شعبۂ دینیاتِ شیعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں “کربلا؛ انسانیت اور اخلاقی تعلیمات کی درگاہ” کے عنوان سے علمی مذاکرہ منعقد
























انکا مزید کہنا تھا کہ یہ جو ship اٹکائی گئی تھی سوئس کینال میں یہ اسرائیل اور انڈیا کی ملی بھگت تھی۔ اس سے مصر کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوتا تھا۔ اور اسرائیل چاہتا ہے کہ ایک اور کینال وہ اپنی طرف کھود دے تاکہ یہاں کا فائدہ اپنی طرف لے جائے۔ اب دیکھیں کہ یہاں شپ پھنسی ہے اور وہاں انہوں نے اعلان کردیا کہ ہم ایک اور ٹنل بنانے جا رہے ہیں۔ دنیا بے وقوف نہیں ہے۔ اسرائیل دس سال سے اس کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔