وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید سے صوبائی وزیر زراعت محمد کاظم میثم نے ملاقات کی اور گلگت بلتستان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر کو اپنے شعبے کے حوالے سے درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں زراعت کو بہتر بنانا اس لیے اہم ہے کہ اس سے عام عوام کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے۔ اس شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ خطے میں زراعت کے بے تحاشہ مواقع ہیں اور ان سے استفادہ حاصل کرکے خطے کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی ترقی وفاقی حکومت سے بھی مدد لی جائے گی۔
اس ملاقات میں صوبائی وزیر نے پورے خطے کے مسائل پر روشنی ڈالی بلخصوص بلتستان ریجن کو سابقہ دور حکومت میں محرومی کے ازالے کو بھی اہم قرار دیا۔ اس موقع پر وزیراعلی نے کہا کہ ہم میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارے لیے تمام ریجن ایک جیسا ہے۔ ہماری حکومت میں بلتستان ریجن کی سابقہ محرومی کا ازالہ کیا جائے گا۔
گلگت بلتستان ریکارڈ ساز منصوبوں پر کام شروع ہوگا۔ مخالفین کے منفی پروپیگنڈوں کا جواب ہماری کارکردگی ہوگی۔ بلتستان میں شاتونگ نالے پر کام اسی سال شروع ہوگا، شغرتھنگ استور روڈ منصوبے کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرایا جائے گا، سکردو میں میڈیکل کالج پہ کام شروع ہوچکا ہے، 250 بیڈ ہسپتال خان صاحب کا بڑا تخفہ ہے۔ شغرتھنگ اور ہرپو سمیت دیگر پاور پروجیکٹس پر کام کا آغاز ہوچکا ہے۔












