وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما اور امام جمعہ مسجد بقیۃ اللہ ڈیفنس کراچی علامہ شبیر میثمی نے اپنے خطبہ جمعہ میں کہا کہ اوصیکم و نفسی بتقوی اللہ و نظم امرکم، پہلے اپنے آپ کو پھر آپ سب کو (نصیحت کرتا ہوں) اللہ کی پرواہ کیجئے، اللہ کا احترام کیجئے، اپنے امور کو منظم کیجئے یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
پالنے والے اس عظیم عید کے دن تجھ سے وہ مانگتے ہیں جس کو تو اہل ہے۔ پالنے والے تو ہمیں عطا فرمادے۔ پالنے والے وہ مسائل اور مشکلات جو ہمارے پاس موجود ہیں انہیں مولائے کائنات کی برکت سے ہم سے دور فرما دے۔ ہمارے پیارے ملک کو امن کا گہوارہ بنادے۔ ہمارے دلوں میں اہل بیت کی محبت کو اور زیادہ فرما دے۔ ہماری نسلوں کی اصلاح فرما دے۔ اس عظیم نعمت پر ہمارا شکریہ قبول فرما۔ پالنے والے ہماری موت کو اہل بیت کی محبت پر قرار د۔ درود پڑھ دیں محمد و آل محمد۔
عزیزانِ گرامی! سب سے پہلے زمانہ کے امام کو اس عید کی مبارک پیش کرتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اے امام ہم غیبت کے زمانے میں اپنی کوششیں کر رہے ہیں، آپ اپنا ہاتھ ہماری پیٹھوں پر رکھیں، ہم مضبوطی سے آگے بڑھیں گے، ان شاء اللہ۔ اس کے بعد مراجع کرام، علماء، قائد محترم سب کی خدمت میں عید مبارک۔ اور اس کے بعد آپ تمام مومنین کو آج کی عید پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
نہیں معلوم میں گفتگو کہاں سے شروع کروں، لیکن میں اپنی ایک بات کو پھر ریپیٹ (repeat) کرتا ہوا چلوں گا کہ مولائے کائنات کی کسی فضیلت کو میں اپنی طرف سے نہیں پیش کرسکتا اس لئے کہ قرآن مجید نے اتنی فضیلتیں بیان کردی ہیں کہ اگر ہم اپنی زندگی بھر انہی فضیلتوں کو بیان کرتے جائیں، توجیہ کرتے جائیں، تشریح کرتے جائیں تو وہ قرآن مجید کی فضیلتیں ختم نہیں ہوں گی دنیا ختم ہوجائے گی۔ پھر جب ہم حضور اکرم ﷺ کی احادیث کو دیکھتے ہیں اور اس میں شیعہ سنی میں اختلاف ہے ہی نہیں۔ حضور اکرم (ص) نے اتنی فضیلتیں مولائے کائنات کی بیان کی ہیں کہ جب ان کی جمع آوری کی جاتی ہے تو اتنے والیوم (volumes) بن جاتے ہیں اور جب ان کی تشریح کی جاتی ہے تو لوگ تشریح کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کی ہستی، اس کی شخصیت، اتنی عظیم ہے۔ آج کچھ آپ کے ذہنوں پر بوجھ ڈالنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں اپنے بعض عقیدے کو تھوڑا وضاحت کے ساتھ پیش کریں۔ کیونکہ یہ موقع بہت ہی خوبصورت ہے، بہت ہی اچھا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے توفیق دے اور میری زبان کو اس طرح کھول دے جیسا حق رکھتا ہے۔ ہمارا عقیدہ مولائے کائنات کے بارے میں بالکل واضح ہے اور اس میں دو ٹوک ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اعلان کیا: انی جاعل فی الارض خلیفۃ۔ میں زمین پر خلیفہ قرار دینے والاہوں۔ اگر یہ آیت قرآن مجید میں نہ ہوتی تو خلافت کے مسائل پر بڑے اختلاف ہوسکتے تھے۔ بڑی مشکلات ہوسکتی تھیں۔ ہم خود بھی ائمہ معصومین کی خلافت کو ثابت کرنے میں مشکل محسوس کرسکتے تھے۔لیکن قرآن مجید نے اتنے خوبصورت طریقے سے بات کو واضح کردیا کہ انی جاعل فی الارض خلیفۃ۔ میں زمین پر خلیفہ معین کرنے والا ہوں۔ اس کے بعد اللہ سبحانہ تعالیٰ نے آدم کو اسماء سکھا دئیے۔ یہاں سے آپ کے ذہن پر بوجھ آئے گا۔ میں چاہتا ہوں ہر وقت سادی سادی باتیں اور میٹھی میٹھی باتیں کرکے وقت نہیں نکالا جا سکتا۔ کبھی کبھار ذہن پر۔۔۔۔۔ مجھے معلوم ہے آج عنایت الٰہی ہوگی اور میں بات کو پہنچا دوں گا۔ جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اسماء سکھا دئیے: علم آدم الاسماء۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اسماء سکھا دئیے۔ اب میری بات پر بہت غور کیجئے گا۔ یہاں پر مفسرین نے عام طور پر کہا ہے کہ یہ جو علّم، اللہ تعالیٰ نے سکھایا آدم کو اسماء، یہاں آدم سے مراد نبی آدم جو زمین پر پہلے انسان تشریف لائے، وہ نہیں ہیں۔ آدم سے مراد اس کائنات کے عظیم ہستی کو بیان کیا گیا ہے جو کہ رسول اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ ان کو اللہ سبحانہ نے کون تعلیم دے رہا ہے۔ آیت قرآنی ہے اللہ۔ کس کو تعلیم دے رہا ہے؟ اس آدم کو جو کائنات کی ہستی کا عروج یا پہلا حصہ یا پہلا قدم ہے۔ اب جب آدم کو اسماء سکھا دئیے تو یہ اسماء ہم آ کر بعض مرتبہ تفسیر میں کہتے ہیں کہ یہ اہل بیت کے نام سکھائے تھے۔ اہل بیت تو وہ خود ہیں، نام اللہ نے اپنے سکھائے تھے۔ اس لئے کہ اسمائِ الٰہی صفات الٰہی ہیں۔ اسم اور صفت میں فرق کریں گے تو میرے مولا امیرالمومنین فرماتے ہیں شرک ہوجائے گا۔ تم ہمیں توحید سکھانے آتے ہو۔ ہمیں وہ توحید سکھاتا ہے جس کو اللہ نے سکھایا۔ پڑھیں نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ۔ کہ جس نے صفت کو اسماء سے جدا کردیا اس نے شرک کردیا۔ اور جس نے شرک کردیا وہ کہاں سے کہاں چلا گیا۔ تو اسماء اللہ تعالیٰ نے سکھائے۔ کوئی واسطہ تھا؟ کوئی واسطہ نہیں تھا۔ وہ اسماء کیا ہیں؟ وہ علم الٰہی ہے جو نورِ محمد مصطفیٰ ﷺ کو سکھائے گئے۔ اور اب یہاں پر یہ بات آتی ہے کہ جب اسماء سکھا دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں زمین میں اپنا وکیل بھیج رہا ہوں۔ اللہ نے فرمایا: میں زمین میں اپنا خلیفہ بھیج رہا ہوں۔ اور خلیفہ اس چیز میں خلیفہ ہوتا ہے جس میں خلافت دی جاتی ہے۔ اگر مثلاً کوئی نماز جماعت پڑھانے والا ہے اور اپنے پیچھے کسی کو خلیفہ چھوڑتا ہے تو نمازِ جماعت میں وہ پیچھے چھوڑے گا ، باقی چیزوں میں نہیں چھوڑے گا۔ اگر کوئی باپ ہے انڈسٹری چلاتا ہے۔ اپنے بیٹے کو پیچھے چھوڑتا ہے تو اپنی انڈسٹری کی ذمہ داری اس کو دیتا ہے۔ اسی طرح سے دنیا کی مثال سے ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو نور کو خلافت عطا کی وہ علم الٰہی تھا جو عطا کردیا گیا۔ اور علم الٰہی جب اس نور میں منتقل ہوا تو وہ علم عین قدرت ہے۔ بہت مشکل ہے اس کو ہضم کرنا! عین ممکن ہے میری اس کلپ (clip) پر مجھے غالی کہہ دیا جائے۔ مجھے فرق نہیں پڑتا۔ عقیدہ بیان کرنا ہے مجھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے نہیں معلوم کیسے آج توفیق دی۔ جب علم الٰہی اور قدرت الٰہی میں فرق نہیں کیا جا سکتا۔ میرا جوان فورا اٹھ کر پوچھ سکتا ہے: مولانا شرک ہورہا ہے۔ اللہ کا علم اور رسول کا علم آپ ایک کہہ رہے ہیں۔ اللہ کی قدرت ، رسول کی قدرت آپ ایک کہہ رہے ہیں۔ تھوڑا سا سمجھنے میں فرق ہے۔ اللہ کا علم ذاتی ہے، نورِ محمدی کا علم عطا شدہ ہے۔ کہاں جا رہے ہیں ہم! ہمارے پاس دنیا کی چیزیں۔۔۔۔ ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے پاس آسمان سے وہ چیزیں ملی ہوئی ہیںکہ جن کی پوری زندگی تشریح کرتے جائیں، ہم نہیں پہنچیں گے۔ جب علم الٰہی نورِ محمدی میں سمو گیا تو اب اللہ تعالیٰ نے انہیں قدرت عطا کی اور پھر کیا فرمایا: انبئہم باسماءھم۔ اے آدم اب میرے اسماء جو میں نے تمہیں سکھائے ہیں، ان کو اس بارے میں توجہ دلاؤ۔ یعنی فرشتے کیا کہہ رہے تھے۔ جب امتحان ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے فرمایا: زمین پر اس کو بھیج رہے ہو جو فساد پھیلائے گا، خون بہائے گا؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: انی اعلم ما لاتعلمون۔ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اس کے بعد جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسماء بتا دئیے، دے دئیے، قدرت الٰہیہ دے دی گئی۔ شرک کی بات میں نے واضح کردیا کہ شرک کا کوئی concept نہیں پایا جاتا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کبھی جبرئیل کو کچھ کام دے دیتا ہے، کبھی میکائیل کو دے دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کبھی ملک الموت کو بھی بھیج دیتا ہے۔ تو کہیں کہ وہ بھی شرک ہوگیا ۔۔۔۔۔ نہیں۔ علم خدا ذاتی ہے اور علم نورِ محمدی عطا شدہ ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دیا۔ علم آیا۔ قدرت آیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب تم جاؤ۔ استاد بنو ان تمام انبیاء کے۔ اسی لئے رسول اکرم نے اس وقت ان اسماء کا ورد کرکے جب فرشتوں کو بتایا تو فرشتے وہاں تسلیم ہوگئے اور کہا اے اللہ! تو بہتر جانتا ہے۔ ہم بہتر نہیں سمجھتے ہیں۔ اور اس کے بعد رسول اکرم نے کیا فرمایا: انا و علی من نور واحد۔ میں اور علی ایک نور سے ہیں۔ یعنی اس نور میں وہ انوارِ مقدسہ موجود تھے جس کو اللہ تعالیٰ نے اسماء سکھائے اور اسماء کے ذریعے اپنی قدرت دی۔ یعنی وہ قدرت رسول اکرم اور رسول اکرم کے بعد مولائے کائنات، جناب زہرا اور ائمہ معصومین میں منتقل ہوئی۔ اور ضروری ہے کہ اس علم کا حامل شخص یا شخصیت یا ہستی ہر وقت زمین پر ہو ورنہ حدیث رسول اکرم ہے: لو لا الحجۃ لساخت الارض و ما علیہا۔ اگر اللہ کی حجت زمین پر نہ ہو تو زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب تباہ و برباد ہوجائے گا۔ سمجھانے کے لئے مثال دے دوں۔ یہ میرا بدن ہے۔ ایک میری روح ہے۔ یہ آپ کا بدن ہے۔ یہ آپ کی روح ہے۔ ہر انسان ایک بدن ہے، ایک روح ہے۔ اس کائنات کو بھی، اور میں جو بات بتا رہا ہوں آپ تعجب کریں گے اہل سنت کے کٹر علماء نے بھی بیان کیا ہے۔ ہم پتا ہے کیا کرتے ہیں؟ ہم منفی چیزیں لے لیتے ہیں۔ ارے اہل سنت کے ہاں بہت سی مضبوط چیزیں ہیں، اٹھا لو۔ کیسے ان تک پہنچیں، ہمیں نہیں معلوم ہے۔ اٹھا لو۔ کیا کہتے ہیں اہل سنت کے ایک بہت بڑے، اہل حدیث و سلفی کے بہت بڑے عالم ہیں، جن کا نام آلوسی تھا۔ مفسر بھی ہیں اور محدث بھی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کائنات کو اگر بدن سمجھتے ہو تو یہ اللہ کی حجتیں کائنات کی روح ہیں۔ اور جب اللہ ان ارواح کو زمین سے اٹھا لے گا، قیامت آجائے گی۔ آپ سمجھ رہے ہیں؟! کہاں یہ ہستیاں اور کہاں وہ؟! ہم آتے ہیں وہ کہتے ہیں خلافت چھینی گئی۔ سب کچھ حق ان کا تھا۔ کوئی دو بات ہی نہیں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صرف سیاسی خلافت نہیں تھی، وہ علم لدنی والی خلافت بھی موجود تھی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا میں زمین میں خلیفہ قرار دے رہا ہوں۔ اور یہ خلافت اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وہاں سے نیچے تک پہنچائی۔ اور وہ خلافت حضرت امام زمانہ علیہ السلام تک پہنچی۔ اب یہ کہنا کہ وہ جناب وہ فلاں تو یہ فلاں۔ کسی کا مولائے کائنات سے مقابلہ ہو نہیں سکتا۔ اور رسول اکرم سے نیچے مولائے کائنات کے علاوہ کوئی بھی ہستی نہیں ہے۔
شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم اس بات پر خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خانہ کعبہ میں بلا کر ولادت کا شرف بخشا تاکہ کائنات کو پتا چل جائے کہ یہ میرا ولی ہے اور اللہ کی حجت ہے زمین پر۔ ٹھیک ہے لوگ کہتے ہیں: یوں ہے، توں ہے۔ جو کرنا ہے کرو۔ مناظرہ کرو۔ بیٹھ کر بات کرو۔ دلیل لاؤ لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اور وہیں سے پتا چلتا کہ صرف امیرالمومنین ہی معرفت کے اونچے لیول پر نہیں تھے ان کی ماں اور والد بھی بہت اونچے لیول پر تھے۔ ورنہ اگر یہاں دیوار پر شق پڑے تو میں وہاں نظر آؤں گا۔ اگر ذرا سی دیوار میں کھڑ کھڑ ہو اور نظر آئے کہ دیوار ہل رہی ہے، اپنا تو کہہ سکتا ہوں، آپ کا مجھے نہیں پتا ہے۔ میں وہاں یا باہر کہیں نظر آؤں گا۔ لیکن یہ ابن ابی طالب کی ماں ہے۔ زوجہ ابو طالب علیہ السلام ہے۔ خانہ کعبہ کے دروازے پر نہیں جاتی ہیں، خانہ کعبہ کی پشت پر آتی ہیں۔ کس نے کہا پشت پر آجاؤ؟! دروازے پر چلی جاتیں۔ خاندان میں چابیاں تو موجود تھیں۔ دروازہ کھول لیتیں۔ نہیں! اگر دروازہ کھول کر اندر جاتیں تو پھر فضیلت نہ ہوتی۔ پھر لوگ جا کر باہر نکال دیتے۔ کہ اے ابوطالب کی زوجہ یہ تیرا مکان نہیں ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے دروازہ بنا دیا۔ اور اس دروازے کے ذریعے جو بھی ۔۔۔۔۔ نہیں معلوم کتنی دیوار کھلی اور کتنا وہ شق ہوا کہ والدہ مولائے کائنات اندر تشریف لے جاتی ہیں اور جو عرب باہر بیٹھے تھے خانہ کعبہ کے اردگرد۔ انہوں نے کہا کہ وہ سکون سے چلی گئیں۔ میں ایک جملہ اضافہ کرتا ہوں: اس لئے کہ ان کا گھر ہے ناں۔ اپنے گھر میں تو سب سکون سے جاتے ہیں، ورنہ۔۔۔۔ حاملہ عورت اللہ سے دعا کرنے آئی ہے: پالنے والے اس حمل کو آسان کردے۔ اس دعا کے قبول ہونے کا نتیجہ یہ ہے، دروازہ کھلتا ہے اور آپ اندر تشریف لے جاتی ہیں۔ تین دن تک اللہ کی اس بندی اور اللہ کے درمیان میں کیا ہوا ؟ ہم تو کچھ نہیں جانتے ہیں۔ اتنا جانتے ہیں کہ حضور اکرم نے چابی سے دروازہ کھولا۔ لوگ پریشان تھے۔ مشکلات میں تھے۔ باتیں ہو رہی تھیں: کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہو رہا ہے؟ سب پریشان تھے۔ لیکن اگر سکون تھا تو ابوطالب کے سینے میں۔ دوڑے دوڑے آتے کہ بھائی میرا بیوی کا کیا ہوا؟ وہ تو حاملہ تھیں۔ بچہ آنے والا تھا دنیا میں۔ اللہ تعالیٰ نے پوری طہارت کے ساتھ مولائے کائنات کو دنیا میں بھیجا اور رسول اکرم نے جب اپنے ہاتھ میں لیا تو ماں نے کہا: اے محمد ﷺ! جب سے یہ دنیا میں آئے ہیں۔ تب سے انہوں نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ حضور اکرم نے شاید یہ جملہ ادا کیا کیونکہ قطعی میرے پاس نہیں ہے کہ کیا کریں کہ جو بت سے نفرت کرتا ہو وہ آنکھ کھول کر سب سے پہلے بت کو نہیں دیکھے گا۔ اس لئے جب رسول اکرم کے ہاتھ میں تشریف لائے، مولائے کائنات نے کچھ جملے ادا کئے، کچھ آیات بیان کیں۔ اور رسول اکرم کا دیدار کرکے ایک مسکراہٹ دی۔ تاریخ اس بات کو لکھتی ہے۔ اب بغض علی میں لوگوں نے کیا کیا کیا۔ ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ جس کا نور رسول اکرم کے نور کے ساتھ ایک ہو۔۔۔! جس کے بارے میں رسول اکرم نے فرما دیا ہو: انا مدینۃ العلم و علی بابہا۔ جس کو علم کے شہر میں آنا ہے اسے علی کے دروازے سے آنا ہوگا۔ یہ ہستی ہے لا فتیٰ الا علی لا سیف الا ذوالفقار۔ میدان میں چلے جائیں تو رسول اکرم فرماتے ہیں۔ ۔۔ خیبر کے 39 دنوں میں قلعہ فتح نہ ہوسکا۔ مصلحت الٰہی کیا تھی، ہم نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن آخری رات میں فرمایا تھا ناں کہ: لاؤتین رأیتا غدا رجلا کرارا غیر فرار، یحبہ اللہ و رسولہ، و یحب اللہ و رسولہ۔ کہنے والوں نے کہا: پوری رات تڑپتے رہے۔ اچھی بات ہے، میں ہوتا تو میں بھی تڑپتا۔ پوچھا کس بات پر تڑپے؟ شام میں بات ہوئی۔ تم لوگ پوری رات تڑپتے رہے، وہ کون سی چیز تھی اس پورے جملے میں کہ پوری رات تڑپتے رہے کہ اللہ کرے کل صبح پرچم ہمیں مل جائے۔ کہا باقی جملے تو اپنی جگہ ہیں ہی۔ ایک تو یہ کہ رسول اکرم کے جملے گارنٹی تھے کہ کل خیبر کا قلعہ فتح ہوجائے گا۔ رسول پر اتنا ایمان!!! اور دوسری بات یہ تھی کہ ہم سب تو اللہ اور رسول سے محبت کرتے ہیں۔ وہاں پر رسول اکرم نے فرمایا: اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے۔ تم جس کو جو کہنا ہے کہہ دو۔ تم شام میں جتنی حدیثیں گھڑ لو۔ جس کو اللہ نے ولی بنا دیا: انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین آمنوا الذین یقیمون الصلوٰۃ و یؤتون الزکوٰۃ و ھم راکعون۔ اللہ تمہارا ولی ہے، اسی طرح سے رسول تمہارا ولی ہے، اسی طرح سے وہ مومنین جو کہ نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع میں جا کر زکات دیتے ہیں۔ رسول اکرم سے پوچھا گیا۔ میں نے کل مطالعہ کیا کہ تھوڑا اور دقیق ہوجاؤں۔ المیزان میں تقریباً پچیس تیس سند سے اس بات کو لکھا گیا ہے کہ رسول اکرم سے پوچھا گیا کہ یہ کون تھے کہ جنہوں نے رکوع میں اللہ کی خوشنودی کی خاطر زکات ادا کی۔ کہا: وہ علی ابن ابی طالب۔ تو جس طرح اللہ ولی، اسی طرح سے رسول ولی، اسی طرح سے امیرالمومنین ولی۔ اور ہم ان کو بالکل اسی لیول پر لے جاتے ہیں جس لیول پر اللہ نے بیان کیا ہے: اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم۔ اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو اور جن کو اولی الامر معین کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر غامدی سے میرا بہت اختلاف ہے۔ لیکن اس بات میں میں ان کی تعریف کروں گا کہ انہوں نے ہمارے نظام کو بیان کرکے کہا کہ جو امامت کا نظام ہے عقلی طور پر اور دلیل کے طور پر اس سے بہتر نظام انسان سوچ نہیں سکتا۔ مولائے کائنات کے چاہنے والو! تمہیں یہ ولایت مبارک ہو۔ تمہیں یہ ولادت مبارک ہو۔ تمہیں یہ مودت مبارک ہو۔ اور اس مبارکبادی کے ساتھ ساتھ کہتا رہوں کہ جو اس ولایت کے خلاف سازش کرے اگر میں اور آپ خاموش رہے تو اس مولا کو قیامت میں جواب نہیں دے سکیں گے جن کو رسول اکرم نے فرمایا: اے رسول قیامت کے دن میں، تم، تمہاری زوجہ، اور تمہارے دونوں بیٹے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے عرش الٰہی کے سائے میں ہوں گے۔ مولائے کائنات نے چہرہ نیچے کرلیا۔ رسول خدا نے فرمایا: علی! اتنی بڑی خوشخبری اور تم چہرہ نیچے کرکے بیٹھے ہو۔ یہ آپ ہیں جن کو یاد کیا۔ کہا یا رسول اللہ! ہمارے چاہنے والوں کا کیا ہوگا!!! ان کو پرواہ ہے، ہمیں پرواہ ہے؟؟؟؟ ہمارے چاہنے والوں کا کیا ہوگا۔ رسول اکرم نے فرمایا: علی! جو تیرا چاہنے والا ہوگا، تیرے ساتھ ہوگا۔ ثابت کریں کہ چاہنے والے ہیں۔ زبان سے تو بہت کچھ کہتے ہیں۔ ثابت کریں محبت ہے۔ عمل سے ثابت کریں۔ کردار سے ثابت کریں۔ بتائیں کہ علی کا چاہنے والا کتنا خوبصورت اخلاق رکھتا ہے، کتنا خوبصورت کردار رکھتا ہے۔ کسی کا مال نہیں کھاتا۔ کسی کی آبرو نہیں لوٹتا۔ کسی کو ذلیل نہیں کرتا بلکہ علی کا پیغام پیار سے پہنچاتا ہے۔ بس میں نے اپنی بات آپ کو پہنچا دی۔ اب اس کو غلو کہا جائے، کچھ کہا جائے۔ میں بالکل واضح طور پر بیان کرچکا ہوں کہ بارہ کے بارہ امام رسول اکرم کے علم کے حامل، طاقت کے حامل، اور قدرت الٰہیہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہے۔ اور اسی قدرت سے یہ نظام چلتا ہے۔ اسی لئے ہم کبھی کہتے ہیں: مولا دے دیجئے۔ کبھی کہتے ہیں: امام رضا دے دیجئے۔ کبھی کہتے ہیں: امام حسین دے دیجئے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ قدرتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ اور اس میں قطعاً کوئی دو بات نہیں کہ آپ امام حسین علیہ السلام سے مانگیں، امام حسن علیہ السلام سے مانگیں، بارہ امام سے مانگیں، جناب زہرا سے مانگیں، رسول اکرم سے مانگیں، ان سب کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے، جس کو جو چاہیں بخش دیں۔
انہوں نے کہا کہ تقویٰ اختیار کیجئے اس لئے کہ آپ کے مولا نے سفارش کی ہے ۔ اللہ کی پرواہ کیجئے۔ اللہ کا احترام کیجئے۔ گناہوں سے بچئیے۔ عبادتوں کی لذتیں حاصل کیجئے۔ ماہ رجب، ماہِ شعبان بہترین موقع ہے، نوافل پڑھئیے۔ قرآن مجید کی تلاوت کیجئے۔ روزے رکھئے۔ دعائیں پڑھئیے۔ اللہ سے اپنا رابطہ مضبوط کرلیں۔ اس لئے کہ جس نے اپنا رابطہ اللہ سے مضبوط کرلیا اس کو سب کچھ مل گیا۔ امام حسین علیہ السلام یہی فرماتے ہیں: اے اللہ ۔۔۔۔ دعائے عرفہ میں۔۔۔۔ اے اللہ جس نے تجھے پالیا اس نے کیا کھویا۔ اور جس نے تجھے کھو دیا اس نے کیا پایا۔ تو جب ہمیں اللہ مل ہی گیا ہے تو اب ہم کھو نہ دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومت کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے محنت کی اور ایف اے ٹی ایف کو بہت بہتر انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ اور انڈیا کی جو سازش تھی اس کو ناکام بنایا ہے۔ اور اس سے عزت تو بڑھی ہی بڑھی ہے، اقتصاد پر بھی اچھے اثرات پڑیں گے۔ حتی کہ جو پریزیڈنٹ تھا اس نے بھی بڑی تعریف کی ہے، اخباروں میں موجود ہے۔ اور ان شاء اللہ اگر تین اور پوائنٹس ہیں، عمل مشکل ہے۔ اس لئے کہ سیاست میں پرابلم کیا ہوتی ہے کہ جہاں کچھ کام کرنے جاتے ہیں وہاں پر کوئی نہ کوئی ایک پاور آجاتی ہے اور اس کام کو روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ میں حکومت سے کہوں گا کہ ہمت کریں۔ اور ہمت کرکے ان تین کاموں کو بھی کردیں۔ ٹھیک ہے بڑے بڑوں کو جھٹکا پہنچے گا، لیکن اس کا فائدہ عوام کو ہوجائے گا۔ اطمینان ہے مجھے کہ اگر ایف اے ٹی ایف میں ہم گرے لسٹ (greylist) سے نارمل اس میں آجائیں گے تو ہمارے ڈالرز کی قیمت بھی بہت نیچے آجائے گا، روپیہ بھی سٹرانگ (strong) ہوجاگے گا اور ہماری اکانومی بھی بہتر ہوجائے گی۔ ہم دعا کرتے ہیں پالنے والے ہمیں جلد از جلد ایف اے ٹی ایف کی لسٹ سے باعزت طور پر بری کردے۔
علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں اس وقت کہ انڈیا الگ الگ طریقوں سے پاکستان کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کل وہ ایک سیزفائر لائن کو کنٹریک پھر سے سائن ہوا، باتیں ہوئیں، خوشی کی باتیں ہیں، لیکن یاد رکھئے گا شیطان شیطان ہوتا ہے۔ وہ ایک طرف سے آپ کو خوش کر رہا ہوتا اور دوسری طرف سے آپ کو ٹانٹ (taunt) کر رہا ہوتا ہے۔ میں ذمہ داروں سے کہتا ہوں یہ جو ایف اے ٹی ایف میں انڈیا نے کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت دی، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ اور اللہ سے مدد مانگیں کہ ہندوستان کی سازشیں افغانستان کی طرف سے داخل ہو رہی ہیں۔۔۔۔۔ ہمارے بہت سے فوجی جوان مارے جا رہے ہیں۔ آپ دیکھئے۔ جس اے پی ایس والے کو آزاد کیا تھا اس کی بات بھی ہم نے بہت عرصہ پہلے کی تھی۔ کل کے اخباروں میں پڑھ لیجئے کہ کیا آیا تھا، کہ جناب ان فوجیوں کو سزا دی گئی جنہوں نے اس کو آزاد کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے تھوڑا تھوڑا ہمیں بھی معرفت کا دروازہ کھول کر دیا ہے کہ بول دیا کرو چیزیں۔ ہم حکومت سے، چیف جسٹس سے، فوج کے سربراہ سے کہتے ہیں: عوام جو ہے آپ کی مخلص ہے۔ آپ اگر عوامی طاقت کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو تنگ نہیں کرسکتی۔ لیکن عوام بجلی کے پریشر میں، عوام گندم کے پریشر میں، عوام بچوں کی فیس۔۔۔۔ یعنی اس وقت اگر صبح سے شام تک میرے پاس فون آتے ہیں، مثلاً پچاس فون اگر میرے پاس آتے ہیں میرے دو فون نمبرز پر تو پچیس سے تیس فون یہی ہوتے ہیں کہ فیس نہیں ہے، بجلی کے بل نہیں ہیں، کرایہ نہیں دے سکتے ہیں۔ اگر یہ فائدے جو پاکستان کو ہو رہے ہیں، اگر یہ عوام تک پہنچا دئیے جائیں تو اس عوام کے دل سے دعا نکلے گی۔ عوام کے دل بہت سادہ ہوتے ہیں۔ عوام کو یہ نہیں ہوتا ہے کہ جناب ہمیں وہ مل جائے جو انہیں ملا ہوا ہے۔ آپ کی پراڈو آپ کو مبارک ہو۔ آپ کی لینڈ کروز۔۔۔۔ چار کروڑ کی آتی ہے۔۔۔۔ آپ کو مبارک ہو۔ ایک صاحب امپورٹ کر رہے تھے۔ میں نے کہا کیا پرائس ہیں؟ میں نے کہا شاید کچھ ہماری رینج میں آجائے۔ کہا مولانا ویسے تو کچھ زیادہ مہنگی نہیں، ایک لینڈ کروزر تقریباً چار کروڑ کی ہے لیٹسٹ (latest)۔ تم کو مبارک۔ ہمیں ہمارا اپنا حصہ دے دو تاکہ ہم سکون سے اپنے بچوں کی تربیت کریں اور آگے بڑھ جائیں۔ تمہاری لینڈ کروزر، تمہاری پراڈو، تمہاری فلاں تمہیں مبارک ہو۔ تم جانو، تمہارا اللہ جانے، تمہیں حساب دینا ہے۔ میں آپ کے توسل سے عوام سے عرض کروں گا، ان تین دنوں (۱۳، ۱۴، ۱۵ رجب) میں روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔ پندرہ رجب کو ظہرین سے لے کر مغربین تک عمل اُمّ داؤد ہے جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب ہے۔ پھر ۲۲ ؍ رجب کی نیاز بھی آرہی ہے۔ میں عر ض کرتا ہوں۔ نیاز کریں۔ مومن کو کھلانا تو ویسے بھی ثواب ہے۔ چاہے وہ ۲۲ ؍ رجب ہو۔ میں کہتا ہوں ایک ہی دن میں اتنی زیادہ نیاز کرنے کی بجائے ہم پورے رجب پر تقسیم کرلیں تاکہ پورا مہینہ نیاز بھی کھاتے جائیں اور دشمنانِ اہل بیت پر لعنت بھی کرتے جائیں۔ اور اگر حوصلہ ہمت ہے تو پندرہ شعبان تک کھینچ جائیں۔ کیونکہ وہ بھی تو ایک مبارک دن ہے۔ اس کو بڑھائیں۔ آگے بڑھائیں۔ کیونکہ خوشیاں جو ہوتی ہیں ان کو جتنا بڑھایا جائے گا ، اتنی برکتیں ہوں گی۔ جیسے غم ہم دو مہینے آٹھ دن کربلا مناتے ہیں۔ ویسے تو عاشورا کو ختم ہوگیا۔ نہیں، اس کے بعد شام کا سارا واقعہ، پھر جناب زینب کی فتح اور پھر اسیروں کا ۔۔۔۔۔ ہم جیسے غم میں چیزوں کو آگے بڑھاتے ہیں اسی طرح خوشیوں کو آگے بڑھائیں۔ ۲۲ ؍ رجب کی یاد پہلی رجب سے شروع ہو اور ۱۵؍ شعبان تک ہو تو کیا حرج ہے۔ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں، نہیں مولانا۔ بس وہ ۲۲ ہے تو ۲۲ ہی ہے۔ امام آپ کی پہلی نیاز بھی قبول کریں گے۔ ۲۲ کی بھی کریں گے، ۳؍ شعبان، ۴؍شعبان، ۱۵؍ شعبان کی بھی کریں گے۔ خدارا خوشیاں منائیے۔ اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کیجئے اور کسی کی دل آزاری مت کیجئے گا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ پالنے والے تجھے محمد و آل محمد کا واسطہ ہماری دعاؤں کو قبول فرما، پریشانیوں کو دور فرما، بیماروں کو شفائے کامل عطا فرما، بے گناہ اسیروں کو آزاد فرما۔ ہمارے پیارے ملک پاکستان کو واقعاً صحیح معنی میں اسلامی مملکت بننے میں مدد فرمادے۔ اس کے خلاف ہونے والی سازشوں کو نابود فرما دے۔ پالنے والے تو دنیا میں اس وقت جو ایک ایسی تبدیلی لا رہا ہے جو اہل بیت کے چاہنے والوں کے لئے بہت مفید ہے، پالنے والے اس تبدیلی کو جلد از جلد نتیجہ تک پہنچا دے۔ پالنے والے ہماری بہت سی حاجتیں ہیں، بہت سی دعائیں ہیں، تیرے سامنے سجدہ کرکے تیرے سامنے عاجزی سے بیٹھ کر دعا کرتے ہیں، تو دلوں کے حالوں کو جانتا ہے، پالنے والے ان دعاؤں کو حاجتوں کو روا فرما۔ تکلیفوں پریشانیوں کو دور فرما۔ تیری اطاعت کی لذت عطا فرما۔ اہل بیت کی محبت کو اور زیادہ فرمادے۔ نسلوںکی اصلاح فرمادے۔ زمانے کے امام کو ہم سے راضی فرما۔ ان کے ظہور میں تعجیل فرما۔
ّ












