1

امام جعفر صادق ؑ کی شخصیت اور علمی کارنامہ( دوسری قسط)

  • News cod : 18493
  • 11 ژوئن 2021 - 11:30
امام جعفر صادق ؑ کی شخصیت اور علمی کارنامہ( دوسری قسط)
امامؑ نے اپنے شاگردوں کو مصادر تشریع ( قانون گذاری ) سے استنباط احکام کی کیفیت کی تعلیم دی جس طرح انہیں متعارض اور متضاد حدیثوں کے سلسلے میں اختیار کی جانے والی روش کی بھی تعلیم دی۔

امام جعفر صادق ؑ کی شخصیت اور علمی کارنامہ( دوسری قسط)
تحریر : حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمد حسن نقوی

امام ؑصادق کی درسگاه کے مختلف علمی و تخصصی شعبه جات
امام ؑ اس مرحلہ میں علمی تخصص کی طرف متوجہ ہوئے آپ کا اسلامی فکری ارتقا میں خاص کردار رہاہے اور اپنی درسگاه میں تمام علوم کے مختلف شعبه جات میں جدیت کے لیے بھر پور توانائی صرف کی اور یہی وجہ تھی کہ اماؑم نے اپنے شاگردوں کو ایک خاص علمی تخصص (مہارت) کی طرف متوجہ کیااور خود اس کی نظارت کی ذمہ داری قبول فرمائی اور جدیداعتراضات کا جواب دے کر افراد علمی تشنگی کو رفع کرتے تھے اورمسائل کے حل کا شیوہ سمجھاتے لھذا اس درسگاه کی صورت میں علمی تحریک کا سلسلہ امام ؑ پر ختم ہوتا ہے۔ اس مختصربحث میں ہم ان تمام علوم کے مختلف شعبہ جات کا احاطہ نہیں کر سکتے ،ہاں صرف بعض مندرجہ ذیل نمونوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں:
{الف}۔شعبہ طب : امام صادق ؑ سے انسانی اعضاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالی نے انسان کے جسم میں بارہ جوڑ ، چالیس ہڈیاں اور تین سو ساٹھ رگیں پیدا کی ہیں چنانچہ رگیں تمام جسم کو سیراب کرتی ہیں ، ہڈیاں بدن کو سنبھالتی ہیں اور گوشت ان ہڈیوں کو سنبھالتا ہے ، پھر اعصاب ( پٹھّے ) اس گوشت کو سنبھالتے ہیں ۔اللہ تعالی نے دونوں ہاتھوں میں بیاسی ہڈیاں خلق کی ہیں ہر ہاتھ میں اکتالیس ہڈیاں ہیں ہتھیلی میں پینتیس ہڈیاں ، کلائی میں دو ہڈیاں، بازو میں صرف ایک ہڈی ہے اور کاندھے میں تین ہڈیاں ہیں۔ اس طرح ان کی مجموعی تعداد اکتالیس ہڈیاں اور اتنی ہی دوسرے ہاتھ میں بھی ہیں ، پائوں میں تینتالیس ہڈیاں ہیں اس طرح کہ پائوں کے پنجے میں پینتیس ہڈیاں ،پنڈلی میں دو ، گھٹنے میں تین ، ران میں ایک ، سرین (کولہے ) میں دو عدد ہیں اور اتنی ہی ہڈیاں دوسرے پائوں میں بھی ہیں ۔پھر ریڑھ کی ہڈی میں اٹھارہ گرہیں اور اس کے ہر ایک طرف نو پسلیاں ہیں ، پھر گردن میں آٹھ اور سر میں چھتیس ، منہ میں اٹھائیس اور کبھی بتیس ہڈیاں ہوتی ہیں ۔ (۱)
شیخ مرزا محمد خلیلی کہتے ہیں :خدا کی قسم! یہ تعداد اور اس کا عددی شمار بعینہ وہی ہے جو اس زمانہ میں تشریح الاعضاء کے ماہرین نے بتایا ہے ۔ اس میں نہ ایک زیادہ ہے اور نہ ہی ایک کم ہے ۔ (۲)
امام صادق ؑنے جسم میں خون کے دوران(گردش خون) کی کیفیت کی وضاحت فرمائی کہ جسے سب سے پہلے انھوں نے مفضل بن عمر سے اپنی گفتگو میں بتایا ، اور اس کی طرف ڈاکٹر ہاروی نے سبقت کی جو خون کے دوران (گردش خون) کا انکشاف کرنے والے کے نام سے مشہور ہوئے۔
امام ؑنے ارشاد فرمایا:’’اے مفضل !بدن کی غذا اور اس میں مخفی تدبیر کے متعلق غور و فکر کرو ، ابتدا میں غذا معدہ تک پہنچتی ہے ،معدہ اس کو پختہ کر کے ہضم کرتا ہے ، اس وقت اس کا نچوڑ ( ما حصل ) بہت ہی نازک اور باریک نلی کے ذریعہ جو ایک فلٹرکی مانندہے جگر تک پہنچتا ہے یہ باریک نالی اس لئے ہے کہ کبھی کوئی سخت اور غلیظ چیز اس میں نہ جائے کیونکہ جگر بہت ہی لطیف اور نازک ہے جو فشار اور سختی کوبرداشت نہیں کر سکتا جگر اسے قبول کرتا ہے اور خدائے حکیم کی تدبیر سے اسے خون میں تبدیل کر دیتا ہے پھر رگوں اور نالیوں کے ذریعہ تمام بدن میں جاری ہوتا ہے جس طرح زمین میں چشمہ جاری ہوتا ہے جو پانی کو ہر جگہ پہنچاتا ہے ، نیز زائد اور آلودہ مادّوں کو اپنے خاص ظرف میں رکھا جاتا ہے جو کچھ صفرہ میں ہے اسے صفرہ کی تھیلی میں رکھاجاتا ہے اور جو کچھ سودا کی تھیلی میں ہے اسے سودا کی تھیلی میں رکھا جاتا ہے اور جو کچھ رطوبت مثانہ کی طرف جاتی ہے۔ ای مفضل! بدن کی ترکیب میں حکمت الٰہی کے بارے میں تدبر ّاور غور و فکر کرو کہ کیسے ہر عضو کو اپنے مقام پر رکھا ہے اور ان ظروف ( اعضاء ) کو ایسا رکھا ہے کہ اگر زائد اور فاسدمادّے اس کے پاس جمع ہو جائیں تو یہ مادے تمام بدن میں منتشر نہیں ہوتے کہ جسم مریض ہو جائے، پس وہ کتنا بلند مرتبہ والا ہے جس نے اپنے بہترین اندازے اور نیک تدبیر سے اسے محکم بنایا ہے ۔ (۳)
{ب}۔ حفظان صحت : امامؑ نے امراض ’مسریہ سے خبردارکیا ہے اور اس بات کی نصیحت فرمائی جو افراد جذام میں مبتلا ہوں ان کے ساتھ مل کر نہ بیٹھو اور اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا :
’’لا یکلّم الرجل مجذوماً الّا ان یکون بینھما قدر ذراع ‘‘ (۴)
’’مجذوم ( کوڑھی) شخص کے ساتھ کوئی شخص گفتگو نہ کرے مگر یہ کہ دونوں میں ایک ذراع کا فاصلہ ہو‘‘ جدید طب میں وارد ہوا ہے کہ جذام کے جراثیم فضا میں ایک میٹر ( مربع) سے زیادہ کے فاصلہ تک منتشر ہوتے ہیں ۔
نیز امامؑ نے فرمایا:
’’کلّ داء من التخمۃ‘‘ (۵)
’’ہر مرض پر خوری سے پیدا ہوتا ہے‘‘ ۔
امامؑ نے فرمایا:’’ اغسلوا ایدیکم قبل الطعام و بعد ہ ‘‘ (۶)
’’کھانا کھانے سے پہلے اور اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو دھو لیا کرو ‘‘۔
کیونکہ کھانے سے پہلے ہاتھوں کو دھونے سے ممکنہ جراثیم بے اثر ہو جاتے ہیں اور کھانے کے بعد ہاتھوں کو دھونا پاکیزگی اور صفائی میں شمار کیا جاتا ہے ۔
{ج}۔ علم حیوانات :امام صادق – نے چیونٹی کی بادشاہت کے بارے میں فرمایا : [اے مفضل!] چیونٹی کے معمولی جثہّ کی طرف دیکھو اور حکمت الٰہی پر غور کرو کہ کیسے وہ اپنی غذا مہیا اورجمع کرتی ہے یقینا تم دیکھتے ہو جب ان کا گروہ دانے کو اپنی بل سے ایک جگہ سے دوسری خشک جگہ لے جاتا ہے تو ایسا محسوس ہو تا ہے جیسے لوگوں کا ایک گروہ اپنی غذا منتقل کررہاہے یا غذا کے علاوہ دوسری شئے منتقل کرتا ہے بلکہ چیونٹی کے لے جانے میں زیادہ محنت اور حوصلہ پایا جاتا ہے جو ہم جیسے انسانوں میں نہیں ہوتا ، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ آپس میں کسی شئے کے منتقل کرنے میں باہمی تعاون کرتی ہیں جس طرح لوگ کسی کام میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں پھر وہ دانے کا قصد کرتی ہے اور انھیں توڑ دیتی ہے تاکہ وہ نہ اْگے اس طرح کہ وہ فاسد ہو کر انھیں ضرر پہنچائے ،اگر اس دانے کو کوئی رطوبت لگ جائے تو اسے اپنی بل سے نکال کر پھیلا دیتی ہے تاکہ وہ خشک ہو جائے پھر اسے خشک جگہ پر دانے منتقل کرتی ہے ۔چیونٹیاں اکثر و بیشتر اپنے گھر بلند مقامات پر بناتی ہیں تاکہ سیلاب آکر انھیں غرق نہ کر دے یہ سب کچھ وہ بغیر عقل و فکر کے انجام دیتی ہے بلکہ انھیں اللہ تعالی نے اپنی مصلحت کے تحت خلق کیا ہے۔ (۷)
امامؑ نے اور بھی دوسرے تمام علوم کے بارے میں گفتگو فرمائی : جیسے علم نبات (گیاہ شناسی)، علم فلک ، علم کیمیا ( کیمسٹری ) علم طبیعات اور جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والاعلم (۸)جس طرح آپ نے علم فلسفہ ، کلام ،مباحث امامت و سیاست ، معرفت ، فقہ ، اصول فقہ ، حدیث، تفسیر اور تاریخ کے سلسلہ میں گفتگو کی ۔
امام صادق ؑ کی درسگاہ کے مختلف شعبہ جات کے بعض ماہرین
ماہرین علم کلام
امام ؑکے شاگردوں میں سے علم کلام میں مہارت رکھنے والوں میں سے منجملہ :ہشام بن حکم ، ہشام بن سالم ، مومن طاق ، محمدا بن عبدللہ طیاراور قیس ماہر وغیرہ ہیں ۔
ماہرین فقہ، اصول فقہ اور تفسیر
فقہ، اصول فقہ اور قرآن کریم کی تفسیر میں تخصص ( مہارت ) رکھنے والے جیسے : زرارہ بن اعین ، جمیل بن درّاج ، برید بن معاویہ ، اسحاق بن عماّر، عبد اللہ حلبی ، ابو بصیر ، ابان بن تغلب، فضیل بن یسار، ابو حنیفہ، مالک بن انس ، محمد بن حسن شیبانی ، سفیان بن عیینہ ، یحيٰ بن سعید اور سفیان ثوری جیسے افراد قابل ذکر ہیں۔
ماہرین علم کیمیا
جس طرح علم کیمیا ( کیمسٹری ) کے ماہر جابربن حیاّن کوفی ہیں ۔
ماہرین علوم طبیعیات
ہستی شناسی وجود باری کے متعلق تخصص حاصل کرنے والے مفضّل بن عمر ہیں کہ جنھیں امام صادق – نے مشہور و معروف کتاب ( توحید مفضل ) لکھوائی ۔
امام ؑ کی یونیورسٹی کے طالب علموں نے اپنی علمی سرگرمیوں کے نتائج میں ہر ایک نے اپنے تخصص کے لحاظ سے کتابیں تالیف کیں اور مناظرے کئے جس کی دلیل وہ کتاب ہے کہ جسے سید حسن صدر نے شیعوں کی تالیفات کے عنوان سے اس زمانہ میں جمع کیا ہے اور انہوں نے ان کی اس زمانہ کی مجموعی تعداد چھ ہزار چھ سو کتاب ذکر کی ہے ۔ (۹)

ماہر علم مناظرہ
علم مناظرہ میں ہشام بن حکم کی شخصیت نمایاں نظر آتی ہے امام صادق – ہشام کے مناظروں سے بہت خوش تھے جب آپ نے ان کا وہ مناظرہ سنا جو مذہب معتزلہ کے سرپرست اعلیٰ (عمرو بن عبید )کے سا تھ انجام پایا تھا اور جب امامؑ کو ہشام کی کامیابی کی خبر موصول ہوئی تو ان سے دریافت فرمایا : ’’یا ہشام من علّمک ھذا ‘‘ اے ہشام !تمہیں یہ کس نے تعلیم دیاتھا ؟جواب دیا: اے فرزند رسول ﷺ !میری زبان پر وہ مطالب جاری ہو گئے ۔
امامؑ نے فرمایا :’’ ھذا واللّہ مکتوب فی صحف ابراہیم و موسیٰ ‘‘’’خدا کی قسم! یہی صحیفۂ ابراہیم اور موسیٰ میں تحریرہے ،،۔
اس کے علاوہ وہ عظیم مقاصد جن کا امامؑ نے اپنی درسگاہ میں دوسرے علمی تخصص کے ساتھ منہج معین کیا تھا ایک یہ تھا کہ خاص فقہی اجتہاد کی کوشش و سرگرمی کو دین میں عام فقاہت کی شکل دے کر فروغ دیا جائے۔
یہیں سے ہم بنیادی فقہی اجتہاد اور احکام شریعت کے استنباط و استخراج ( انکشاف ) کی اصل حقیقت کو درک کرلیتے ہیں جو آج اس دور میں بہت سی علمی کاوشوں کے ذریعہ فقہ و اصول ، فقہ اور حدیث کی کتابوں کی شکل میں موجود ہے ان کتب کی حقیقت اصل میں مکتب اہل بیت اور وحی سے حاصل ہونے والے ارشادات ہیں کہ جنہیں فقہاء نے فقہ میں بغیر رائے اور استحسان کی مداخلت کے مبنا اجتہاد قرار دیا ہے ۔
امام صادق ؑ نے ارشاد فرمایا:
’’حدیثی حدیث ابی و حدیث ابی حدیث جدّی،و حدیث جدّی حدیث الحسین و حدیث الحسین حدیث الحسن و حدیث الحسن حدیث امیر المومنین و حدیث امیر المومنین حدیث رسول اللّٰہ و حدیث رسول اللّہ قول اللّہ عز و جلّ ‘‘ (۱۰)
’’میری حدیث میرے والد گرامی کی حدیث ہے اور میرے والد ماجد کی حدیث میرے جد کی حدیث ہے اور میرے جد کی حدیث حسین کی حدیث ہے اور ان کی حدیث حسن کی حدیث ہے اور حسن کی حدیث امیر المومنین علی کی حدیث ہے اور امیر المومنین علی کی حدیث رسول اللہ کی حدیث ہے اور رسول اللہ کی حدیث خدا ئے عز وجل کا ارشاد گرامی ہے ‘‘۔
امام صادق ؑنے ارشاد فرمایا :
’’ انّا لو کناّ نفتی الناس براینا و ھوانا لکناّ من الھالکین و لکناّ نفتیھم بآثار من رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ ) و اصول علم عندنانتوارثھا کابر عن کابر نکنزھا کما یکنز ھو لاء ذھبھم و فضّتھم ‘‘ (۱۱)
’’ہم اگر لوگوں کو اپنی رائے اور ہوا و ہوس سے فتوی دیتے تو ہم ہلاک ہونے والوں میں سے ہوتے لیکن ہم تو رسول اللہ ﷺکے آثار ( احادیث ) کے ذریعہ لوگوں کو فتوی دیتے ہیں ،وہ اصول اور وہ علم جو ہمارے پاس ہے جسے ہم اپنے بزرگوں سے نسلا بعد نسل ارث میں پاتے ہیں اسے ہم اپنا خزانہ بناتے ہیں جس طرح یہ لوگ اپنے سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں ہم بھی اس طرح ان علوم کو ذخیرہ کر کے اس سے لوگوں کو فتوا دیتے ہیں ‘‘۔
یقینا کتب اصول فقہ نے استنباط واستخراج احکام کے قواعد بیان کرنے کی کفالت اور ذمہ داری لی ہے اور اس کے طریقوں کوبھی بیان کیا ہے کہ ان کا رابطہ ان کی تدوین شدہ احادیث کے ساتھ کیا ہوگا جو عام حدیث اور اس کے اصول کے مجموعہ میں موجود ہے ۔
امامؑ نے اپنے شاگردوں کو مصادر تشریع ( قانون گذاری ) سے استنباط احکام کی کیفیت کی تعلیم دی جس طرح انہیں متعارض اور متضاد حدیثوں کے سلسلے میں اختیار کی جانے والی روش کی بھی تعلیم دی۔ امامؑ نے ان حدیثوں کے بارے میں فرمایا : جو قرآن کریم کے ساتھ متعارض اور متضاد ہیں :
’’ما لم یوافق من الحدیث القرآن فھو زخرف ‘‘ (۱۲)
’’جو حدیث قرآن سے موافقت نہ رکھتی ہو وہ بے بنیاد ( جھوٹی ) ہے،، ۔

………………………………….
1۔ المناقب ، ج۴ ص ۲۵۶، بحار الانوار، ج۱۴ ص ۴۸۰۔
2۔ طب الامام الصادقؑ ص ۳ ۔
3۔ بحار الانوار ، ج۳ ص ۵۷، کتاب توحید مفضل بن عمر جعفی کی نقل کے مطابق۔
4۔ وسائل الشیعہ ، ج۲ ص ۲۰۸۔
5۔ بحار الانوار، ج۶۳ ص ۳۳۶۔
6۔ بحار الانوار، ج ۶۳ ص ۳۵۶۔
7۔ توحید مفضل ، ص ۶۶ ، بحار الانوار ، ج۳ ص ۶۱۔۶۲، ۱۰۲۔
8۔ ملاحظہ ہو : حیاۃ الامام الصادق شیخ باقر شریف قرشی ، ج۲ ص ۲۸۹، اور اس کے بعد کے صفحات میں
9۔ تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام ، ص ۲۸۸۔
10۔ اصول کافی ، ج ۱ ص ۵۳۔۵۸۔
11۔ بصائر الدرجات، ص۳۰۰
12۔ وسائل الشیعہ، ج۱۸، س ۷۸

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=18493