رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک، سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں، دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے،
دہشت گردی کے واقعات میں فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے ساتھ عوام نے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ملک و قوم کی حفاظت کے لئے متعین سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ قابل مذمت ہے۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
آج صبح صوبہ اصفہان کے عوام کے ایک گروپ نے تہران کے حسینیہ امام خمینی ﴿رہ﴾ میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
جو شخص صابر و شاکر رہتا ہے جب مرتا ہے تو وہ شہید ہے۔ اور جو شہید ہوتا ہے اس کو حق شفاعت حاصل ہوتی ہے۔
آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی تقریر کے ایک دوسرے حصے میں شہادت کو خدا سے سودا اور قومی مصلحتوں کی تکمیل بتایا۔ انھوں نے کہا: شہادت، جہاں خداوند عالم سے سودا ہے وہیں اس سے قومی مصلحتوں کی تکمیل بھی ہوتی ہے۔ اللہ کی راہ میں شہادت، قومی مصلحتوں اور قوم کے مفادات کی تکمیل کرتی ہے۔
خیبر پختونخواہ کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردوں کی جانب سے پولیس موبائل پر حملہ کرکے پولیس جوانوں کو شہید کرنا دہشت گردی کی بدترین کاروائی ہے
آیت اللہ رئیسی نے وینزویلا کے نائب صدر سے ملاقات میں کہا کہ امریکہ سوچ رہا تھا کہ دھمکیوں اور پابندیوں سے دیگر اقوام کو روک سکتا ہے تاہم ہم نے ثابت کیا کہ مغرب کی زیادتیوں اور تسلط پسندی سے نمٹنے کا واحد راستہ مقاومت ہے۔
امام علی علیہ السلام کی طرز حکومت پر اعتراض کرتے تھے کہ آپ(ع) کے یار اور اصحاب آپ(ع) سے الگ ہو کر معاویہ سے جا ملتے تھے جبکہ اگر امام علی علیہ السلام سیاست دان ہوتے، ان اصحاب کو روک لیتے.
امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں اولین تقاضا رواداری ہے، پاکستان میں 70سالوں سے طرز حکمرانی بیانیہ کے برعکس رہا،عالمی یوم پر پیغام
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے وزیراعظم شہباز شریف کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی۔