1

حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کا انٹرویو |قسط 2

  • News cod : 19688
  • 18 جولای 2021 - 16:54
حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کا انٹرویو |قسط 2
آپ کی شخصیت اور آپ کی خدمات سے آشنائی بہت ضروری ہے آپ کے زندگی بھر کے علمی تجربات اور آپ کے حکیمانہ ارشادات ، نئی نسلوں کے لئے بھی چراغ راہ ہوں گے۔

آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی صاحب پاکستان کے مرکزی شیعہ دینی درسگاہ حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور کے پرنسپل ہونے کے علاوہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر اور وفاق علماء شیعہ پاکستان کے سرپرست ہیں۔ آپ استاد العلماء علامہ سید محمد یار شاہ صاحب قدس سرہ اور محسن ملت علامہ سید صدر حسین نجفی صاحب اعلی اللہ مقامہ کے خاندانی اور علمی و روحانی وارث ہیں۔آپ چونکہ سات، آٹھ سال استاذ العماء سے تقریبا سارے مروجہ دروس اچھی طرح پڑھ کر لاہور آئے تھے، لہٰذا اگلے ہی سال 1958 ءمیں علامہ صفدر حسین نجفی نے آپ کو فقہ و اصول کی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ تدریس کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ 1958 ء سے لے کر 1963ء تک صرف، نحو، معانی و بیان اور منطق و فلسفہ کی سب کتابوں کی تدریس آپ نے فرمائی ۔ سولہ ، سترہ سال سے لے کر بیس اکیس سال کی عمر میں آپ نے درسی نصاب کی تمام ابتدائی کتب سے لے کر متوسط و نہائی کتب بشمول مختصر المعانی، مطول، سلم العلوم اور قاضی حمد اللہ تک کی با ضابطہ تدریس فرمائی۔ آپ کے اسی زمانہ تدریس کے دوران کئی با صلاحیت استفادہ کنندگان، اندرون و بیرون ملک اعلی ترین علمی مراتب و مدارج پر فائز ہوئے۔ “وفاق ٹائمز” نے آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی صاحب کیساتھ ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کے پیش خدمت ہے:

قبلہ محترم اگرچہ آپ کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے لیکن نئی نسل اور بالخصوص آنے والی نسلوں کے لئے آپ کی شخصیت اور آپ کی خدمات سے آشنائی بہت ضروری ہے آپ کے زندگی بھر کے علمی تجربات اور آپ کے حکیمانہ ارشادات، نئی نسلوں کے لئے بھی چراغ راہ ہوں گے۔

سوال ۔ ابتدا میں مناسب ہوگا کہ آپ اپنے مولد ، وطن اور اپنے خاندان کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں تاکہ آپ کے سوانحی خاکہ کو درست معلومات پر ترتیب دیا جاسکے۔

آیت اللہ حافظ ریاض نجفی:اعوذ بالله السمیع العلیم من الشیطان العین الرجیم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیْم
الحمد لاهله والصلاة علی اهلها۔ اما بعد: فقد قال الله تبارک و تعالی فی کتابه المجید۔ رب زدنی علما سب سے پہلے باقر العلوم فاونڈیشن اور اس کے بانی جناب مولانا امیر مختار فائزی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اظہار خیال کا موقع دیا ۔ ہمارا چھوٹا سا خاندان تھا کیونکہ ہمارے والد صاحب کے چچازاد بھائی مذہب کی وجہ سے ہم دوری اختیار کرچکے تھے فقط شادی ، غمی کے موقعوں پر ملاقات ہوتی تھی۔ میرے والد کے دوبھائی اور چار بہنیں تھیں ۔ علی پور ، مظفر گڑھ سے ڈیڑھ میل کے فاصلے پر تین گھروں کی بستی ” شاہ دی کھوئی ” میں میری پیدائش یکم جنوری 1941 ء میں ہوئی ۔میرے والد سید حسین بخش نقوی اپنی زمین میں کاشتکاری کرتے تھے ۔ میرے تایا سید غلام سرور شاہ بہت نیک ، مقدس پرہیز گار انسان تھے اور وہ مولانا سید صفدر حسین صاحب کے والد تھے ۔ ہمارے خاندان میں سب سے پہلے مولانا سید محمد یار شاہ صاحب میڑک کے بعد دینی تعلیم کی طرف گئے۔ اہلسنت کے مدرسہ میں بھی تعلیم حاصل کی ۔ پھر نجف اشرف چلے گئے۔ ان کے بعد مولانا سید صفدر حسین صاحب ( پیدائش ۱۹۳۳ ) پاکستان میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عازم عراق ہوئے ۔ 1951 میں جس دن وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولی لگی وہ بحری جہاز سے عراقی روانہ ہوئے تھے ۔ استادالعلماء ہمارے خاندان کے ہرفردکو دینی تعلیم کے لئے لے گئے ۔ کسی نےتھوڑی، کسی نے زیادہ تعلیم حاصل کی لیکن سبھی نیک اور دیندار تھے۔

سوال : عصری تعلیم آپ نے کب اورکس سکول سے شروع کی اور کس مرحلہ تک اس کی تکمیل کی؟

جواب : میرے چچا استاد والعلماء 1949 ء میں مجھے دارالعلوم محمد جلال پورننگیانہ لے گئے جہاں قرآن مجید کے حفظ سے دینی تعلیم کا آغاز کیا ۔ تقریبا ڈھائی سال میں قرآن حفظ کیا اس وقت میری عمر دس سال کے قریب تھی ۔ حفظ کے بعد قریبی پرائمری سکول گیا جس کی کوئی عمارت بھی نہیں تھی بلکہ ایک درخت کے نیچے تھا ۔ کچھ لڑکے ٹاٹ اور کچھ زمین پر بیٹھتے تھے ۔ فلک شیر صاحب استاد تھے۔مجھے پہلی جماعت کی کتاب دی گئی جو میں نے پڑھ لی پھر پانچویں کلاس تک کی کتاب بھی پڑھ لی چونکہ قرآن حفظ کیا تھا البتہ ہندسوں پر زیادہ عبور نہیں تھا۔ استاد نے کہا کل آ ئیں تاکہ کلاس کا تعین کیا جا ئے مگر وہ کل نہ آسکی ۔ بس وہی ایک دن سکول گیا۔

سوال دینی تعلیم کا اغاز آپ نے کب اور کسی مدرسہ سے کیا اور اس مدرسے کا انتخاب کیوں کیا ؟

جواب : یہ میرا نہیں بلکہ میرے چچا قبلہ سید محمد یار شاہ صاحب کا انتخاب تھا جو مجھے اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔ میرے والد صاحب کومجھے دینی تعلیم دلانے کا شوق تھا ۔ یہ مدرسہ کسی فرد کی کوشش سے نہیں بلکہ ایک خاص الہی تدبیر سے قائم ہوا۔ ہوا یوں کہ جلال پور سے ایک میل دور حسین شاہ کے ایک بہت بڑے زمیندار سلطان احمد شاہ فوت ہوئے۔ اس وقت شاہ پور ضلع تھا ۔ 120 مربع کے مالک میاں محمد علی ننگیانہ کی سلطان احمدشاہ سے بہت گہری دوستی تھی۔ وہ اور چند دیگر بڑے زمیندار نماز جنازہ کے لئے آئے ہوئے تھے ۔ میاں محمد علی نے کسی سے پوچھا کہ آپ ہمارے ساتھ نماز پڑھیں گے یا الگ ؟ انہوں نے جواب دیا کربلا میں کسی نے سادات کے جنازے نہیں پڑے تھے لہذا میں آپ کے ساتھ پڑھوں گا کسی نے سوال کیا تو پھر آپ اس طرف کیوں کھڑےہیں ؟ اس پر انہوں نے شیعہ ہونے کا اعلان کر دیا ۔ لاڑی خاندان کے سربراہ سمیت میکن اور بلوچ زمیندار بھی شیعہ ہو گئے ۔ میاں محمد علی نے ایک بہت بڑی مسجد بنوائی جس کے اطراف میں چند کمرے بھی تھے ۔ شیعہ ہونے کے بعد وہ پیر سیدفضل حسین شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جنہوں نے مدرسہ بنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا آپ کی عمر زیادہ ہے صرف شیعہ ہو جانا کافی نہیں باقاعدہ مدرسہ بنائیں ۔ میاں صاحب مان گئے تو استاد العلماء قبلہ سید محمد باقر سے رابطہ کیا گیا ۔ انہوں نے استاد العلماء قبلہ سید شد یار شاہ کو جلال پور جانے کیلئے خط لکھا ۔ قبلہ سید محمد یارشاه اس وقت نجف اشرف سے واپسی کے بعد 1939 ء میں باب العلوم ملتان کے پرنسپل تھے ۔ پیغام ملنے پر جلال پور تشریف لے گئے اور 1949 ء میں مجھے بھی ساتھ لے گئے ۔ میں نے وہاں سوا د و یا ڈھائی سال میں قرآن مجید کے ساڑھے اٹھائیس پارے حفظ کئے ۔ چکڑالہ سے حافظ سید قاسم شاه صاحب کوطلبا کوحفظ سکھانے کے لئے بطور خاص بلایا گیا تھا ۔ آخری ڈیڑھ پارا چکڑالہ جا کر حفظ کیا ۔ ا ۱۹۵ ء رياکا رمضان المبارک تھا۔

سوال : آپ کے اس مدرسہ کے سربراہ و دیگر اساتذہ کرام کون تھے ؟

جواب : استاد العلماء مدرسہ کے سربراہ تھے ۔ نماز فجر سے دو بجے تک زیادہ تر دروس وہ خود پڑھاتے تھے ۔ مولانا محمد حسین صاحب سدھو پورہ کے ایک عزیز مولانا سعید صاحب اور مولا تا نور محمد بگا صاحب بھی کچھ درس پڑھاتے تھے جو استاد العلماء کے شاگرد تھے۔ حافظ سید قاسم شاہ صاحب حفظ کے استاد تھے ۔ ۱۹۵۶ ءمیں مجھے بھی مدرس مقرر کیا گیا ، وظیفہ 20 روپے مقرر ہوا ۔

سوال : اس وقت آپ کے ساتھ مدرسہ کے دیگر طلب کرام کی تعداد کیاتھی ؟

جواب : طلباء کی تعداد ۴۸،۴۷ ہوتی تھی ۔ چالیس طلباء کے اخراجات میاں محمد علی کے بیٹے میاں سلطان علی ننگیا نہ دیتے تھے ۔ باقی کا انتظام استادالعلما ءمختلف مومنین کے ذمہ لگاتے تھے ۔

سوال : اپنے مدرسہ کی اس وقت کی زندگی کے ایک دن کا صبح سے شام تک کا حال اس طرح بیان فرمائیں کہ اس زمانے کے طالب علم کی زندگی کی مکمل تصویر سامنے آجائے؟

جواب : روزانہ کے معمولات کا آغاز صبح جلدی اٹھنے سے ہوتا تھا ۔ جو خود نہ اٹھتے انہیں ایک آدمی آواز دے کر اٹھاتا۔ نماز فجر کے بعد استاد العلماء کھبی قرآن کا درس دیتے کبھی نہج البلاغہ سے کچھ بیان کرتے کبھی کوئی مسائل فقہی بیان کرتے کبھی کوئی علمی نکتہ بیان کر دیے مختصر سا درس ہوتا تھا۔ اس کے بعد ناشتے وغیرہ کا تو کوئی رواج نہیں تھا ۔ مولوی صاحب پونے 2 گھنٹے بعد درس پڑھانا شروع کر دیتے تھے ۔ ہم درس میں مشغول ہو جاتے اور ان کا طریقہ کار بھی کچھ ایسا تھا کہ آواز دیتے جامی والے ! ، کافیہ والے !تولڑ کے آ جاتے اور درس شروع کردیتے ۔
خلاصہ پہلے بیان کرتے اور بعد میں عربی عبارت پڑھاتے ۔ محنت سے پڑھاتے تھے تاکہ کوئی طالب علم غلطی نہ کرے ۔ ہدایہ النحو میں جب پڑھ رہے تھے تو میری 98 فیصد عبارت صحیح تھی اس کے بعد جو باقاعدہ تقریر کرتے اس درس کے مطابق ہوتی اور آخر میں پوچھتے کہ سمجھا ہے یانہیں ؟ اگر ایک طالب علم کہتا نہیں سمجھا تو پھر دوبارہ سمجھاتے تھے اور جب وہ کہتا سمجھ چکاہوں تو باقاعدہ سنتے تھے ۔ یہ درسوں کا سلسل تقریبا نماز تک رہتا ۔ نماز ظہرین ہوتی اور اگر اس کے بعد کوئی درس رہتا تو مولانا صاحب قبلہ وہ بھی پڑھاتے ۔ ظہر کو ہمیں کھانا ملتا تھا جو دوروٹیوں کے برابر ایک بہت بڑی روٹی ہوتی تھی ۔ اس پرگھی لگاتے تھے ۔ طالب علمی لسی لے آتے تھے یا کوئی چٹنی بنالیتا تھا ۔ یعنی سالن کا رواج بھی نہیں تھا ۔ لوگوں کے گھروں میں بھی رواج نہیں ہوا کرتا تھا ۔ تو اس کے بعد پھر پچھلے ٹائم ہمیں بٹھاتے خود ہی وہ مطالعہ بھی کرتے رہتے اور دیکھتے رہتے ۔ جب کوئی ڈیڑھ گھنٹا غروب سے رہ جاتا تو طالب علموں کے لیے ضروری تھا کہ وہ باہر چلے جائیں کوئی ایک فرلانگ دور ایک بہت بڑا میدان تھا ۔ طلبا ء وہاں چلے جاتے اگر کوئی رہ جاتا تو قبلہ اس کو اپنے پاس بلاتے اور مسجد کے صحن کے گرد اسے کو چکر لگواتے جب تک کہ اس کو پسینہ نہ آ جاتا ۔ طلبا میدان میں جا کر کوئی کبڈی کھیلتےتو کوئی بعض اوقات کوئی اور کھیل کھیلتے تھے یعنی دوڑتے ورزش کرتے ۔ ان کیلئے ورزش کرنا معمول نہیں بلکہ واجبات میں سے تھا ۔ اس کے بعد شام ہو جاتی شام کی نماز پڑھی جاتی ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ مغربین کے بعد مولانا صاحب قبلہ خود بھی نحو کا درس شروع کر دیتے تو بھی کچھ حتی کہ ہمیں کافیہ کا درس خارج بھی پڑھاتے رہے ہیں ۔ وہ ہم پڑھتے اور بعد میں جا کر لکھ لیتے ۔ لکھا ہوا ہمارے پاس موجود بھی تھا ۔ کبھی منطق کا کوئی درس پڑھاتے لیکن ان کی شروح سے مطالعہ کر کے وہ پڑھایا کرتے تھے تاکہ طلباء کا افق علمی وسیع ہوجائے ۔ اس کے بعد طالب علم مطالعہ کیلئے بیٹھ جاتے تھے ۔ اس وقت لالٹین ہوتے تھے جلا کر بیٹھ جاتے تھے ۔ دو گھنٹے کم از کم مطالعہ کرتے تھے ۔ عام طور پر ایسا ہوتا تھا کہ غروب آفتاب کے تقریبا ساڑھے 3 گھنٹے بعد پھرحکم ہوتا لیٹ جاؤ۔سب سو جاتے تھے ۔ اس کے بعد صبح پھر نماز کیلئے اٹھتے تھے ۔

سوال : اس وقت کتا بیں طلباء کی اپنی ہوتی تھی یامدرسہ مہیا کرتا تھا ؟

جواب کسی طالب علم کے پاس اپنی کتاب نہیں ہوتی تھی ۔ مدرسہ مہیا کرتا تھا ۔ لیکن مدرسہ میں بھی کتابیں پوری نہیں ہوتی تھیں ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا دو دو آدمی ، تین آدمی مل کر اکٹھے پڑھا کرتے تھے ۔ بہر حال کتب مدرسه خود مہیا کرتا تھا ۔

جاری ہے ۔۔۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=19688