0

گم شدہ مال پانے کے احکام

  • News cod : 23840
  • 19 اکتبر 2021 - 10:36
گم شدہ مال پانے کے احکام
جس شخص کوکوئی مال ملاہواگروہ اس طریقے کے مطابق جس کاذکر اوپر کیاگیاہے عمداً اعلان نہ کرے توپہلے اعلان نہ کرکے اگرچہ اس نے گناہ کیا ہے، لیکن اب اسے احتمال ہوکہ (اعلان کرنا)مفید ہوگاتوپھربھی اس پرواجب ہے کہ اعلان کرے۔

مسئلہ (۲۵۸۲)اگرکوئی گم شدہ ایسامال ملے جو حیوانات میں سے نہ ہو اور انسان کے ہاتھ لگے اورجس کی کوئی ایسی نشانی بھی نہ ہو جس کے ذریعے اس کے مالک کاپتا چل سکے توخواہ اس کی قیمت ایک درہم(۱۲ء۶چنے سکہ دارچاندی)سے کم ہویانہ ہووہ اپنے لئے لے سکتاہے لیکن احتیاط مستحب ہے کہ وہ شخص اس مال کو اس کے مالک کی طرف سے فقیروں کوصدقہ کردےاور اسی طرح کا حکم ہے اس رقم کا جس کی کوئی علامت نہیں ہے لیکن اگر مقدار اور وقت اور جگہ کی خصوصیت اوراس کی علامت رقم پر ہوتو اس کا اعلان کرنا ضروری ہے جیسا کہ بعد کے مسئلہ میں آئے گا۔

مسئلہ (۲۵۸۳)اگرکوئی شخص ایک ایسی چیز پائے جس پرکوئی ایسی نشانی ہوجس کے ذریعے اس کے مالک کاپتاچلایاجاسکے تواگرچہ اسے معلوم ہوکہ اس کامالک ایک ایسا کافر ہے جس کامال محترم ہے تو اس صورت میں کہ اس چیزکی قیمت ایک درہم تک پہنچ جائے تو ضروری ہے کہ جس دن وہ چیزملی ہواس سے ایک سال تک لوگوں کی بیٹھکوں (یانشستوں ) میں اس کااعلان کرے اور اگر اس کی قیمت ایک درہم سے کم ہوتو احتیاط واجب یہ ہےکہ اس کے مالک کی طرف سے صدقہ دے اور جب اس کا مالک مل جائے تو اگر وہ صدقہ دینے پر راضی نہ ہو تو اس کابدل اس کو دے۔

مسئلہ (۲۵۸۴)اگر انسان خود اعلان نہ کرناچاہے توایسے آدمی کواپنی طرف سے اعلان کرنے کے لئے کہہ سکتاہے جس کے متعلق اسے اطمینان ہوکہ وہ اس کی طرف سے اعلان کردے گا۔

مسئلہ (۲۵۸۵)اگرمذکورہ شخص ایک سال تک اعلان کرے اورمال کامالک نہ ملے تو اس صورت میں جب کہ وہ مال حرم مکہ کے علاوہ کسی جگہ سے ملاہو وہ اسے اس کے مالک کے لئے اپنے پاس رکھ سکتاہے تاکہ جب بھی وہ ملے اسے دے دے اور اس مدت کے دوران اصل مال کی حفاظت کے ساتھ اس کے استعمال کرنے میں اشکال نہیں ہے یامال کے مالک کی طرف سے فقیروں میں صدقہ دےسکتا ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ خودنہ لے اور اگروہ مال اسے حرم پاک میں ملا ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ اسے فقراء کے درمیان صدقہ کردے۔

مسئلہ (۲۵۸۶)اگرایک سال تک اعلان کرنے کے بعد بھی مال کامالک نہ ملے اور جسے وہ مال ملاہو وہ اس کے مالک کے لئے اسے اپنے پاس رکھ لے (یعنی جب مالک ملے گااسے دے دوں گا)اور وہ مال تلف ہوجائے تو اگراس نے مال کی نگہداشت میں کوتاہی نہ برتی ہواورتعدی یعنی زیادہ روی بھی نہ کی ہو توپھروہ ذمے دار نہیں ہے لیکن اگروہ مال اس کے مالک کی طرف سے صدقہ کرچکا ہوتومال کے مالک کواختیارہے کہ اس صدقے پرراضی ہوجائے یااپنے مال کے عوض کامطالبہ کرے اور صدقے کاثواب صدقہ کرنے والے کو ملے گا۔

مسئلہ (۲۵۸۷)جس شخص کوکوئی مال ملاہواگروہ اس طریقے کے مطابق جس کاذکر اوپر کیاگیاہے عمداً اعلان نہ کرے توپہلے اعلان نہ کرکے اگرچہ اس نے گناہ کیا ہے، لیکن اب اسے احتمال ہوکہ (اعلان کرنا)مفید ہوگاتوپھربھی اس پرواجب ہے کہ اعلان کرے۔

مسئلہ (۲۵۸۸)اگردیوانے یانابالغ بچے کوکوئی ایسی چیزمل جائے جس میں علامت موجود ہواور اس کی قیمت ایک درہم کے برابر ہوتواس کاسرپرست اعلان کر سکتا ہے ۔ (بلکہ اگروہ چیزسرپرست نے بچے یا دیوانے سے لے لی ہوتواس پرواجب ہے کہ اعلان کرے )اور اگرایک سال تک اعلان کرے پھربھی مال کامالک نہ ملے توضروری ہے کہ وہ جو کچھ مسئلہ ( ۲۵۸۵) میں بتایاگیاہے اس کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ (۲۵۸۹)اگرانسان اس سال کے دوران جس میں وہ (ملنے والے مال کے بارے میں ) اعلان کررہا ہومال کے مالک کے ملنے سے ناامید ہوجائے تو(احتیاط واجب کی بنا پر)ضروری ہے کہ حاکم شرع کی اجازت سے اس کو صدقہ کردے۔

مسئلہ (۲۵۹۰)اگراس سال کے دوران جس میں (انسان ملنے والے مال کے بارے میں )اعلان کررہاہووہ مال تلف ہوجائے تواگراس شخص نے اس مال کی نگہداشت میں کوتاہی کی ہویااس کو تصرف میں لایا ہو تووہ ضامن ہے کہ اس کاعوض اس کے مالک کودے اورضروری ہے کہ اعلان کرتارہے اوراگرکوتاہی یاتصرف نہ کیا ہو تو پھر اس پرکچھ بھی واجب نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۵۹۱)اگرکوئی مال جس پرکوئی نشانی ہو اوراس کی قیمت ایک درہم تک پہنچتی ہوایسی جگہ ملے جس کے بارے میں معلوم ہوکہ اعلان کے ذریعے اس کا مالک نہیں ملے گاتوضروری ہے کہ (جس شخص کو وہ مال ملاہو) وہ پہلے دن ہی اسے(احتیاط واجب کی بناپرحاکم شرع کی اجازت سے) اس کے مالک کی طرف سے فقیروں کو صدقہ کردے اورضروری نہیں کہ وہ ایک سال ختم ہونے تک انتظارکرے۔

مسئلہ (۲۵۹۲)اگرکسی شخص کوکوئی چیزملے اوروہ اسے اپنامال سمجھتے ہوئے اٹھالے اوربعدمیں اسے پتاچلے کہ وہ اس کااپنامال نہیں ہے توجواحکام اس سے پہلے والے مسائل میں بیان کئے گئے ہیں انہی کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ (۲۵۹۳)جوچیزملی ہوضروری ہے کہ اس کااس طرح اعلان کیاجائے کہ اگر اس کامالک سنے تواسے غالب گمان ہوکہ وہ چیزاس کامال ہے اوراعلان کرنے میں مختلف مواقع کے لحاظ سے فرق ہوتاہے مثلاً بعض اوقات اتناکہناہی کافی ہے کہ ’’مجھے کوئی چیز ملی ہے‘‘ لیکن بعض دیگرصورتوں میں ضروری ہے کہ اس چیزکی جنس کا تعین کرے مثلاً یہ کہے کہ: ’’سونے کاایک ٹکڑامجھے ملاہے‘‘ اوربعض صورتوں میں اس چیز کی بعض خصوصیات کابھی اضافہ ضروری ہے مثلاکہے:’’سونے کی بالیاں مجھے ملی ہیں ‘‘ لیکن بہرحال ضروری ہے کہ اس چیز کی تمام خصوصیات کاذکرنہ کرے تاکہ وہ چیز معین نہ ہوجائے اور ضروری ہے کہ: ایسی جگہ پر اعلان کرے جہاں مال کے مالک تک خبر کے پہونچنے کا زیادہ احتمال ہو۔

مسئلہ (۲۵۹۴)اگرکسی کوکوئی چیزمل جائے اوردوسراشخص کہے کہ یہ میرامال ہے اور اس کی نشانیاں بھی بتادے تووہ چیز اس دوسرے شخص کواس وقت دیناضروری ہے جب اسے اطمینان ہوجائے کہ یہ اسی کامال ہے اوریہ ضروری نہیں کہ وہ شخص ایسی نشانیاں بتائے جن کی طرف عموماً مال کامالک بھی توجہ نہیں دیتا۔

مسئلہ (۲۵۹۵)کسی شخص کوجوچیزملی ہواگراس کی قیمت ایک درہم تک پہنچے تواگر وہ اعلان نہ کرے اوراس چیز کومسجد یاکسی دوسری جگہ جہاں لوگ جمع ہوتے ہوں رکھ دے اور وہ چیز تلف ہوجائے یاکوئی دوسرا شخص اسے اٹھالے توجس شخص کووہ چیز پڑی ہوئی ملی وہ ذمے دارہے۔

مسئلہ (۲۵۹۶)اگرکسی شخص کوکوئی ایسی چیزمل جائے جوایک سال تک باقی نہ رہتی ہو توضروری ہے کہ( ان تمام خصوصیات کے ساتھ جب تک کہ وہ باقی رہے اس چیزکی حفاظت کرے) جواس کی قیمت باقی رکھنے میں اہمیت رکھتی ہوں اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ اس مدت کے دوران اس کااعلان بھی کرتارہے اوراگراس کامالک نہ ملے تو اس کی قیمت کاتعین کرے اور اپنے لئے اس کو لے سکتا ہے یااسے بیچ سکتا ہےاوران پیسوں کواپنے پاس رکھے اور دونوں صورتوں میں ضروری ہےکہ اعلان بھی جاری رکھےاور اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کی قیمت کو اسے دے دے اور اگرایک سال تک اس کامالک نہ ملے توضروری ہے کہ جوکچھ مسئلہ (۲۵۸۵) میں بتایاگیا ہے اس کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ (۲۵۹۷)جو چیز کسی کوپڑی ہوئی ملی ہواگروضوکرتے وقت یانماز پڑھتے وقت وہ اس کے پاس ہو اوراگروہ مالک کے ملنے کی صورت میں اسے نہ لوٹاناچاہتاہو تواس کا وضو اورنماز باطل نہیں ہوں گے۔

مسئلہ (۲۵۹۸)اگرکسی شخص کاجوتااٹھالیاجائے اوراس کی جگہ کسی اورکاجوتارکھ دیا جائے اوراگروہ شخص جانتاہوکہ جوجوتارکھاہے وہ اس شخص کامال ہے جواس کاجوتا لے گیا ہے اوروہ اس بات پرراضی ہوکہ جو جوتاوہ لے گیا ہے اس کے عوض اس کاجوتارکھ لے تو وہ اپنے جوتے کے بجائے وہ جوتارکھ سکتاہے اور اسی طرح اگروہ شخص جانتا ہو کہ وہ شخص اس کا جوتاناحق اورظلما ً لے گیاہے تب بھی یہی حکم ہے لیکن اس صورت میں ضروری ہے کہ اس جوتے کی قیمت اس کے اپنے جوتے کی قیمت سے زیادہ نہ ہوورنہ زیادہ قیمت کے متعلق مجہول المالک کاحکم جاری ہوگااورا ن دوصورتوں کے علاوہ اس جوتے پرمجہول المالک کاحکم جاری ہوگا۔

مسئلہ (۲۵۹۹)اگرانسان کے پاس مجہول المالک مال ہو(یعنی اس کا مالک معلوم نہ ہو)اوراس مال پرلفظ گم شدہ کا اطلاق نہ ہوتاہو تواس صورت میں کہ جب اسے اطمینان ہوکہ اس کے اس مال میں تصرف کرنے پراس مال کامالک راضی ہوگا توجس طرح بھی وہ اس مال میں تصرف کرنا چاہے اس کے لئے جائزہے اوراگراطمینان نہ ہوتوانسان کے لئے لازم ہے کہ اس کے مالک کوتلاش کرے اورجب تک اس کے ملنے کی امید ہواس وقت تک تلاش کرے اور اس کے مالک کے ملنے سے مایوس ہونے کے بعداس مال کوبطورصدقہ فقیر کودیناضروری ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ حاکم شرع کی اجازت سے صدقہ دے اور اسی طرح اس کے لئے ممکن ہے کہ حاکم شرع کی اجازت سے اس کی قیمت کا صدقہ دے اور اگربعدمیں مال کا مالک مل جائے اورصدقہ دینے پرراضی نہ ہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)اسے اس کاعوض دینا ضروری ہے۔

آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی
حوالہ
https://www.sistani.org/urdu/book/61/3652/

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=23840

ٹیگز