إِذَا أَقْبَلَتِ الدُّنْيَا عَلَى أَحَدٍ

12مارس
جب دنیا کسی سے رخ موڑ لے تو، اس کی اپنی خوبیان بھی اس سے چھین لیتی ہے، حضرت علی علیہ السلام

جب دنیا کسی سے رخ موڑ لے تو، اس کی اپنی خوبیان بھی اس سے چھین لیتی ہے، حضرت علی علیہ السلام

إِذَا أَقْبَلَتِ الدُّنْيَا عَلَى أَحَدٍ، أَعَارَتْهُ مَحَاسِنَ غَيْرِهِ، وَ إِذَا أَدْبَرَتْ عَنْهُ، سَلَبَتْهُ مَحَاسِنَ نَفْسِه

27فوریه
نہج البلاغہ صدائے عدالت سیریل 9

نہج البلاغہ صدائے عدالت سیریل 9

مولائے متقین اپنے اس کلام میں ایک ایسے معاشرے کی عمومی صفت کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں جس کی روح ابھی تک اسلامی نہیں ہوئی۔ جس معاشرے کی اکثریت قرآنی تعلیمات اور اسلامی طرز معاشرت کو نہ اپنا چکی ہو تو یقینا ایسے معاشرے میں ایسی ہی طرز فکر پروان چڑھتی ہے۔ زندگی کے معیارات اور اصول بھی اپنا خودساختہ اپناتے ہیں۔ انہی خودساختہ اصولوں میں سے ایک کو مذکورہ کلام میں امام نے بیان فرمایا ہے کہ انسان کی تعریف اور مذمت کا معیار لوگوں کے پاس مال دنیا اور قدرت و نامداری ہے۔ اور مذمت کا معیار بھی فقر و تنگدستی اور گمنامی۔