دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
ناظم امتحانات کی طرف سے جاری کردہ ڈیٹ شیٹ کے مطابق روزانہ دو پرچے ہوں گے۔ پہلا پرچہ صبح 9 بجے سے 12 بجے دوپہر ،جبکہ دوسرا پرچہ 2بجے سے شام 5 بجے تک ہوگا۔
مرکز فقہی ائمہ اطہار کے سربراہ نے کہا: ولایت و امامت دین کی اساس و بنیاد ہے اور انقلاب اسلامی کا ہدف دین کا اجراء ہے۔
اس متقی اور پرہیز گار عالم نے طویل عرصہ تدریس کی مسند نیز اخلاص و صفا کے مقام پر بیٹھ کر حوزه علمیه کی خدمت کی اور تقویٰ اور طہارت کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
امام نے حکمرانوں کے ظلم و ستم اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے اپنے نائبین و مخلصین کے ذریعہ پیغام حق و صداقت عوام تک پہنچایا
تقریب میں شریک تمام اکابرین اور خصوصا میڈیا نے فروغ امن کے حوالے سے عملی کردار ادا کیا جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔اس موقع پرسابق تحصیل ناظم پروا سردار امتیاز بلوچ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کی خصوصی دعا کی گئی
دفاع مقدس کے سرگرم کارکنوں سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ہمہ گير بھرپور دفاع کی وجہ سے ملک بڑی حد تک ممکنہ فوجی حملوں سے محفوظ ہوگيا ہے اور جیسا کہ ہم نے دیکھا بارہا کہا گيا کہ فوجی آپشن میز پر ہے لیکن وہ آپشن میز سے ہل بھی نہیں پایا کیونکہ دشمن، جنگ میں ایرانی قوم کو پہچان چکے تھے اور جانتے تھے کہ وہ کسی حرکت کی شروعات تو کرسکتے ہیں لیکن اسے ختم ایرانی قوم ہی کرے گی۔
آج کے زمانے میں طرح طرح کے سوالات حوزہ علمیہ کے پاس آتے ہیں، ان کا مدلل اور زمانے کے اعتبار سے جواب دینا ضروری ہے، حوزہ علمیہ علمیہ میں ضروری ہے کہ ایک ایسے گروہ کی تشکیل دی جائے جو سوالات کے جواب دیں
بنو عباس کی ملوکیت کے مقابلے میں تشیع نے یہ ثابت کیا کہ ہم ظلم و جبر، قید و بند اور طاقت و تلوار سے شکست کھانے والے نہیں
میرا عقیدہ ہے کہ اگر ہم اپنی نئی نسل کو دفاع مقدس مختلف زاویوں کو اچھی طرح بیان کرسکیں کہ کس طرح ایرانی قوم نے اس اہم واقعے میں کامیابی حاصل کی تو بہت بڑا درس ملے گا۔