تحریر: ڈاکٹر یعقوب بشوی
ایک انتہائی اہم حدیث میں انسان کی بدبختی،ناکامی اور ہلاکت کی اصل وجه بیان کرتے ہوئے حضرت امام حسن مجتبی علیه السلام فرماتے ہیں: “هَلاكُ الناسِ فیثلاثٍ: اَلكِبرُ و الحِرصُ وَ الحَسَد”، (محمد باقر مجلسی،بحارالانوار، ج 78، ص 111)؛
لوگ تین چیزوں کی وجہ سے ہلاک ہوگئے!تکبر،لالچ اور حسد!
تکبر ایک خطرناک روحی اور روانی بیماری ہے یہ بیماری انسان کو اپنے خالق کے مدمقابل کھڑا کردیتی ہے اور انسان کو خالق اور مخلوق دونوں کی نگاہوں سے گرا دیتی ہے اور الھی صفات کے حامل اس انسان کو ابلیسی صفات کا مالک بنا دیتی ہے اسی وجه سے تکبر گناه کبیره ہے شریعت نے اسے بچنے کی سفارش کی ہے قرآن کریم میں بھی متعدد بار اس کا ذکر آیا ہے۔
دوسری خطرناک بیماری جس کی طرف اس حدیث میں اشاره ہوا ہے وہ لالچ ہے۔ کتنے لوگ مارے گئےاور کتنے گھر ویران ہوئے ،کتنے عزت دار لوگ، ذلیل اور کتنی قومیں مٹ چکی ہیں فقط اور فقط ایک قلیل تعداد کی نفسانی پیاس بجھانے اور نفس اماره کی تسکین کےلئے!
لالچ کی بھی مختلف قسمیں ہیں اقتدار کی لالچ،منصب کی لالچ،مال و دولت کی لالچ وغیره. غرض اس صفت نے ہر ایک انسان کو کسی نہ کسی طرح سے جکڑ کر رکھ دیا ہے اور اج انسانیت فریاد اور غم کی تصویر بنی ہوئی بے بس ہے اور دنیا میں ایک ختم نہ ہونے والا ظلم کا سلسلہ اسی صفت کی لجام گسیختگی اور طغیانی کا نتیجہ ہے اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید اشاره فرمارہا ہے:” إِنَّ الْإِنْسانَ لَيَطْغى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنى”(سوره مبارکه علق،آیت6-7)؛بے شک انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو وہ ضرور طغیانی اور حدوں کو پار کرتا ہے۔
امام حسن مجتبی علیه السلام نے تیسری خطرناک روحی و روانی بیماری کا تذکره جو فرمایا، وه حسد ہے ۔
حسد، جسم کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ ایمان کو جلا کر راکھ بنا دیتا ہے
اس بیماری کا جو نقصان ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ قرآن مجید میں حاسدین کے شر سے بچنے کا واحد راستہ خدا کی پناه معرفی ہوا ہے:” وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ”(سورہ فلق،آیت5)؛
خدا کی پناه مانگتا ہوں اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وه حسد کرے!
حاسدین کے شر سے محفوظ رہنا بھی ضروری ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے جب تک اللہ تعالی کی مدد نہ ہو اور انسان ہمیشہ الله سے متصل رہے۔
ہمارے معاشرے میں حسد کرنے والوں کی کمی نہیں ہے خاص کر خواص کا طبقه اس بیماری میں سب سے زیادہ مبتلا نظر آتا ہے درحالیکه اس کے نقصانات سے بھی واقف ہیں .حدیث میں ایا ہے :” الحسد يأكل الايمان، كما تأكل النار الحطب”(یعقوب کلینی،اصول کافی،ج2،ص306)؛ حسد ایمان کوایسے کھاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
لھذا انسان ان تینوں مہلک بیماریوں سے بچ کر ہی نجات پاسکتا ہے ورنہ ہلاکت اور نابودی یقینی ہے۔












