1

اللہ کی تفویض کردہ نعمت کیلئے ہمیں اپنا راستہ ٹھیک کرنا ہوگا، وزیر اعظم

  • News cod : 23883
  • 19 اکتبر 2021 - 14:39
اللہ کی تفویض کردہ نعمت کیلئے ہمیں اپنا راستہ ٹھیک کرنا ہوگا، وزیر اعظم
انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک نبی کریم (ص) کی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، اس طرح مدینہ کی ریاست ایک ماڈل بنی۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد میں قومی رحمت للعامین (ص)کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبی (ص)کی سیرت کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔

اس موقع پر 5 منٹ دورانیہ کی ایک فیچر فلم بھی نشر کی گئی جس کا مقصد مغربی ممالک کو آگاہ کرنا تھا کہ ایک مسلمان حضرت محمد (ص)سے عشق کیوں کرتا ہے۔

بعدازاں عمران خان نے کہا کہ اسلام تلوار کی زور پر نہیں پھیلا تھا بلکہ فکری انقلاب تھا، سوچ بدلی اور ذہن بدلے تھے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک نبی کریم (ص) کی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، اس طرح مدینہ کی ریاست ایک ماڈل بنی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تین سال اقتدار میں رہتے ہوئے مجھے حیرت ہوئی کہ اللہ نے پاکستان کو کتنی نعمتیں بخشی ہیں لیکن ہمیں اپنا راستہ ٹھیک کرنا ہے اور اس کوشش میں مجھے اور میری پارٹی کو 25 سال ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے پہلا اصول اخلاق معیار تھا، حضرت محمد (ص)نے معاشرے میں اچھے اور برے کے فرق سے متعلق آگاہ کیا اور دنیا نے ایسے معاشرے اور فرد کو اہمیت دی۔

عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے اہم ستون میں فلاحی ریاست کا تصور بھی ہے، حضرت محمد (ص)نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور ریاست نے نچلے طبقے کو بنیادی حقوق دیے اور انصاف اور انسانیت کی بدولت قومیں ایک ہوجاتی ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر ملک میں جاگیردانہ نظام کو تو کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ بیرونی طاقت آکر ملک میں اپنی حکمرانی کا جھنڈا نصب کردے، اس لیے برصغیر کو فتح کرنا آسان تھا لیکن افغانستان کو فتح نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ادھر جاگیردانہ نظام نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں میرٹ کا بالادستی تھی، قابلیت کی بنیاد پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے اور اسی معاشرے میں لیڈرز پیدا ہوئے، شخصیت سازی کی بدولت صحابہ لیڈر بن گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سمیت تمام دیگر شعبہ جات میں اگر لیڈر صادق و امین نہ ہو تو اس کی عزت نہیں ہوتی، مدینہ کی ریاست میں پہلی مرتبہ خواتین کو وراثت اور غلاموں کو حقوق فراہم کیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جس طرح مغرب میں نوکروں کو رکھا جاتا ہے اور جو صورتحال یہ یہاں ہے، اس کو دیکھ کر شرم آتی ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=23883