0

مرتد وسیم رضوی کا فتنہ تحریف قرآن اور آیات جہاد کو حذف کرنے کی درخواست کا تنقیدی جائزه(پہلی قسط)

  • News cod : 15296
  • 11 آوریل 2021 - 15:33
مرتد وسیم رضوی کا فتنہ تحریف قرآن اور آیات جہاد کو حذف کرنے کی درخواست کا تنقیدی جائزه(پہلی قسط)
۔ تحریف کے مسئلہ میں بھی زیادہ تر اس موضوع پر بحث و گفتگو ہوتی ہے اور یہ موضوع فریقین کے درمیان معرکة الآراءہے کہ کیا قرآن مجید میں کوئی چیز کم ہوئی ہے یا نہیں

ڈاکٹر طاہرہ بتول

مذہبی اسکالر و استاد المصطفی انٹرنیشل یونیورسٹی

اترپردیش میں ادارہ وقف کے سابق ڈائریکٹر وسیم رضوی کی جانب سے قرآن کریم کی ۲۶ آیات کو حذف کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔اس درخواست پر شیعہ سنی علما نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مجلس علما ہند کے سیکریٹری مولانا کلب جواد اور اهل سنت کے عالم دین مولانا خالد رشید فرنگی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس درخواست کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس شخص کو گرفتار کرکے مقدمہ چلایا جائے۔وسیم رضوی نے درخواست میں کہا ہے : مذکورہ آیات رسول اکرمﷺ کے بعد قرآن میں شامل کی گئی ہیں اور ان سے شدت پسندی بڑھتی ہے۔
ہم یہاں وسیم رضوی کی اس درخواست کا جائزہ لیں گے اور عدم تحریف قرآن کو بیان کرتے ہوئے جہاد کی تشریع کی حکمت بیان کریں گے:
تحریف کے لغوی معنی:
تحریف کی اصل “حرف”ہے جس کے معنی کنارا اور گوشہ کے ہیں اورتحریف کلام، یعنی کلام کو اس کے طبیعی راستے سے ہٹانا ہے۔ الفاظ اور عبارتوں کے طبیعی راستوں سے مراد ان کے حقیقی اور واقعی معانی ہیں۔ اُن معانی سے انحراف کی صورت میں تحریف واقع ہوجائے گی۔ لہذا علماءتحریف کلام کی تعریف اس طرح کرتے ہیں: تفسیره علی غیر وجهه؛ کلام کے ظاہری معنی کے خلاف اس کی تفسیر اور تشریح کرنا”یعنی کلام کا بدلنا اور اسے کسی دوسرے معنی کی طرف پلٹانا ہے اس طرح کی تفسیر ایک قسم کی نامناسب تاویل شمار ہوتی ہے اور اس قسم کی تحریف کو تحریف معنوی کہتے ہیں کیونکہ در حقیقت تحریف معنوی، لفظ کی دلالت اور معنی کو تبدیل کر کے اسے اپنے صحیح اور اصلی راستے سے منحرف کر دیتی ہے۔قرآن مجید میں جہاں بھی تحریف کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے یہی معنی (تحریف معنوی) مراد لیا گیا ہے۔
شیخ طبرسی ؒاس آیت«یحرّفون الکلم عن مواضعه»کے بارے میں کہتے ہیں:«ای یفسّرونه علی غیر ما انزل وهو سوءالتاویل؛یعنی جس چیز کے ارادے سے خدا نے آیتوں کو نازل کیا ہے وہ آیتوں کی اس کے خلاف تفسیر کرتے ہیں اور اسے بُری اور سوء تاویل کہتے ہیں.
زمخشری اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں:”ای یمیلونها عن مواضعها؛۱ یعنی لفظ کو اپنی اصل (وضعی) جگہ سے ہٹا دینا” کیونکہ اگر لفظ کی اپنے حقیقی معنی کے مطابق (کہ ظاہری طور پر لفظ جس پر دلالت کرتا ہے) تفسیر اور تشریح نہ کی جائے تو بے شک وہ اپنے حقیقی (وضعی) مقام سے منحرف ہوجاتا ہے۔
تحریف کی اصطلاحی تعریف:
اصطلاح میں تحریف کے سات معنی ہیں:
۱) کلام کی دلالت میں تحریف یعنی نامناسب تفسیر اور تاویل کرنا اس طرح کہ لفظ کے لغوی معنی اس کی تفسیر کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہوں اور وضع یا کوئی قرینہ بھی اس پر دلالت نہ کرتا ہو صرف اور صرف اپنی من پسند تفسیر اور تاویل کی گئی ہو۔ اس طرح کہ غیر مستند تاویل، تاویل باطل اور تفسیر بالرائے شمار ہوگی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم فرماتے ہیں:من فسّر القرآن برایه فلیتبوّامقعده من النّار؛جس شخص نے بھی قرآن مجید کی اپنی من پسند تفسیر (تفسیر بالراے) کی، اس نے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔
۲۔ قرآنی آیتوں یا سورتوں کی ترتیب کے برخلاف تحریر: البتہ جمع قرآن کے موقع پر سورتوں کی ترتیب میں اس طرح کی تبدیلی تو واقع ہوئی ہے لیکن آیات میں اس طرح کی تبدیلی کا احتمال بہت ضعیف ہے۔
۳۔قرائت میں ایسا اختلاف جو قراتِ مشہور کے برخلاف ہو۔ البتہ یہ اختلاف صدرِ اسلام سے صدیوں تک جاری رہا اور بعض قاری قراتِ مشہور کے برخلاف قرات کیا کرتے تھے۔
۴۔ لہجہ کا اختلاف: عرب قبیلوں میں سے ہر ایک کا اپنا مخصوص لہجہ تھا اور قریش کے لہجے کے برخلاف بعض قبائل قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتے تھے حالانکہ قرآن مجید قریش کے لہجہ میں نازل ہوا تھا۔ البتہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس اختلاف لہجہ کی اجازت فرمائی تھی۔ یہ حدیث «نزّل القرآن علی سبعة احرف» لہجوں کے اس اختلاف کو بیان کر رہی ہے۔
۵۔ کلمات میں تبدیلی: یعنی کسی لفظ کو قرآن سے اٹھا کر اس کی جگہ اس کے مترادف لفظ کو قرار دینا۔
۶۔ قرآن میں زیادتی: ابن مسعود کے متعلق ملتا ہے کہ وہ آیتوں کے بیچ میں بعض جملے تفسیر کے عنوان سے لے آتے ہیں تا کہ آیت کے مفہوم کو واضح تر کریں۔ چنانچہ انہوں نے آیت تبلیغ میں«انّ علیّاً مولی المومنین»، کے جملے کا اضافہ کر کے آیت کو اس طرح پڑھا ہے: یا ایّهاالرسول بلّغ ما انزل الیک من ربّک۔ انّ علیاً مولی المومنین۔ و ان لم تفعل فما بلّغت رسالته»نیز عجاردہ (ابن عجرد کے پیروکار بعض خوارج) کا گمان ہے کہ قرآن مجید میں سورہ یوسف کو بڑھا دیا گیا ہے۔
۷۔ قرآن میں کمی: بعض کا گمان ہے کہ قرآن مجید موجودہ مقدار سے زیادہ تھا اور یہ کمی بھولے سےہوئی ہے یا جان بوجھ کر کی گئی ہے۔ تحریف کے مسئلہ میں بھی زیادہ تر اسی موضوع پر بحث و گفتگو ہوتی ہے اور یہ موضوع فریقین کے درمیان معرکة الآراءہے کہ کیا قرآن مجید میں کوئی چیز کم ہوئی ہے یا نہیں؟ قرآن مجید میں کمی کا مسئلہ اہل سنت کی کچھ روایات (جو “حشویہ” سے نقل ہوئی ہیں) اور شیعوں کی بھی کچھ روایات (جو اخباریوں کی طرف سے وارد ہوئی ہیں) کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ البتہ اُمت کااس بات پر اجماع ہے کہ قرآن مجید میں کبھی بھی کوئی چیز اضافہ نہیں ہوئی ہے۔

جاری ہے

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=15296

آپکی رائے

  1. Dr tahira batool ka mazmoon malumati r purmaghaz h aise faiadamand mazmun k silsile ko jaru rehna chahiye