1

کیا پانچ سال کا بچہ امام بن سکتا ہے؟(آخری قسط)

  • News cod : 18107
  • 30 می 2021 - 15:34
کیا پانچ سال کا بچہ امام بن سکتا ہے؟(آخری قسط)
شایدانسان کی عقل یہ تسلیم نہ کرے کہ نابالغ بچہ بھی امام ہوسکتا ہے لیکن کیا کیا جائے خالق عقل کہہ رہا ہے کہ میں چاہوں تو کسی کو بچپنے میں نبوت عطا کروں اور چاہوں تو کسی کو امامت وخلافت عطا کروں جیسا کہ قرآن نے صراحت سے فرمایا ہے:” یایحیٰ خذالکتاب بقوة وآتیناہ الحکم صبیاً“اسی طرح دیگر مقام پر آیا ہے :” انی عبداللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیاً “ کیونکہ خالق بھی وہی ہے حاکم بھی وہی شارع بھی وہی اور قانون گذار بھی وہی ہے .پس جب خالق عقل کہہ رہا ہے نابالغ بچہ نبی اور امام بن سکتا ہے تو اگر مخلوق کی عقل اسے بعید سمجھتی ہے تو یہ خود اس کی عقل کی نارسائی ہے .

اہم سوال کا جواب
کیا پانچ سال کا بچہ امام بن سکتا ہے؟
آخری قسط

تحریر: علی اصغر سیفی
ضیاء الرحمن فاروقی کا اعتراض:
اہل عقل جانتے ہیں کہ بچہ مکلف نہیں ہوتا ، شریعت نے اسے مرفوع القلم ٹھہرایا ہے اوردنیا کی کسی عدالت میں بچے کی شہادت معتبر نہیں ہے ، عقل کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر سلسلہ امامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تواللہ تعالیٰ اس بات کا بھی انتظام کرتا کہ جب تک مستقبل کا امام بالغ نہ ہوجائے تب تک امام حاضر کو دنیا سے نہ اٹھایا جائے تاکہ امام کا جانشین بالغ ہو، نہ کہ نابالغ بچہ ہو، لیکن عقل وشرع کے خلاف حضرات امامیہ نابالغ بچوں کی امامت کے قائل ہیں اوراس کو خدای متعال سے منسوب کرتے ہیں نعوذ باللہ۔(۔حضرت امام مہدی، فاروقی ، ص ۱۶۔)
ہمارا جواب:
آپ کی مشکل یہ ہے کہ الہیٰ نمائندوں کو بھی ایک عام آدمی کی طرح سمجھتے ہیں، جی ھاں دنیا اورانسان کے بنائے ہوئے قوانین میں بچے کی شہادت معتبر نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق بچہ اگر ولی خدا ہوتو اس کی گواہی معتبر ہے جس کی واضح مثال حضرت عیسیٰ بن مریم (ع) کی شہادت اور گواہی ہے، جوانہوں نے اپنی والدہ کی پاکیزگی پر دی تھی .
جہاں تک نابالغ کی امامت پر آپ کو اعتراض ہے تواس سلسلے میں ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ(ع) اور حضرت یحیٰ (ع)کے بارے میں کیا فرمائیں گے ؟
اورآپ کا یہ کہنا کہ عقل وشرع کے خلاف شیعہ لوگ نابالغ بچوں کی امامت کے قائل ہیں تو ہم آپ ہی سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کونسی آیت اور روایت ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ امام معصوم اور جانشین رسول کے لئے بالغ ہونا شرط ہے ؟
شیعہ وسنی محدثین کی متفقہ نظر کے مطابق احادیث نبوی سے یہ ثابت ہے کہ حضور(ص) نے ذوالعشیرہ میں علی بن ابی طالب (ع) کو نو (۹)سال کی عمر میں جو کہ دنیوی اوردینی اعتبار سے سن بلوغ میں نہیں تھے, اپنا جانشین اور امیرالمومنین اور امام المسلمین قرار دیا اور فرمایا تھا: ” ھذا اخی وصیِ وخلیفتی من بعدی“
ثانیاً: شایدانسان کی عقل یہ تسلیم نہ کرے کہ نابالغ بچہ بھی امام ہوسکتا ہے لیکن کیا کیا جائے خالق عقل کہہ رہا ہے کہ میں چاہوں تو کسی کو بچپنے میں نبوت عطا کروں اور چاہوں تو کسی کو امامت وخلافت عطا کروں جیسا کہ قرآن نے صراحت سے فرمایا ہے:” یایحیٰ خذالکتاب بقوة وآتیناہ الحکم صبیاً“اسی طرح دیگر مقام پر آیا ہے :” انی عبداللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیاً “
کیونکہ خالق بھی وہی ہے حاکم بھی وہی شارع بھی وہی اور قانون گذار بھی وہی ہے .پس جب خالق عقل کہہ رہا ہے نابالغ بچہ نبی اور امام بن سکتا ہے تو اگر مخلوق کی عقل اسے بعید سمجھتی ہے تو یہ خود اس کی عقل کی نارسائی ہے .
ہمارے سنی دوستوں کی مشکل یہ کہ ہرچیز میں ” قیاس“ کرتے ہیں کہ جس کی کوئی دلیل قرآن وسنت سے نہیں ملتی یعنی ایک عام نابالغ بچہ چونکہ مکلف نہیں ہوتا پس اس میں رہبری کی صلاحیت نہیں ہوتی اس لئے اولیاءخدا کو بھی اس منصب پر فائز ہونے کے لئے حتماً بالغ ہونا لازمی ہے …
جب کہ یہ فکر ہی غلط ہے چونکہ عقل انسانی محدود ہے اس بناءپر اللہ تعالیٰ کے ہرفعل کی حکمت ومصلحت کو عقل انسانی کا درک کرنا اور تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے ، اورنہ ہی انسان اس کو سمجھ سکتا ہے ، ویسے بھی قرانی رو سے انسان کو اللہ تعالیٰ نے تھوڑا ساعلم دیا ہے جیسا کہ ارشاد ہے:” وما اوتیتم من العلم الاّ قلیلاً“ لہذا کسی کے عقل کا قبول کرنا یا نہ کرنا معیار نہیں بن سکتا .
اس کے علاوہ قرآن کریم میں اس کی واضح مثال حضرت یحیٰ اور حضرت عیسیٰ(ع) کی شکل میں موجود ہے وہی عیسیٰ (ع) جو حضرت مہدی(ع) کے ظہور کے بعد آپ کی اقتداءمیں نماز پڑھیں گے ، اور تمام امور میں آپ کے تابع فرمان ہوں گے پھر اگر ماموم کو پیدا ہوتے ہی نبوت عطا ہوسکتی ہے ، جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے ” بچہ [قدرت خداسے] بول اٹھا کہ میں بے شک خدا کا بندہ ہوں مجھ کو اس نے کتاب [انجیل] عطا فرمائی ہے اورمجھ کو ” نبی“ بنایا اور میں چاہے کہیں رہوں مجھ کو مبارک بنایا“۔( مریم ، ۰۳، ۱۳)
”قال انی عبداللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیاً وجعلنی مبارکاً این ماکنتُ“
تو پھر اگر پانچ سال کی عمر میں خود امام اور مقتدیٰ کو ( امامت کا عہدہ عطا ہوا اور ان کے کندھوں پر پوری امت کی ہدایت وارشاد کی ذمہ داری ڈالدی جائے تو نہ کوئی بعید از عقل بات ہے نہ ہی تعصب کا مقام ، بلکہ اس کی بنیاد قرآن کریم اور ارشاد الہیٰ ہے ” اللّہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “(۔مائدہ ۸۴)
اس آیت میں علم کا حوالہ خود واضح کرتا ہے کہ خداوند کریم اپنے منصب کے قابل افراد کو خوب پہچانتا ہے جس میں انسانی عقل کا عمل دخل اتنا ہی ہے کہ وہ فرمان خدا کے مقابل تسلیم ہوجائے
مقصد نبوت وامامت لوگوں کی صحیح رہبری وہدایت ہے اور وہ ”علم ، عصمت ، عقل “کے ساتھ بحسن وخوبی پورا ہورہا ہے ، لہذا سن وسال بلوغ وعدم بلوغ کی قید عام انسانوں کے یہاں تو لازم ہوسکتی ہے مگر خدائی منصب اور عہدے اس سے بالاتر ہیں ، بلکہ ممکن ہے الہیٰ آزمایش کا ایک ذریعہ خود بچپنے میں عہدہ نبوت وامامت کا عطا ہونا ہو۔ جیسا کہ یہودی حضرت عیسیٰ(ع) کے ذریعے آزمائے گئے اورابولہب وابوجہل ہمارے نبی اکرم (ص) کے ذریعے ، آپ (ص)کفّار کے مدّ مقابل سن وسال کے اعتبار سے چھوٹے تھے ۔” فااعتبروا یااولی الابصار“(۔سورہ حشر)
آنکھیں رکھنے والوعبرت حاصل کرو، اس لئے آنکھیں آندھی نہیں ہوا کرتی بلکہ سینے میں جو دل ہے وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔(۔سورہ حج، ۶۴)
” فانّہا الاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمت بالخیر

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=18107