رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک، سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں، دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے،
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کر کے پرہیزگار عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین عباس علی اختری کے انتقال پر تعزیت پیش کی ہے۔
وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی نے عالمی سامراج سے مقابلے کے قومی دن 13 آبان مطابق 4 نومبر کی مناسبت […]
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں خصوصاً پیشہ وارانہ امور انجام دینے والے رپورٹرز،میڈیا ورکرز کےلئے جس اہم ترین قانون سازی کی ضرورت ہے افسوس آج تک اس پر عملی طور پر اقدام نہیں اٹھایاگیا، صحافتی تنظیموں کےساتھ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اس جانب سنجیدگی سے غور کرکے اقدامات اٹھائے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری علامہ ناظر تقوی نے قم میں “وفاق ٹائمز” آفس کا دورہ کیا ہے۔
ملاقات میں ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور زہراء اکیڈمی پاکستان کی جانب سے سیلاب زدگان کی امداد سمیت ملک بھر میں عوامی خدمات کو سراہا اور مذید توفیقات میں اضافے کی دعا فرمائی۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی جانب سے الحاق پاکستان کا اعلان تقسیم برصغیر کے موقف کی تائید تھی۔ جس نے پاکستان کے موقف کو تقویت دی۔ لہذا ضروری ہے کہ ملکی و بین الاقوامی تناظر میں خطہ کے عوام کی خواہشات کو مد نظر رکھا جائے ۔
پاکستانی دینی مدارس کا ترجمان “15 روزہ وفاق ٹائمز” پی ڈی ایف فائل کی صورت میں شائع کردی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے زیر سایہاس نمائندہ دفتر کی جانب سےعلماء کرام کی کاوشوں سے ایران میں مقیم پاکستانیوں، طلبہ اور زائرین کے ایسے مسائل جن کو انفرادی طور پر حل کرنا ناممکن یا ان پر ہزاروں روپے خرچ ہوتے ہیں بلا معاوضہ اور دفتر اپنے طور پر حل کرنے میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات اور سمگلنگ دونوں ایسے عوامل ہیں جو نہ صرف آپس میں باہم ملے ہوئے بلکہ اس کے معاشرے پر براہ راست مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں اور یہ دونوں گھناؤنے جرائم اس وقت انڈر ورلڈ کے نام سے ایک بزنس کی سی حیثیت اختیار نہ صرف کرچکے ہیں بلکہ اس نے براہ راست ریاستوں، عوام پر اس کے برے اثرات چھوڑے ہیں، مہنگائی، چھوٹے کاروباری افراد کو جہاں دیگر عوامل کے باعث مسائل ہیں وہیں سمگلنگ کے باعث بھی کئی چھوٹے بزنس مینوں کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا۔