0

امام جعفر صادق ؑ کی شخصیت اور علمی کارنامہ(پہلی قسط)

  • News cod : 18300
  • 06 ژوئن 2021 - 12:43
امام جعفر صادق ؑ کی شخصیت اور علمی کارنامہ(پہلی قسط)
آئمہ اہل بیتؑ بالاخص امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام نے جس علمی درسگاه کی بنیاد رکھی اس کی ممتاز خصوصیت منبع وحی کے ساتھ متصل ہوناتھا در حقیقت اسی علمی مرکز نے رسالتمآب ﷺ کا پیغام رسالت پہنچانے میں اور حقیقی اسلام کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کیا۔

تحریر: حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمد حسن نقوی
اما م جعفر صادقؑ کی شخصیت
امام جعفر صادق ؑ اہل بیت عصمت و طہارت کے چھٹے تاجدارامامت و ولایت ہیں جن کی امامت و خلافت پر رسول خداؐکی نصّ صریح موجود ہے۔
آپ ؑ۸۳ھ؁ میں پیدا ہوئے اور اپنے جدّ بزرگوار امام زین العابدین ؑ اور اپنے والد ماجد امام محمد باقر ؑ کے زیر سایہ پرورش پائی اور ان سے علوم شریعت اور اسلامی معارف اخذ کئے .اس لحاظ سے آپ اپنے آباء طاہرین کے نورانی حلقوں سے بلا واسطہ وابستہ تھے ان کے اور آپ کے درمیان کسی غیر امام یا مجہول فرد کا فاصلہ نہیں پایا جاتا ، یہاں تک کہ آپ ؑ کا یہ سلسلہ رسول اللہ ﷺتک پہنچتا ہے ، لہذا آپؑ چشمۂ وحی کے آب زلال اور حکمت الٰہیہ کے منبع خاص سے سیراب ہوئے ۔
آئمہ اہل بیتؑ بالاخص امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام نے جس علمی درسگاه کی بنیاد رکھی اس کی ممتاز خصوصیت منبع وحی کے ساتھ متصل ہوناتھا در حقیقت اسی علمی مرکز نے رسالتمآب ﷺ کا پیغام رسالت پہنچانے میں اور حقیقی اسلام کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اسی طرح امام جعفر صادقؑ نے اپنے آباء طاہرین کے بعد شرعی وقانونی طور پر امامت کی ذمہ داری سنبھالی اپنے زمانہ میں علم و معرفت کی بلندیوں پر امتیازی شان و شوکت کے ساتھ فائز ہوئے . جس کے نتیجہ میں آپ ؑ کے ہمعصر تمام علماء نے آپؑ کی عظمت و جلالت کے سامنے سر تسلیم خم کر دئیے۔ اسی طرح علماء آپ کو علم کا بحر زخّار مانتے تھے اور ایسا امامؑ جانتے تھے کہ جن کے علم و معرفت کے بارے میں کسی نے اختلاف نہیں کیا اور آپ نے ان تمام علوم کوجن سے اس وقت تک لوگ واقف یا نا واقف تھے اپنے معاصرین کو روشناس کر وایا وہ انھیں یکتائے روزگاراستادتسلیم کرتے تھے۔
آپ کے زمانے کے تمام مسلمان چاہے اہل علم ہوں یا غیر اہل علم کا عقیدہ یہ تھا کہ جعفر بن محمدؑ یادگار نبوت کے فرد اور خاندان اہل بیت کے عظیم پیشوا ہیں کہ جن سے اللہ تعالی نے ہر قسم کی نا پاکی دور رکھا ہے ۔
امام جعفر صادقؑ تقریبا چار دہائیوں تک اموی حکومت کے ہم عصر تھے اور انہوں نے بنی امیہ کے ظلم وجور اور خوف و ہراس سے بھرے ماحول نیز ان کی قساوت قلبی اور بربریّت کا مشاہدہ کیا کہ جو ملت مسلمہ کے خلاف عام طور پر اور اہل بیت پیغمبر ﷺنیز ان کے شیعوں کے خلاف خاص طور پر مشہور تھی۔
اس وجہ سے آپ اپنے زمانے میں حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ظلم و ستم کے خلاف جہاد کے علمبردار بھی تھے جس کے خلاف اہل بیت علیہم السلام نےہر دور میں آواز بلند کی اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام نے ہر دور میں کھل کر بغیر تقیہ کے اپنی امامت و خلافت یعنی جانشینی رسول خدا ﷺ کا اعلان کیا کہ پیغمبر کے بعد ہم ہی اس عہدہ کے حقیقی وارث ہیں۔
فطری بات تھی کہ ا نقلاب امام حسین ؑ کے بعد اہل بیتؑ اطہار ہی امت مسلمہ کے لئے مقدّم اور ہر دل عزیز قیادت و رہبری کے مالک ہوں ، لہذا اسی بنیاد پرسے بنی عباس نے مختلف گروہ بنا کر اہل بیتؑ کے نام سے تحریکیں شروع کیں اور رضائے آل محمد ؐ نیز خلافت ذرّیت فاطمہؑ بنت رسول اللہؐ کے نعروں سے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دی۔
بے شک امام جعفر صادقؑ نے ان تحریکوں کے خلاف کھل کراقدام نہیں کیا تاہم ان پر بنی عباس کے ان نعروںکابھی کوئی اثر نہیں ہواجن کے ذریعه انہوں نے بنی امیہ کی حکومت کے خاتمہ کے بعد قبضہ کے لیے تحریک شروع کی تھی یقیناً بنی امیہ کی حکومت ظلم وجور اور مسلمانوں کے درمیان عام ناراضگی کی وجہ سے تباہ ہوئی، بنی امیہ کی سلطنت ۱۳۲ھ؁ میں زوال پذیر ہوئی ، پھر خلافت بنی عباس میں منتقل ہوئی اور امام جعفر صادقؑ نےتقریبا دس کا عرصه ابو العباس سفاح اور کچھ دن منصور دوانقی کے دور حکومت میں گزارے ۔
امام جعفر صادقؑ ظاہری سیاسی نزاع و اختلاف سے دور رہے تاکہ ملت اسلامیہ کی علمی، فکری، اعتقادی اور اخلاقی اعتبار سے تربیت کریں کیو نکہ آ پ آنے والے زمانے تک کے لئے اسلامی نہج کو یقینی بناتے ہوئے اس کی داغ بیل ڈال رہے تھے تاکہ مستقبل بعید تک اس کے اثرات باقی رہیں اور یہ سلسلہ تیزی سے آگے بڑھتا رہے حالانکہ سیاسی اور فکری انحرافات اسلامی معاشرہ کے درمیان رائج ہو چکے تھے۔
معتزلہ ، اشاعرہ ، خوارج، کیسانیہ اور زیدیہ جیسے نام نہاد ا سلامی فرقے آپ ہی کے زمانہ میں پھیلے اور ان کے درمیان اسلام کو نقصان پہچانے والے اختلافی بحث و مباحثے شدت کے ساتھ رونما ہوئے اور اسی طرح زندیق و کافر بھی اسلامی معاشرہ کو خراب کر رہے تھے لهذا امام نے ملحدین و کافرین کے افکار کی تردید اور گمراہ فرقوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ذمہ داری قبول کی ۔
امامؑ چاہتے تھے کہ ایک ایسے نیک اور صالح معاشرہ کی اساس اور بنیاد رکھیں جو امت اسلامیہ میں اہل بیتؑ کے نقش قدم پر گامزن رہے اسی طرح اہل بیت (ع)کی تعلیمات کی روشنی میں ایک ایسی همه گیر بین الاقوامی علمی درسگاه کی بنیاد رکھی جائے جس میں علماء کی مختلف علوم و فنون میں پرورش ہو بالخصوص ایسے علماء دین کی جو مستقبل قریب اور بعید میں امت کی سلامتی کے ضامن ہوں تاکہ علماء دین میں وہ جذبہ اور جرائت پیدا ہو جس کی بنیاد پر وہ حاکمان ظلم و جور کے مقابل انقلابی امور انجام دے سکیں۔
امامؑ نے انقلابی اور جہادی تحریک کی تائید کی اور ان کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے جیسے اپنے چچا زید بن علی بن الحسین (علیہما السلام ) اور اسی طرح علوی خاندان سے رونما ہو نے والی دوسری سب انقلابی تحریکوں کی تائید کی ۔
عظیم اسلامی درسگاه کا قیام
امام صادق ؑ نے علمی مرکز اور عالمی درسگاه کی ارتقا کا عمل جاری رکھا اور اسے تکمیل کے مراحل تک پہنچایا جس کی بنیاد آپ سے پہلےآپ کے آباؤ اجدادنے رکھی تھی اور آپ نے اس کے ذریعہ عالمی سطح پر اس فکر کو منتقل کیا جس کے نتیجہ میں بلاد اسلامی کے تمام مسلمانوں نے اس کا پر جوش استقبال کیا اور علم کے تشنہ لوگ اس چشمہ سے سیراب ہوئے، کیونکہ یہ ان کی دلی خواہش تھی اور اس عظیم درسگاه کے قیام سے اس دور کے اسلامی معاشرے میں جو خلا تھا وہ اس علمی مرکز سے پُر ہو ا۔
عظیم عالمی درسگاه کی بعض خصوصیات
1- امام صادق ؑ کی عظیم عالمی درسگاه اور مکتب فکر کی دوسرے مکاتب اور مدارس سے ممتاز خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ امام صادقؑ نے صرف اپنے موالیوں اور چاہنے والوں کو اس مکتب سے روشناس نہیں کرایا بلکہ اس مدرسہ اور مکتب فکر کو کھلا رکھا تاکہ مختلف افکار کے طالب علم بھی شامل ہو جائیں ، ابو حنیفہ جو امامؑ کی راہ وروش کا مخالف تھا اس لئے کہ اس نے قیاس پر چل کر اپنا ایک مسلک بنا لیا تھا جو اس بات کا موجب ہوا کہ امامؑ اور آپ کے اصحاب کا شدّت سے انکار کرنے لگا اور مومن طاق( جو امام ؑ کا خاص صحابی تھا کو شیطان طاق کہا) اس سب کے باوجود امام صادق ؑ کی خدمت میں آمد و رفت بھی رکھتاتھا اور آپ سے بہت سے مسائل دریافت کرتا تھا ، اس نے امام صادق ؑ سے حدیث بیان کی اور مدینہ میں امامؑ کے زمانہ میں کچھ مدّت ان کے ہمراہ زندگی گذاری اور زید بن علی کے قیام کی مدد کی ان کے ہمراہ بادشاہ وقت کے خلاف خروج کرنے میں شریک تھا اور کہا کرتاتھا : زید کی ہمراہی میں جنگ کے لئے نکلنا روز بدر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ میں جانے کے مترادف ہے۔
2- امام صادق ؑ کی عظیم درسگاه کا آغاز انسانی اور اسلامی معارف کے شعبوں سے ہوا جس میں قرآن ، حدیث ، فقہ ، تاریخ ، اصول ، اعتقاد ، کلام اور اسلامی فلسفہ کا اہتمام تھا۔ اس طرح دوسرے علوم کا بھی اہتمام کیا گیا جیسے علم فلکیات ،علم طب، علم حیوانات ، نباتات ، کیمیا، ( کیمسٹری) طبیعات وغیرہ ۔
3- امام صادق ؑکی علمی درسگاه کبھی بھی حکومت اموی یاعباسی سے وابسته نہ رهی اور نہ ہی اس دور کی چاہے اموی حکومت ہو یا عباسی حکومت کا اتباع کیا اور نہ ہی ان حکومتوں کی پالیسیوں میں ملوّث ہوئے اور نہ ہی حکاّم جور کا آلۂ کار بنے بلکہ امت نے دیکھا کہ یہ مکتب اور یہ درسگاه اپنے استقلال کو محفوظ رکھتے ہوئے روزبروز عروج کی منزل پر جلوہ گر رهی بالخصوص اس زمانہ میں سب دیکھ رہے تھے که اس یونیورسٹی کے بانی ، وارث علم نبوت اور عظیم تفکر نبوی کے علمدار ہیں اور وہ عظیم شخصیت حضرت ابو عبد اللہ صادق ؑ آل محمد ہے جو اپنے تمام موقف اور استقامت میں صدق و صداقت کے عنوان سے معروف ہیں یہاں تک کہ انھیں صادق کے لقب سے نوازا گیا کیونکہ آپ عظیم اخلاق پر فائز تھے اور کبھی بھی منحرف حکمرانوں کی سیاست کے مقابلہ میں ہار نہیں مانی ۔
یہیں سے آپ کی علمی یونیورسٹی نے ایک سیاسی و فکری مستحکم قلعہ کی شکل اختیار کی کہ جس میں طالبان حق وحقیقت نیز اپنی ذمہ داری کو سمجھنے والے افراد باطل فکری و سیاسی تحریکوںسے تنگ آکر وہاں پناہ گز یں ہوتے تھے ۔
4- ۔امام صادق ؑ کی علمی درسگاه اپنی صحیح و سالم حکمت عملی اور عمیق فکرسے بہرہ مند ہونے کی وجہ سے بھی ممتازتھی اور علمی صلاحیت اور تربیت کے لحاظ سے اس کی روش صرف ذہنی حد تک محدود نہیں تھی بلکہ عملی اعتبار سے عمیق فکر، حقیقی رشد و ہدایت اور علمی توانائی کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی اس کو ایک ممتاز حیثیت حاصل تھی اور اس پہلو کو اس مکتب میں بنیاد اور اساس سمجھا جاتا تھا۔
5۔ نبوی مکتب فکر کی اس علمی درسگاه سے علم و تقویٰ اور استقامت کے عملی نمونہ فارغ التحصیل ہوئے جنہوں نے امت کی اصلاح اور معاشرہ کے لئےدینی معلومات اور فکری تربیت کی. امام کے شاگردوں نے علمی مہارت سے جدّت پسندانه اقدام کئے تھے اور اسی حوالے سے پہچانے گئے نیز یہی وہ ہستیاں اپنے کردار کی بدولت امام صادقؑ کی درسگاه سے منتسب ہوئے او رپہچانے گئے چنانچہ اس مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کے لئے فخر و مباہات کا مقام تھا کہ امام صادق ؑ کے شاگردوں میں ان کا شمار ہوجن کی تعداد چار ہزار سے زائدتھی ۔
6۔ امام صادق ؑ کی درسگاه کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے بعد والے زمانہ میں وسعت اختیار کی اور کوفہ ، بصرہ ، قم نیز مصر میں اس کی متعدد شاخیں وجود میں آئیں ۔
7۔ امام صادق ؑ نے اپنے اس مکتب فکر اور درسگاه کو اصلاحی تحریک سے الگ نہیں رکھا بلکہ یہی علمی مرکز آپ کے اصلاحی پروگرام کا ایک حصہ تھاکیونکہ اس سے حقیقت میں ایسی فضاپیدا ہوئی جس میں نیک اور صالح افراد کی تربیت کرنے کے لیے مناسب موقع ملا اور اس کے ساتھ ہی آپ کو امت کے عام افراد کی تربیت کا موثر موقع بھی فراہم ہوااور اس کے مثبت سیاسی نتائج بھی ہمیں نظر آ تے ہیں کیونکہ آپ کے علمی مراکز میں تریبت حاصل کرنے والے اکثر افراد امامؑ کی خاص سر گرمیوں میں بھی ہاتھ بٹاتے تھے۔
8۔ امام صادق ؑ کی درسگاه اس حیثیت سے بھی نمایاں اورممتازتھی کہ اس کےبراہ راست مآخذ تشریع ( قانون گذاری ) اور معرفت کے مآخذو مصادر سے رابطہ رہا ہے اور وہ ماخذ و مصدر قرآن مجید اور سنت پیغمبرؐ تھے کہ جس کی مثال کسی عصر اور زمانے میں نہیں ملتی ۔
اس مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ امام صادق ؑ کس قدر شدت اور اشتیاق رکھتے تھے کہ اس مکتب فکر اور درسگاه کے اندرحدیث کی تدوین وجمع آوری اور اس کے مضمون کو سمجھنے کے حوالے سے وسیع سر گرمیاں عمل میں آئیں کیونکہ ایک عرصہ سے حدیث نبوی تحریف ونابودی اور منحرف افکار کے سوء استفادہ کا ہتھکنڈہ بن چکی تھی مزید اس کی جمع آوری پر پابندی عا ئدہو چکی تھی لیکن ان تمام نعروں کے باوجود جو حکومتوں کی طرف سے بلند ہوتے تھے اور حکومت کے سر براہ افراد حدیث کی جمع آوری کے سلسلہ میں جو رکاوٹ ایجاد کرتے تھے اس کی بنیادی وجہ قرآن کو تحریف سے محفوظ رکھنے کا عنوان دیتے تھے،پھر بھی ائمہ معصومینؑ میں سے کسی ایک نے بھی حدیث کی جمع آوری کی ممانعت اور پابندی کی کوئی پروانہیں کی۔
حالانکه تدوین حدیث سے ممانعت کا واقعی مقصد یہ تھا کہ احادیث نبوی کو ختم کیا جائے اور سنت پیغمبر ﷺ کو مٹایا جائے اور اس کے علاوہ احادیث نبوی میں جو امت کے لیے اہل ؑبیت سے محبت اور رابطہ کی تاکیدکی گئی لوگ اس سے آگاہ نہ ہوں لہذا حکمرانوں کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اہل ؑبیت سے جدا رکھا جائے کیونکہ یہ حدیثیں جو اہل بیتؑ کے درمیان رابطہ کی تاکید کریں گی تو امت ظالموں اور جابر حاکموں کی تقلید اور ان کے احکام کی پابندی سے دور ہو جائے گی جیسا کہ
امام صادق ؑنے ارشاد فرمایا :
’’علمنا غابر، ومزبور و نکت فی القلوب ونقر فی الاسماع و انّ عندنا الجفر الاحمر،والجفر الابیض، و مصحف فاطمۃ (علیہا السلام ) و عندنا الجامعۃ فیھا جمیع ما یحتاج الناس الیہ ‘‘
“ہمارے پاس قدیم الایام سے علم و دانش تھا اور قیامت تک رہے گا جب سے خدا نے ہمارے نور کو خلق کیا ہمارا علم اپنے علم کے ساتھ متصل رکھا ”
’’ہمارے پاس علم مستقبل اور علم مکتوب ہے جو دلوں میں بیٹھ جاتا ہے لوگوں کی سماعتوں پر دستک دیتا ہے ہمارے پاس جفر احمر جفر ابیض اور مصحف فاطمہ ہے اور ہمارے پاس کتاب جامعہ ہے جس میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہوا کرتی ہے‘‘۔
9۔ امام صادق ؑ کی درسگاه اس حیثیت سے بھی ممتاز قرار پائی کہ اس نے عمومی سطح پر تدوین حدیث کا اہتمام کیا بلکہ اس کی ترقی اور بقا کے لئے کتابت حدیث اور نشر و اشاعت کا سلسلہ شروع کیا تاکہ اس نشر و اشاعت اور کتابت کے ذریعہ علمی پیشرفت حاصل ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری و ساری رہے ۔
امامؑ اپنے شاگردوں کو حدیث لکھنے کا حکم دیتے تھے اور ان سے تدوین اور کتابت کی تاکید فرماتے تھے ۔ چنانچہ اس بارے امام ؑ فرماتے ہیں :
’’احتفظوا بکتٰبکم فانّکم سوف تحتاجون الیہا‘‘
’’اپنے مکتوبات ( نوشتہ جات ) کی حفاظت کرو اس لئے کہ عنقریب تمہیں اس کی ضرورت ہو گی‘‘۔
امام ؑ نے زرارہ کی حدیثی فعاّلیت وسرگرمی کو استحکام بخشا آپ فرماتے تھے :
’’رحم اللّہ زرارۃبن اعین لو لا زرارۃ لا ندرست احادیث ابی ‘‘
’’اللہ تعالی زرارہ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اگر زرارہ نہ ہوتے تو میرےوالد بزرگوار کی حدیثیں باقی نہ رہتیں ‘‘۔
اماؑم نے زرارہ اور اپنے اصحاب کے متعلق جن میں ابو بصیر ، محمد بن مسلم اور بریدعجلی تھے فرمایا:
’’لو لا ھولاء ما کان احد یستنبط ھذا الفقہ ، ھولاء حفّاظ الدین و امناء ابی (علیہ السلام) علی حلالہ و حرامہ و ھم السابقون الینا فی الدنیا والآخرۃ ‘‘
’’اگر یہ شخصیات نہ ہوتیں تو فقہ سے متعلق کوئی شخص احکام الٰہی کا استنباط و استخراج نہیں کر سکتا تھا یہی وہ افرادہیں کہ جو دین کے محافظ ہیں اور میرے والد گرامی کے تعلیم کردہ حلال و حرام کے امین ہیں نیز یہی لوگ میری طرف دنیا و آخرت میں سبقت کرنے والے ہیں‘‘۔
امامؑ اپنے شاگردوں کو بھی درس و تدریس اور بحث و مباحثہ کا حکم دیتے تھے امام ؑ نے مفضل بن عمر سے فرمایا :
’’اکتب و بثّ علمک فی اخوانک فان متّ فأورث کتبک بنیک ، فانہ یاتی علی الناس زمان ھرج لا یانسون فیہ الاّ بکتبھم‘‘
’’جو حدیث سنو اسے لکھ لو اور اپنے بھائیوں کے درمیان اس علم کو نشر کرو اگر تم مرنے لگو تو اپنا علم اپنی اولاد میں بطور میراث چھوڑ جائوکیونکہ ایک زمانہ ایساپر آشوب آنے والا ہے کہ جس میں لوگوں کو صرف کتابوں سے ہی سکون ملے گا ‘‘۔
اسی بنیاد پر صحابہ نے احادیث کی کتابت اور اس کی تدوین کا اہتمام کیا اور یہ تالیفات سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ مشہورو معروف اصول اربع مأۃ[یعنی چار سو بنیادی کتابیں]وجود میں آئے اور جو حدیث کی ابتدائی اور جامع کتابیں شیعہ امامیہ کے نزدیک سمجھی جاتی ہیں وہ انہیں چار سو اصول سے تشکیل پائی ہیں۔
10۔ایک اہم چیز جس کے ذریعہ امام صادقؑ کی درسگاه کو امتیازی حیثیت حاصل ہوئی وہ اسلامی فکری ارتقا ہے جو خاص علمی تخصص ( مہارت ) کے ضمن میں اسلامی علوم کی مختلف فروعات کی شکل میں ترقّی کی راہ پر گامزن ہونا ہے ہم عنقریب اس امتیاز کی طرف تفصیلی اشارہ کریں گے ۔(جاری ہے)

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=18300