0

امام علی رضا ‏علیہ السلام

  • News cod : 23143
  • 06 اکتبر 2021 - 17:31
امام علی رضا ‏علیہ السلام
امام صادق (ع) کے بعد مدینہ کی مرکزی حیثیت اور افادیت ختم ہوچکی تھی اور یہ ایک زیارت گاہ کی حد تک باقی رہ گیا تھا جبکہ امام رضا (ع) اپنا پیغام سارے عالم اسلام کو سنانا چاہتے تھے-

وفاق ٹائمز، سنہ 183 تک اپنی زندگی کے 30 یا 35 سال والد گرامی کے زیر سایہ گزارے اور حالات کا برابر جائزہ لیتے رہے ۔ ظاہر ہے کہ اس دور میں امام رضا(ع) نے مصائب کے ساتھ باپ کے طرز عمل کا بھی مشاہدہ کیا اور یہ دیکھتے رہے کہ اسلامی نظام کی ترویج میں کیا طریقۂ کار اختیار کیا جارہا ہے اور کس حکمت الہیہ سے کام لیا جارہا ہے۔
30 یا 35 سال کی عمر میں آپ نے امت کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی اور سنہ 183 سے تقریبا” 17 سال تک اسی اندازپر گزارے جس طرح امام موسی کاظم علیہ السلام کی زندگی تھی ۔ یہ اوربات تھی کہ امام کو قید خانے میں زہر دے کر شہید کردینے اور آپ کے جنازے کی بے حرمتی نے ہارون کے خلاف ایسا ماحول پیدا کردیا تھا کہ اب اس میں مزید ظلم کرنے کی طاقت نہیں رہ گئی تھی۔ دوسری جانب حکومت کو بیٹوں کے درمیان تقسیم کردینے کی بنا پر ہارون  لاوارث اور بے بس ہوچکا تھا اس لئے امام رضا (ع) کا یہ دور قدرے سکون سے گزر گیا۔ یہ آل محمد (ص) کی تاریخ حیات کا عجیب و غریب سانحہ ہے کہ ہر امام کو پہلے والے امام کے مقابلے میں تقریبا” مختلف بلکہ متضاد حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کا سب سے بڑا راز یہی تھا کہ حکومت ایک حربے کو آزمانے کے بعد ناکام ہوجاتی تھی تو وہ حربہ تبدیل کر دیتی تھی اور بعد والے امام کو بالکل نئے قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مثال کے طور پر معاویہ بن ابی سفیان نے مولائے کائنات سے صفین میں خون ریز جنگ کی لیکن امام حسن (ع) سے صلح پر آمادہ ہوگیا۔ اس کے بعد یزید نے امام حسین سے جنگ کی ۔ یزید نے امام حسین (ع) سے بیعت کا مطالبہ کیا اور امام زین العابدین سے قید کی حالت میں بھی بیعت کا مطالبہ نہیں کرسکا۔ امام زین العابدین  نے گوشہ نشینی اور عبادت میں زندگی بسر کی اورامام محمد باقر (ع)  نے کھل کر کام کیا اور امام جعفر صادق (ع) نے اتنا کھل کر کام کیا کہ سارا مذہب ،مذہب جعفری کے نام سے جانا جانے لگا۔ امام موسی کاظم (ع) تقریبا” 14 سال قید خانے میں رہے اور وہیں شہید کئے گئے اور امام علی رضا (‏ع) کو ولی عہد بنایا گیا۔ امام محمد تقی علیہ السلام کو کوئی عہدہ نہ ملا لیکن سرکاری داماد قرار دئے گئے ۔ اور امام علی نقی علیہ السلام کو قید خانوں میں رکھا گیا۔ غرض تاریخ کا یہ متضاد سلسلہ اس امر کی واضح علامت ہے کہ حکومت وقت کو مسلسل اپنی شکست کا احساس تھا اور اس کے نتیجے میں وہ یا اس کا وارث اپنی روش کو تبدیل کرتے رہتے تھے اور آل محمد کو ایک نئی سیاسی چال کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کے پاس تقلیدی قسم کے وسائل نہیں تھے بلکہ وہ خود مرکز الہام و القائے خداوندی تھے اور اسی کے سہارے ظلم و ستم اور مکر و فریب کے جدید ترین طریقوں کا سامنا کرنے میں انہیں کوئی زحمت نہیں ہوتی تھی۔
امام صادق (ع) کے بعد مدینہ کی مرکزی حیثیت اور افادیت ختم ہوچکی تھی اور یہ ایک زیارت گاہ کی حد تک باقی رہ گیا تھا جبکہ امام رضا (ع) اپنا پیغام سارے عالم اسلام کو سنانا چاہتے تھے- جس کے لئے امام (ع) کو ایک مرکزی مقام کی ضرورت تھی- اس صورت حال کو جب ہم امام (ع) کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں تو امام (ع) جانتے تھے کہ ولی عہدی کی پیشکش میں مامون قطعا” مخلص نہیں تھا بلکہ وہ امام کو اپنے اور بنی عباس کے مخالفین  یعنی بغداد کے علویوں اور خراسان کی تحریکوں کے مقابلے میں بطور سپر استعمال کرنا چاہتا تھا- لیکن امام (ع) نے اپنی سیاسی بصیرت سے یہ فیصلہ کیا کہ اس موقع کو جو دشمن نے اپنی احتیاج کے تحت فراہم کیا ہے خود اس کے خلاف استعمال کریں اور شیعیت کی تحریک کو زندہ کریں یہ بھی امکان تھا کہ اگر وہ مامون کی پیشکش قبول نہ کرتے تو وہ یا تو قید کردیئے جاتے یا قتل کر دیئے جاتے جو اس زمانہ کا معمول تھا- امام رضا (ع) مامون کے خلاف کسی فوج کشی کی تیاری نہیں کر رہے تھے بلکہ جس علمی مبارزہ کے ذریعہ وہ پیغام حق پہونچانا چاہتے تھے اس کےلئے ایک موافق ماحول کی ضرورت تھی- امام رضا (ع) بھی خود اپنے علم امامت سے جانتے تھے کہ وہ اس نوعیت کی خلافت کے لئے ناموزوں ہوں گے، جو مامون پیش کر رہا تھا اور ان کے لئے دائرہ امامت سے بالکل باہر آجانا مناسب نہیں ہوگا اس لئے امام (ع) نے مامون رشید کی خلافت کی پیشکش کی سختی سے مخالفت کی- اس ضمن میں امام (ع) اور مامون الرشید کے درمیان طویل گفتگو ہوئی بالآخر مامون کے شدید اصرار پر آپ (ع) نے فرمایا کہ” خدا نے انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے”۔ (اشارہ قتل کے امکان  کی طرف تھا)۔ لہٰذا امام (ع) نے مشروط ولی عہدی قبول کی کہ وہ حکومتی کاروبار سے علیحدہ رہیں گے- لفظی یا عملی امرو نہی کو انجام نہیں دیں گے (احکامات صادر کرنا) اور صرف دور سے رہنمائی کے فرائض انجام دیں گے۔
اس منزل پر مکتب اہلبیت اور ان کے مزاج سے واقف افراد یہ سمجھنا چاہیں گے کہ حکومتی عہدہ قبول کرنا ائمہ گزشتہ کا شیوہ نہیں رہا تھا تو امام (ع) نے ایسا کیوں کیا؟ امام علی رضا (ع) نے ولی عہدی کو اس وقت کے سیاسی اور معاشرتی رجحانات کے پیش نظر احکام اور تبلیغات اسلامی کی ترویج و اشاعت کا موثر ذریعہ قرار دیا اور”مکرہ’ مکر الله” کے قرآنی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے قبول کرنے کا فیصلہ کیا- مدینہ سے مرو کے سفر کے دوران اور ولی عہدی کے زمانے میں حکومتی  پروٹوکول کی موجودگی میں معجزات اور کرامات کا اظہار، مناظروں میں شرکت، نمازعید، بارش کی دعاؤں ، زینب کذابیہ اور دیگر واقعات امام (ع) کی اسی حکمت عملی کا حصہ تھے-
23 ذیقعدہ سنہ 203 ہجری کو مامون نے زہر دلواکر آپ کو شہید کروادیا جس کے بارے میں آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہی شخص مجھے قتل کرے گا۔ اور اس کی تفصیل بھی بتائی تھی ۔ اور اس دن بھی جس دن مامون نے طلب کیا تھا ،آپ نے ابوالصلت سے کہا تھاکہ اگر میرے سر پر چادر ہو تو مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا  اور سمجھ لینا کہ میری زندگی کا آخری وقت آگیا ہے ۔ آپ مامون کے دربار میں گئے ۔ اس نے زہر میں بجھائے ہوئے انگور پیش کئے آپ نے حفاظت خود اختیاری کا جو بنیادی تقاضہ ہے اس کے تحت انکار کیا ۔ اس نے اصرار کیا اور کہا آپ کو میری نیت پر شبہ ہے؟ آپ نے دیکھا اب قتل یقینی ہوگیا ہےاور انکار میں بھی  سوء ظن کا مجرم قرار پاؤں  گا اس لئے چند دانے نوش فرما لئے اور اٹھ  کر کھڑے ہوگئے۔ مامون نے پوچھا کہاں تشریف لےجارہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جہاں تونے بھیجا ہے وہیں جارہا ہوں۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=23143