رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک، سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں، دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے،
عراق کے وزیر اعظم جناب محمد شیاع السودانی نے منگل کی شام رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے زور دے کر کہا کہ عراق کی ترقی و پیشرفت اور اس کا اپنی حقیقی بلندی پر پہنچنا، اسلامی جمہوریہ کے مفاد میں ہے
علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ فلسفہ یونان سے عرب دنیا میں منتقل ہوا ، مسلمانوں میں بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوئے،ہمارے زمانہ طالب علمی میں فلسفہ نصابی کتب میں شامل تھا جسے پڑھایاگیا۔فلسفہ کے پیدا کردہ مسائل اور اٹھنے والے سوالات کےلئے علم الکلام ایجاد ہوا ، مسلمان متقلمین نے زبردست کام کیا جو آج تک جاری ہے ۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی ہدایات میں ایک اور جگہ اس بات پر زور دیا کہ سمندروں کے مواقع اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ملک میں ایک عمومی ثقافت بن جانا چاہیے۔
پاکستان میں علماء کرام کی محنتوں کی بدولت شیعہ مدارس کا جال پھیلایا جا چکا ہے، یہ ہماری ملی قوت اور عظمت ہے
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی تقریر کے ایک حصے میں مغربی ایشیا کے خطے پر یورپ اور امریکا کی خاص توجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دو عالمی جنگوں کے بعد مغربی سامراج، پہلے یورپ اور پھر امریکا نے اس علاقے کے سلسلے میں ایک خاص رخ اختیار کیا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ اسلام آفاقی مذہب کے ساتھ مکمل ضابطہ حیات ہے،جس نے تمام شعبوں میں انسانی معاشروں اور انسانیت کی فلاح کی رہنمائی فرمائی ہے ، جنگ ہو یا امن ، ہجرت ہو یا قیام ، تمام صورتوں میں رہنما اصول ایسے وضع کئے جورہتی دنیا تک مثال رہیں گے۔
اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ سیدالعلماایک عظیم مفکر اور دانشور تھے جس کا مشاہدہ ہم نے یونیورسٹی میں زمانۂ طالب علمی میں کیا ہے۔
ملک کے تمام مسائل کاحل باہمی مشاورت اور آئین کی بالادستی و قانون کی حکمرانی میں ہے کیونکہ اسی کے ساتھ ملک و معاشرہ ترقی کرے گا۔
علام ساجد نقوی نے شہدائے عظمت اسلام کانفرنس کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی