1

مرتد وسیم رضوی کا فتنہ تحریف قرآن اور آیات جہاد کو حذف کرنے کی درخواست کا تنقیدی جائزہ(تیسری قسط)

  • News cod : 16509
  • 01 می 2021 - 19:59
مرتد وسیم رضوی کا فتنہ تحریف قرآن اور آیات جہاد کو حذف کرنے کی درخواست کا تنقیدی جائزہ(تیسری قسط)
دنیا کے مسلمان فخر کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے «جہاد کا قانون» اور لوگوں کی اقدار کی حفاظت اور دفاع کو مذہب کا عملی رکن قرار دیا ہے اور قرآن مجید میں اس کے احکام سے متعلق سینکڑوں آیات نازل کی ہے ۔

ڈاکٹر طاہرہ بتول
مذہبی اسکالر اور المصطفی انٹر نیشنل یونیورسٹی کی لیکچرار
گذشتہ دلائل کی رو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید سے نہ کوئی چیز کم ہوئی ہے اور نہ کوئی چیز اضافہ ہوئی ہے لہذا وسیم رضوی کی یہ بات کہ خلفاء نے قرآن کو جمع کرتے وقت آیات جہاد کو اس میں اضافہ کردیا ہے بے بنیاد بات ہے جس پر نہ کوئی تاریخی ثبوت ہے اور نہ ہی عقل اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہے لہذا آیات جہاد اللہ تعالی کی طرف سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی الہی کے ذریعے نازل ہوئی ہیں ۔ ہم یہاں اسلام میں جہاد کی قانون سازی کی وجوہات کو بیان کریں گے:
اسلام میں جہاد کی تشریع کا فلسفہ
انسانی وقار اور معاشرتی انصاف سب سے اہم اور بنیادی ترین انسانی اقدار میں سے ہے۔ ہر مذہب ومکتب اور ریاست پر لازم ہے کہ وہ انسانی وقار ،عزت، آزادی اور معاشرتی انصاف کا تمام تر قوت سے حفاظت کرے۔ جس طرح ایک غیرت مندانسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حق ، وقار اور آزادی کا دفاع کرے ۔ جیسا کہ ایک امت کو غارت گروں اور ظالموں کے حوالے کرنا ناقابل معافی جرم ہے اسی طرح ظلم و ستم کو برداشت کرنا اور اپنے حق کا دفاع نہ کرنا بھی ذلت و خواری کی نشانی ہے۔
ایک ایسا مذہب پیروی کرنےکے قابل ہوتا ہے جو«انسانی وقار اور عزت »سے دفاع کو اپنے قوانین کا حصہ بنالے۔اگر کسی مذہب میں یہ حیاتی عنصر موجود نہ ہوں اور ظلم وستم کے سامنے خاموشی اختیار کرنے کا کہے تووہ مذہب پیروی کرنے کے لائق نہیں ہے، بلکہ ایسا مذہب ہر زمانے میں انسانیت کو نابود کرنے کے لیے ظالم اور ستم گروں کا آلہ کار ہوگا۔
دنیا کے مسلمان فخر کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے «جہاد کا قانون» اور لوگوں کی اقدار کی حفاظت اور دفاع کو مذہب کا عملی رکن قرار دیا ہے اور قرآن مجید میں اس کے احکام سے متعلق سینکڑوں آیات نازل کی ہے ۔
قرآن نے نہ صرف دفاع اور جہاد کو واجب قرار دیا ہے بلکہ شجاع اور دلاور لوگ جو انسانی سماج کے اعلی اقدار کی نجات کے لیے شجاعانہ لڑتے اور قیام کرتے ہیں انہیں سب سے اعلیٰ انسان سمجھاہے جن کے لیے اللہ کے حضور بہت بڑا ثواب ہوگا:
وَ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلىَ الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا، مگر بیٹھنے والوں کی نسبت جہاد کرنے والوں کو اجر عظیم کی فضیلت بخشی ہے۔ (نساء/۹۵)
وہ لوگ جو جانثاری کرتے ہیں اور مظلوموں کی نجات کے لیے مخلصانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہید ہوجاتے ہیں ان کی شہادت کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے لوگ اپنے انسانی حقوق کو پا سکیں او رمعاشرے میں انصاف برقرار ہو جائے، قرآن کی نگاہ میں یہ لوگ اعلی انسانی مقام پر فائز ہونے والے حقیقی زندہ و جاوید انسان ہیں:
وَ لَا تحَسَبنَ‏ الَّذِينَ قُتِلُواْ فىِ سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتَا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ، فَرِحِينَ بِمَا ءَاتَئهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ؛ اور جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ہیں قطعاً انہیں مردہ نہ سمجھوبلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے رزق پا رہے ہیں۔ اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ انہیں دیا ہے اس پر وہ خوش ہیں۔ (آل عمران/۱۶۹ اور ۱۷۰)
اسلام میں جہاد کی اقسام
۱-دفاعی جہاد
دفاعی جہاد کا مفہوم واضح ہے اور اس پر بہت کم اعتراض کیاگیاہے صرف بعض مغربی لوگ جو خود تو ظلم نہیں سہتے لیکن انہیں یہ پسند ہے کہ مسلمان او رمشرقی لوگ ان کے ظلم کے مقابل خاموش رہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ اگر کسی کے گھر چور گھس جائے اور اس کا مال و دولت لوٹ کر لے جائے اور اس کی عزت کو بھی لوٹ لے تو کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہوگا جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور دفاع کرنےکو واجب نہ سمجھے اور خود یا دوسروں کو خاموش رہنے اور ظلم سہنے کی ترغیب دے۔
انسانی تاریخ میں ظالم اور ستم گر حکمرانوں کے حملوں کے مقابل اقوام عالم اور امتوں کی مزاحمت کی تاریخ تمام انسانوں کا فطری عقیدہ اور دفاعی جہاد کے فرض ہونے کی دلیل ہے۔(داود العطار، الدفاع الشرعی فی الشریعہ الاسلامیہ صفحہ20)
اسلامی فقہ میں دفاعی جہاد(حفاظت کی خاطر)، ملک ¬ اور دینی اقدار کی حفاظت کے لیے تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔امام خمینی اس بارے میں لکھتے ہیں:
اگر دشمن اسلامی ممالک پر حملہ کر کے اسلام اور مسلمانوں کو تباہ و نابود کرنے کا سوچے تو تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو جانثاری کرتے ہوئے اپنےجان و مال کی حفاظت کریں ۔(تحریر الوسیلہ ج ۱ص۴۸۵)
۲-ابتدائی جہاد( آزادی بخش جہاد)
دین اسلام ایک الہی اور مکمل مذہب ہے جسے اللہ نے تمام انسانوں کے لیے بھیجا ہے۔ اللہ کی طرف سے نبی اکرمﷺاور دیگر اسلامی رہنماؤں پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ تمام معاشروں تک اسلامی تعلیمات اور ہدایت کو پہنچا دیں: وَ مَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِين، اور (اے رسول) ہم نے آپ کو بس عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔(انبیاء/107)
البتہ تمام انسان اسلام کو قبول کرنے یا نہ کرنے میں آزاد ہیں۔ اسلامی فقہ انسانوں کو یہ اختیار دیتی ہے کہ اگر انہوں نے اسلامی تعلیمات کی برتری کا مشاہدہ کیا اور وہ تعلیمات انہیں پسند آئیں تو ا نہیں قبول کرکے بشارت الہی میں شامل ہوجائیں:
فَبَشِّرْ عِبَادِالَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ؛ آپ میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجیے، جو بات کو سنا کرتے ہیں اور اس میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔(زمر/17 اور 18)
اگر انہیں اسلام پسند نہیں آۓ، تو وہ آزاد ہیں کہ اسلام کے لیےرکاوٹ پیداکیے بغیر اپنے مذہبی قوانین پر عمل پیرا ہوں:لَا إِكْرَاهَ فىِ الدِّينِ قَد تَّبَينَ‏ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى،دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں، بتحقیق ہدایت اور ضلالت میں فرق نمایاں ہو چکا ہے۔(بقرہ/256)
اب اگر دوسری حکومتیں اسلامی ثقافت اور جدید علم کو دنیا میں پھیلانے کی اجازت دیں تاکہ لوگوں کی معلومات اور علم میں اضافہ ہوجائے تو کسی قسم کی جنگ پیش نہیں آئے گی لیکن اگر اسلامی تعلیمات کو پھیلانے کی راہ میں رکاوٹ بنیں اور عسکری تصادم پیش آئے تو اسلامی رہنما پرفرض ہے کہ وہ اپنی ثقافتی رسالت اور ثقافتی سفیروں کا دفاع کرے اور صدائے اسلام کو انسانی معاشروں تک پہنچائےاور اگر ریاستوں کی شدت پسندی کی وجہ سے جنگ پیش آئے تو اس جنگ کو جہاد ابتدائی کہا جاتا ہے۔( محمد حسن جواہری، جواہر الکلام فی شرائع الاسلام ج ۲۱ص۱۸)
چنانچہ اگر اسلامی رہنما اپنے ملک پر کسی حکومت کے ظالمانہ سلوک کا مشاہدہ کرے تو اس پر لازم ہے کہ وہ مظلوموں کی حمایت ،مدد اور ستم گروں سے نجات دلانے کے لیے قیام کرے اور ظالم و جابر حکمرانوں سے جنگ لڑے اور اس قوم و ملت پر ایک باانصاف حکمران حکمرانی کرے۔ قرآن اس آزادی بخش جہاد کی باربار تاکید کرتا ہے:
وَ مَا لَكمُ‏ لَا تُقَاتِلُونَ فىِ سَبِيلِ اللَّهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَاذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَ اجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَ اجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا، آخر تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس کیے گئے مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو پکارتے ہیں:اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے بڑے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا سرپرست بنا دے اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارے لیے مددگار بنا دے؟(نساء/75)
ابتدائی جہاد کی دفاعی نوعیت
ابتدائی جہاد حقیقت میں دفاعی جہاد ہی کی ایک قسم ہے کیونکہ اس جہاد کا مقصد ان سرزمینوں کا دفاع کرنا ہے جن کے مکین اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں ہیں اور وحی الہی کی شناخت اور ہدایت جیسی نعمت سے بہرمند نہیں ہوئےاور اپنی ریاست کی ثقافتی اور فولادین حصار میں گرفتار ہیں۔
ہم اگر دفاعی اقدار پر تھوڑا غور کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ ابتدائی جہاد، دفاعی جہاد کی سب سے زیادہ اہم قسم ہے کیونکہ دفاعی جہاد میں مجاہدین اپنی شناخت اور اپنے ملک اور مذہب کا دفاع کرتے ہیں، لیکن جہادِ ابتدائی کے مجاہدین اپنی جان کو دوسرے اقوام اور امتوں کی آزادی، ہدایت ، رشد اور کمال کے لیے قربان کرتے ہیں۔( شہید مرتضی مطہری، جہاد و موارد مشروعیت آن در قرآن صفحہ۴۳)
دوسری قوموں کے لیے ہمدردی اور ان کی آسائش کے لیے کوشش اور جد وجہد کرنا کسی بھی علمی شعبے سے وابستہ دانشور اور مذہبی علما ء اورمفکرین کی نگاہ میں اس قدر مقبول ہے کہ دور حاضر کے حکمرانوں نے« انسانی حقوق کے دفاع کے لیے» ایک بین الاقوامی ادارہ بنایا ہے جس کی ذمہ داری قوموں کے پائمال شدہ حقوق کا جائزہ لینا ہے۔
یہ سماجی اصول اس قدر مستحکم ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسی امپریالسٹ ریاستیں بھی جنگوں کی توجیہ پیش کرنے پر مجبور ہیں ۔اس لیے انہوں نے دوسرے ممالک پر قابو پانے کے لئے وسیع پیمانے پر افغانستان اور عراق وغیرہ پر عالمی جنگ کو « اقوام کی آزادی کی جنگ»کے طور پر پیش کردیا ہے۔
عجیب بات یہ ہے جس دنیا کے لوگوں نے« انسانی حقوق کے دفاع کے لیے» بین الاقوامی ادارہ بنایا ہے وہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بعض ملکوں پر ظلم کا الزام لگا کر ان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ طاقتور ممالک اسی نام سے دوسرے کمزور ممالک پر حملہ کرتے ہیں لیکن اسلامی ثقافت کی ترویج کے لیے اسلامی انسانیت پسند عمل کو غیر انسانی اور بے ہودہ عمل قرار دیتے ہیں۔(جاری ہے)

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=16509

آپکی رائے

  1. Great content mam i am feel inner satisfaction reading khanam tahira writing and video. May allah shower her bless on you.