نہج البلاغہ صدائے عدالت

27فوریه
نہج البلاغہ صدائے عدالت سیریل 9

نہج البلاغہ صدائے عدالت سیریل 9

مولائے متقین اپنے اس کلام میں ایک ایسے معاشرے کی عمومی صفت کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں جس کی روح ابھی تک اسلامی نہیں ہوئی۔ جس معاشرے کی اکثریت قرآنی تعلیمات اور اسلامی طرز معاشرت کو نہ اپنا چکی ہو تو یقینا ایسے معاشرے میں ایسی ہی طرز فکر پروان چڑھتی ہے۔ زندگی کے معیارات اور اصول بھی اپنا خودساختہ اپناتے ہیں۔ انہی خودساختہ اصولوں میں سے ایک کو مذکورہ کلام میں امام نے بیان فرمایا ہے کہ انسان کی تعریف اور مذمت کا معیار لوگوں کے پاس مال دنیا اور قدرت و نامداری ہے۔ اور مذمت کا معیار بھی فقر و تنگدستی اور گمنامی۔

08فوریه
نہج البلاغہ صدائے عدالت 4

نہج البلاغہ صدائے عدالت 4

مولا امیر المؤمنین علی علیہ السلام اپنے اس کلام میں کچھ اخلاقی اور نفسیاتی اچھائیوں اور کچھ برائیوں کو بیان فرما رہے ہیں۔

02فوریه
نہج البلاغہ صدائے عدالت 3

نہج البلاغہ صدائے عدالت 3

کنجوسی ننگ و عار ہے، اور بزدلی عیب ہے، اور غربت و تنگدستی زیرک انسان کو اپنی دلیل کے بیان سے عاجز بنا دیتی ہے، اور غریب و مفلس اپنے ہی شہر میں غریب الوطن ہوتا ہے۔

29ژانویه
نہج البلاغہ صدائے عدالت، قسط 2

نہج البلاغہ صدائے عدالت، قسط 2

اور سوچ سمجھ کر بولنا عقل کے کمال کی علامت ہے۔ مولا ایک جگہ فرماتے ہیں:  "جب عقل کامل ہوتی ہے تو باتیں کم ہوجاتی ہیں۔