زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
صدر وفاق المدارس الشیعہ کا خطاب میں کہنا تھا کہ روح اور جسم کیلئے مفید ہر چیز کو رسول اللہ نے واجب یا مستحب قرار دیا ہے، جشن عید میلادالنبی کیساتھ دیگر معصومین کی ولادت کے دن بھی جوش و خروش سے منانے چائیں، امام حسین کی عصمت و طہارت پر قرآن مجید شاہد ہے۔
ایس یو سی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ استحکام پاکستان کنونشن میں عوام کارکنان بھرپور انداز میں شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ پاکستان میں مکتب اہلبیت کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف ایک توانا پیغام پہنچایا جائے۔
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنما نے کہا کہ امام حسینؑ وہ الہٰی شخصیت ہیں جنہوں نے جرات و ہمت، شجاعت و بہادری اور ایثار و قربانی کو معراج عطا کی، غیرت، شجاعت، ایثار، قربانی، وفا، دیانت اور ظلم کے مقابلے میں قیام سمیت دیگر انسانی اوصاف مرچکے ہوتے اگر امام حسینؑ کربلا میں قیام نہ کرتے۔
درگاہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے احاطے میں منعقدہ پروگرام صبح 10 بجے شروع ہوگا، جس میں پاکستان بھر سے علماء و کارکنان شریک ہونگے۔ اس موقع پر خصوصی خطاب قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کریں گے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ نابلوس پر اسرائیلی حملہ،10فلسطینیوں کی شہادت کھلی جارحیت ہے ،اسرائیلی فوج کی جانب سے نابلوس کے شہر پر دھاوا اور10فلسطینیوں کی شہادتوں اور درجنوں شہریوں کے زخمی ہونے پر عالمی اداوں کی خاموشی افسوس ناک ہے
اسلامی جمہوریہ جب قائم ہوتی ہے تو اپنے ساتھ جمہوریت بھی لاتی ہے، آزادی بھی لاتی ہے اور دین کو بھی ساتھ رکھتی ہے اور دنیا پر تسلط قائم کرنے کے لبرل ڈیموکریسی کے عمائدین کے عزائم کو ناکام بنا دیتی ہے۔
ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل پاکستان مرحوم ثاقــــب اکبــــر کی نماز جنازہ بزرگ عالم دین شیخ محســـــن نجفی حفظہ اللہ کی اقتداء میں ادا کر دی گئی۔
وفد میں علامہ سید عبدالحسین الحسینی، علامہ خورشید انور جوادی، علامہ حمید امامی اور علامہ شیر افضل شامل تھے۔ ملاقات کے دوران ملکی حالات سمیت قومی و ملی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مدرسہ امام المنتظر قم میں استاد محترم غضنفر فائزی نے درس اخلاق دیتے ہو کہا کہ جتنی بھی عبادات ہیں سب عمل صالح شمار ہوتے ہیں لیکن ہر ایک کا مقام و محل ہے ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو انجام دینا درست نہیں ہے یعنی نماز پڑھ لی تو روزہ نہیں رکھا تو کافی نہیں ہے بلکہ آیت مذکورہ میں ”الصالحات“ کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ جس پر الف لام عموم کا فائدہ دے رہی ہے۔۔