ایرانی وزیر خارجہ کی دہلی میں برکس اجلاس میں شرکت، 6 ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات
























إِذَا أَقْبَلَتِ الدُّنْيَا عَلَى أَحَدٍ، أَعَارَتْهُ مَحَاسِنَ غَيْرِهِ، وَ إِذَا أَدْبَرَتْ عَنْهُ، سَلَبَتْهُ مَحَاسِنَ نَفْسِه
مولائے متقین اپنے اس کلام میں ایک ایسے معاشرے کی عمومی صفت کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں جس کی روح ابھی تک اسلامی نہیں ہوئی۔ جس معاشرے کی اکثریت قرآنی تعلیمات اور اسلامی طرز معاشرت کو نہ اپنا چکی ہو تو یقینا ایسے معاشرے میں ایسی ہی طرز فکر پروان چڑھتی ہے۔ زندگی کے معیارات اور اصول بھی اپنا خودساختہ اپناتے ہیں۔ انہی خودساختہ اصولوں میں سے ایک کو مذکورہ کلام میں امام نے بیان فرمایا ہے کہ انسان کی تعریف اور مذمت کا معیار لوگوں کے پاس مال دنیا اور قدرت و نامداری ہے۔ اور مذمت کا معیار بھی فقر و تنگدستی اور گمنامی۔