ایرانی وزیر خارجہ کی دہلی میں برکس اجلاس میں شرکت، 6 ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات
























موریس سائین کی تنقید یہودیت کے خلاف نہیں تھی اور اس نے کسی بھی طرح سے یہودی مذہب کی توہین نہیں کی تھی، لیکن صرف یہودیت کا حوالہ دینا ہی اس کے لیے کافی تھا، لیکن اس پر مذہب سے دشمنی کا الزام لگا کر اسے عدالتی حکام کے حوالے کرکے نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ اس وقت چارلی ہیبڈو میگزین نے اپنے ملازم کا دفاع نہیں کیا اور "آزادی اظہار" کے جھوٹ سے اپنے کام کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔