مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
انہوں نے مزید کہاکہ کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا ، سب کچھ بدل گیا، مگر آج بھی فلسطینی ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں اور نام نہاد عالمی منصفوں کی دوغلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیںمگر عالمی ادارے انسانی حقوق کے نام پر اپنے مفادات کی خاطر اقدامات کرتے ہیں مگر جن مظلوم خطوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہاں ظالموں ، آمروں اور جابروں کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔
آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام لوگوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار
عراق کے وزیر اعظم جناب محمد شیاع السودانی نے منگل کی شام رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے زور دے کر کہا کہ عراق کی ترقی و پیشرفت اور اس کا اپنی حقیقی بلندی پر پہنچنا، اسلامی جمہوریہ کے مفاد میں ہے
علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ فلسفہ یونان سے عرب دنیا میں منتقل ہوا ، مسلمانوں میں بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوئے،ہمارے زمانہ طالب علمی میں فلسفہ نصابی کتب میں شامل تھا جسے پڑھایاگیا۔فلسفہ کے پیدا کردہ مسائل اور اٹھنے والے سوالات کےلئے علم الکلام ایجاد ہوا ، مسلمان متقلمین نے زبردست کام کیا جو آج تک جاری ہے ۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی ہدایات میں ایک اور جگہ اس بات پر زور دیا کہ سمندروں کے مواقع اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ملک میں ایک عمومی ثقافت بن جانا چاہیے۔
پاکستان میں علماء کرام کی محنتوں کی بدولت شیعہ مدارس کا جال پھیلایا جا چکا ہے، یہ ہماری ملی قوت اور عظمت ہے
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی تقریر کے ایک حصے میں مغربی ایشیا کے خطے پر یورپ اور امریکا کی خاص توجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دو عالمی جنگوں کے بعد مغربی سامراج، پہلے یورپ اور پھر امریکا نے اس علاقے کے سلسلے میں ایک خاص رخ اختیار کیا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ اسلام آفاقی مذہب کے ساتھ مکمل ضابطہ حیات ہے،جس نے تمام شعبوں میں انسانی معاشروں اور انسانیت کی فلاح کی رہنمائی فرمائی ہے ، جنگ ہو یا امن ، ہجرت ہو یا قیام ، تمام صورتوں میں رہنما اصول ایسے وضع کئے جورہتی دنیا تک مثال رہیں گے۔
اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ سیدالعلماایک عظیم مفکر اور دانشور تھے جس کا مشاہدہ ہم نے یونیورسٹی میں زمانۂ طالب علمی میں کیا ہے۔