1

شناخت عصرظہور کی اهمیت و ضرورت

  • News cod : 14580
  • 01 آوریل 2021 - 15:45
شناخت عصرظہور کی اهمیت و ضرورت
معنویت سے لبریز اورپر لطف ماحول تھا۔زمین کی یہ حالت دیکھ کر فرشتے بھی لطف اندوز ہورہے تھے۔ایسے میں لب پہ بے ساختہ آیا:اے اللہ تیرا شکر کہ تونے مجھے امام زمانہ ،‎کے چاہنے والوں میں سے قرار دیا۔تونے محبان امام مهدی عج کو کھلے عام اپنی خوشی،‎ اظہار کرنے کا موقع بخشا.

تحریر: بشیر مقدسی

پیشکش: مجمع طلاب شگر شعبه تحقیقات

پندرہ شعبان کی رات،‎پوری قوم میلاد امام زمانہ کی خوشی سے جھوم رہی تھی ۔آسماں چراغاں سے جگمگا رہا تھا۔ زمین امامت کے چودھویں چاند کے نور سے چمک رہی تھی ۔فضا میں مدح سرائی کی صدائیں گونج رہی تھیں ۔بلبل،‎ امامت کے نغمے گنگنارہی تھی۔
سینکٹرو ں میٹرز پر مشتمل حرم،‎عاشقان امام زمانہ (عج)سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔راز ونیاز،‎ دعای امام زمانہ(عج)اوردعای فرج کی صدائیں گونج رہی تھیں ۔
معنویت سے لبریز اورپر لطف ماحول تھا۔زمین کی یہ حالت دیکھ کر فرشتے بھی لطف اندوز ہورہے تھے۔ایسے میں لب پہ بے ساختہ آیا:اے اللہ تیرا شکر کہ تونے مجھے امام زمانہ ،‎کے چاہنے والوں میں سے قرار دیا۔تونے محبان امام مهدی عج کو کھلے عام اپنی خوشی،‎ اظہار کرنے کا موقع بخشا.
تاہم اچانک دل میں ایک بات،‎ کھٹکنے لگی ‎کہ کاش! منتظرین امام زمانہ (عج) ظہور کے لئے بھی اتنی ہی تیاریاں کرتے،‎ جتنی، میلاد کے موقع پر کرتےہیں۔کاش ہم ظہور کے لئے بھی اتنی ہی سعی وکوشش کرتے،‎ جتنی جشن میلاد منانے کے لئے کرتے ہیں،‎ تواب تک وہ صبح نو طلوع کرچکی ہوتی،‎ جس کا ہمیں انتظار ہے اورغیبت کا یہ مایوس کن پردہ ہٹ چکا ہوتا۔
مگر افسوس! منتظرین امام زمانہ (عج) میں انتظار کی بے تابی دکھائی نہیں دیتی ہے،‎ ظہور کے لئے سعی وکوشش،‎ ان کے کردار میں نظرنہیں آتی۔امام زمانہ(عج)کےمتعلق سارے عشق و محبت،‎ سب پندرہ شعبان ہی کی رات میں خلاصہ ہوکر رہ جاتے ہیں ـ اس کے بعد امام (عج) کا تذکرہ صرف بعض اوقات تک محدود ہوکر رہ جاتاہے۔کیا ظہور کے لئے جشن منعقد کرناہی کافی ہے؟ کیا سڑکیں، مساجد اور امام بارگاہوں کو سجا نا اور چراغاں کرنا ظہور کے لئے کافی ہے؟!ہاں یہ سب ضروری ہے مگر کافی نہیں ہیں۔
اگر انتظار،‎ ظہور کے لئے سعی وکوشش کرنے،ظہورکے لئے اسباب اورمقدمات فراہم کرنے ‎ سے عبارت ہے،‎ تو کیوں یہ صفت اکثر وبیشتر،‎منتظرین میں پائی نہیں جاتی ہے؟! کیوں منتظرین صرف نمائشی کاموں میں مصروف عمل ہیں؟ اس مضمون میں مفہوم انتظار پر بحث کرنا مقصود نہیں ہے،‎ بلکہ یہ بیان کرنا ہے،‎ کہ ظہور کے لئے جدوجہد نہ کرنے کے اسباب وعلل کیا ہیں؟روایات میں ظہور کے لئے اسباب فراہم کرنے کے متعلق بہت تاکید کی گئی ہے۔ زعمائے قوم اورخطبا گلہ پھاڑ پھاڑ کر ظہور کے لئے اسباب فراہم کرنے کی دعوت دے رہے رہیں،‎مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی !ـ اس کی وجہ کیا ہے؟میں نے غور کیا،‎ استفسار کیا ،‎تومعلوم ہوا کہ اسکے کئی اسباب ہیں۔ مگرتفصیلی بحث اس مضمون میں ممکن نہیں ہے،‎ صرف ایک اہم وجہ اور سبب کی طرف اشارہ کرنا ہے اور وہ ہے ظہور کے درخشاں دور سے ناآشنائی ۔
ظہور کے لئے سعی و کوشش،‎ نہ کرنے کی اہم وجہ ظہور کے درخشاں زمانے کی خصوصیات،‎ برکتوں اور عظمتوں سے ناآشنا ئی ہے۔اکثر وبیشتر اس زمانے کی خصوصیات اور برکتوں سے غافل ہیں،‎توبعض دیگر کچھ بے بنیاد باتوں کی بناپر ،‎ظہورامام سے خائف رہتے ہیں۔ایسے لوگ بھلا کیونکر ظہور کے لئے سعی وکوشش کرینگے!؟
جس طرح سونے اور چاندی کی اہمیت سے انجان انسان،‎ اسے پانے کے لئے تگ و دو نہیں کرتابالکل اسی طرح ظہور کی برکتوں سے انجان شخص،‎ظہور کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتاہے۔پس ظہور کے درخشاں دور کی مکمل معرفت کے بغیر واقعی منتظر بننا مشکل ہے۔
ظہور کے زمانے کی معرفت سے ایمان میں اضافہ ہوتاہے۔ اس دور کے حصول کی پیاس شدت سے بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتا وہ نہایت انکساری اور عاجزی سے ظہور کے لئے دعا کرتاہے ۔ ظہور کا زمانہ ایسا بے مثال اور بے نظیر ہے‎ کہ جس کی تعبیر الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی ہے۔قلم میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ اس زمانے کی لطافت،‎حلاوت اوربرکتوں کو الفاظ میں لائے۔یقینا جب تک اس بابرکت زمانے کو درک نہ کرلیں ،‎تب تک اس کی عظمت سے آگاہ نہیں ہوسکتے اور نہ ہی، اس کی جذابیت کو مکمل طور پر نہیں جان سکتے۔ چنانچہ امام باقر (علیہ السلام )فرماتے ہیں:…لایمکنکم معرفته کماهی تروه(بحا رالانوار)اس دور کی معرفت کماحقہ ممکن نہیں مگر یہ کہ اس دن کو خود دیکھ لو۔
روایات سے معلوم ہوتاہے کہ ظہور کے زمانے میں،‎ کسی مظلوم کا حق ضائع نہیں ہوگا۔فقر وتنگدستی،‎قتل وغارت گری کا قلع قمع ہوگا۔ کوئی ماں یتیم بچے کی پرورش سے پریشان نہیں ہوگی، ‎عدل وانصاف،‎مساوات و بھائی چارگی کا دور دورہ ہوگا۔محبت اورالفت کا عروج ہوگا۔همدردی اورانسانیت کا بول بالا هوگاـ روایات اور قرآن، عصر ظہور کی مدحت سرائی میں ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے،‎اس میں غوطه ور ہونا،ہمارے بس کی بات نہیں صرف بطور مثال کچھ نمونے روئے قرطاس لانے کی کوشش کرینگے۔
چنانچہ قرآن کریم نے بقیۃ اللہ خیرلکم (سورہ ہود)کا نعرہ لگا کر آگاہ کردیا کہ حضرت ولی عصر(عج) کا مبارک وجود ہی انسانوں کے لئے فائدہ مند اورخیر کا زریعہ ہے۔
اسی طرح اس زمانے میں نافذ ہونے والی عدالت کے متعلق امام جعفرصادق فرماتے ہیں:”اماوالله لیدخلن علیهم عدله جوف بیوتهم کما یدخل الحر والقر”(نعمانی،‎الغیبہ) حضرت امام مهدی(ع) کی عدالت حتمی اور قطعی طور پرگھروں میں داخل ہوجائے گی جس طرح گرمی اور سردی داخل ہوتی ہیں یعنی آپ کی عدالت ایک عظیم طاقت کی طرح پھیل جائے گی ۔اسی طرح امام باقر(ع)اس نئی صبح کے بارے میں فرماتے ہیں:”یظهر کالشهاب،‎یتوقد فی اللیله الظلما،‎فان ادرکت زمانه قرت عینک”(الغیبہ نعمانی)(عصر ظهور اسطرح درخشان هوگا) جس طرح رات میں شہاب شعلہ ور ہوتاہے،‎ اگران کے زمانہ کو دیکھو گے تو تمہاری آنکھیں روشن ہوجائیں گی۔
رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:”ابشروا ابشروا ابشروا بالمهدی۔۔۔یملا الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا،‎یملا قلوب عبادہ عبادہ ویسمعهم عدله”(الغیبہ نعمانی) تمہیں مہدی(ع) کے بارے میں بشارت دیتاہوں … امام زمانہ ظہور کریں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کریں گے جس طرح سے وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔وہ خدا کے بندو ں کے قلوب کو حالت عبادت وبندگی سے سرشار کریں گے سب پر ان کی عدالت کا سایہ ہوگا۔
انسان تو دور،حیوانوں سے بھی درندگی کی صفت ختم ہوجائے گی ،‎چنانچہ امام علی (ع)فرماتے ہیں:”اصطلحت السباع والبهائم”(بحار الانوار)درندے اورچارپائے ایک دوسرے کے ساتھ آرام اور صلح سے رہیں گے اور فراوانی نعمت اورکثرت رزق وروزی کے متعلق (مرحوم) نعمانی اپنی کتاب الغیبہ میں یوں رقمطراز ہیں کہ امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا :ـ”۔۔۔لیاتین علیکم وقت لایجد احدکم لدینارہ ودرهمه موضعا،‎ یعنی لایجد عند ظهور القائم موضعا یصرفه فیه لاستغنا الناس جمیعا بفضل الله وفضل ولیه”(الغیبہ،‎نعمانی)۔یقینا تم پر ایسا وقت آئے گا تمہیں پیسہ خرچ کرنے کے لئے،‎جگہ نہیں ملے گی۔کیونکہ ظہور کے درخشاں دور میں اللہ اور اس کے ولی(امام عصر) کے فضل سے سب بے نیاز ہوجائیں گے۔رہبرمعظم انقلاب حضرت آیه الله خامنه ای، اس درخشاں دور بارے فرتےہیں: “عدل،‎پاکیزگی،‎سچائی،‎ علم و معرفت اور محبت سے سرشار دنیا،‎امام زمانہ (ع) کی حکومت کے زمانے کی دنیاہے،‎صحیح معنوں میں انسان کی زندگی بھی اسی زمانہ سے شروع ہوگی۔ اس دنیا میں انسان کے حقیقی زندگی امام زمانہ (عج) کے ظہور کے بعد کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے،‎ خداجانتا ہے کہ انسان اس زمانے میں کن عظمتوں تک پہنچ جائے گا!!!”(معارف الفرقان-695)
جن برکتوں کا ہم نے تذکرہ کیا ہے،‎ وہ سمندرکے مقابل میں قطرے کے‎برابر ہیں۔(تفصیل جاننے کے لئے متعلقہ کتب(مجتهدی سیستانی کی کتاب اورالامام الاثنا عشر وغیره) کا ملاحظہ کرسکتے ہیں)۔
غرض ،جب انسان کو ظہور کے درخشان زمانے کی معرفت ہوگی،‎تو وہ اپنے آپ اس کے حصول کے لئے سعی وکوشش کرے گا۔شب برات ،‎اپنی چھوٹی چھوٹی حاجتوں کو لیکر نہیں بیٹھے گا،‎بلکہ تمام حاجات بھول بھال کر ظہور کے لئے دعا کرے گا اور یک صدا ہوکر بول اٹھے گا:
کھبی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
(علامہ اقبال)
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
هو جسکی نگه زلزله عالم افکار
سب کےسب بعض دیگر ہستیوں کی طرح دن دگنی را ت چوگنی، ظہور کے لئے سعی وکوشش کرینگے.
چونکہ موجودہ دور میں ظلم وستم،‎ قتل وغارت،‎ بی عدالتی کے نتیجے میں،‎ لوگ غموں کے پہاڑوں،‎ اشکوں کے کارواں اور حسرت کے صحراؤں میں مبتلا ہورہے ہیں،‎اسلحوں کی تجارت غریبوں کا آشیانہ جلا رہی ہے۔ الغرض انسانیت رنج وآلام کے دلدل سے نکلنے کے لئے بیتاب ہے۔ انسانیت نئی صبح کی تلاش میں ہے‎ اور وہ ظہور کا زمانہ ہے ـ
لہذا ظہور کے درخشاں زمانے کی معرفت حاصل کرنا اور اسباب فراہم کرنا تمام اہل علم وفضل کی ذمہ داری ہے چونکہ اسی میں ہماری کامیابی اور سعادت مضمر ہے ۔خدا ہمیں ظہور کے اس حسین دور(نئی صبح) کو درک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جاری ہے

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=14580