقابل استقامت۔

قم المقدسہ کے مصلّیٰ قدس میں نماز جمعہ کے خطبے دیتے ہوئے آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ ملتِ ایران آج تاریخِ اسلام اور خطے کے ایک نہایت حساس موڑ پر کھڑی ہے اور اس نے اپنی ہوشمندی، جرأت اور استقامت سے دشمن کے تمام اندازے الٹ دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کی پہلی غلطی یہ تھی کہ اس نے سمجھا ایران مشکلات کے دباؤ میں پیچھے ہٹ جائے گا، لیکن عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ آج بھی انقلاب اسلامی اور دفاعِ مقدس کے جذبے کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔

دوسری غلطی یہ تھی کہ چند بڑے حملوں اور اہم شخصیات کی شہادت کے بعد ایران کا سیاسی نظام کمزور پڑ جائے گا، حالانکہ نظام نے فوری طور پر خود کو بحال کر لیا۔

آیت اللہ اعرافی کے مطابق تیسری غلطی یہ تھی کہ دشمن نے ایران کو صرف دفاعی پوزیشن میں سمجھا، جبکہ اب ایران کی دفاعی حکمت عملی زیادہ فعال اور جارحانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

چوتھی غلطی یہ تھی کہ دشمن نے صرف جدید اسلحہ اور کلاسیکی جنگی طاقت کو فیصلہ کن سمجھا، جبکہ ایران کے پاس غیر متوازن جنگی صلاحیتیں اور خطے کے اہم اسٹریٹجک وسائل بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانچویں غلطی محورِ مقاومت کو کمزور سمجھنا تھا، جبکہ لبنان، عراق، یمن اور دیگر محاذوں پر مزاحمتی قوتیں دوبارہ منظم ہو کر ابھر رہی ہیں۔

چھٹی غلطی یہ تھی کہ دشمن نے عالمی حمایت کو یقینی سمجھا، مگر دنیا کے عوام بڑی طاقتوں کے مقابلے میں ایران کے مؤقف کو توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ساتویں غلطی اندرونی بدامنی کی امید تھی، جسے عوام، پولیس اور بسیج کی بیداری نے ناکام بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج ملتِ ایران کے مطالبات واضح ہیں: دفاع کا تسلسل، تانہ شاہی کے مقابلے میں عدمِ تسلیم، میدان اور سڑکوں پر عوامی اجتماعات، شہداء کے خون کا انتقام، غدار عناصر کے خلاف کارروائی اور امریکہ کے مقابل استقامت۔

خطبۂ اول میں آیت اللہ اعرافی نے جهاد و دفاع میں تقویٰ کے تین بنیادی ارکان بھی بیان کیے: مکمل عسکری تیاری، روحانی و نفسیاتی آمادگی، اور خدا کی غیبی نصرت پر امید۔ انہوں نے کہا کہ انہی تین اصولوں کے ذریعے ایران اور محورِ مقاومت کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=64060

ٹیگز