4

پریانتھا دیاودھنہ کے قتل کے پس پردہ حقائق

  • News cod : 26208
  • 08 دسامبر 2021 - 0:58
پریانتھا دیاودھنہ کے قتل کے پس پردہ حقائق
اگر بات کی جائے پریانتھا دیاودھنہ کی مذہبی رجحانات کی تو وہ بدھ مت مذہب سے تعلق رکھتے تھے مسلمانوں کے تمام مذہبی تہواروں کا احترام کرتے تھے۔بدھ مت اور اسلام کے تقابل میں ان کا موقف تھا کہ اسلام اور بدھ مت میں پانچ احکام مشترک ہیں.

پریانتھا دیاودھنہ کے قتل کے پس پردہ حقائق

تحریر و تحقیق ۔توقیر کھرل

جمعہ کے روز سیالکوٹ میں ایک ایسا المناک سانحہ پیش آیا جس کے بعد ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھُک گیا۔ ہر باضمیر انسان اشکبار ہے‘ بطور تحقیقاتی صحافی مقتول کے دوستوں اور سیالکوٹ کے باسیوں سے واقعہ کے پس پردہ حقائق جاننے کی کوشش کی،فیکٹر ی ملازمین اور دوستوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ کچھ معلومات شئیر کی ہیں جو آپ پاکستانیوں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔

پریانتھا دیاودھنہ کا تعلق سری لنکا سے تھا۔ وہ اپنے دو انجینئر بھائیوں سمیت2010 سے پاکستان میں مقیم تھا۔وسنتھا کمار اب بھی پاکستان میں بطور انجینئر خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ کمالا نے چند سال قبل پاکستان چھوڑ دیا تھا۔یہ وہی انجینئر کمالا ہیں جو میڈیا میں سری لنکا سے اپنے بیانات بھی جاری کر رہے ہیں۔2010میں وسنتھا نے فیصل آباد کی کریسنٹ ٹیکسٹائل ملز کو جوائن کیا ایک سال بعد لاہور سٹائل ٹیکسائٹل میں رہے بعد ازاں دو سال بعد 2103میں سیالکوٹ میں راجکو فیکٹر ی کو بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا۔ان کی فیکٹر ی مالک اعجاز بھٹی سے دوستی اس وقت مضبوط تر ہوگئی جب 2013کے بعد ان کی فیکٹر ی پروڈکشن سات گنا بڑھ گئی۔فیکٹری مالک کو سات گنا ذیادہ پروڈوکشن ملنے پر فیکٹری کے تمام لین دین کے معاملات اور اختیار مالک کے بعد ان کے ہاتھ میں تھے۔پریانتھا دیاودھنہ کے بعدراجکو فیکٹر ی نے اس قدر ترقی کی پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کی یونیفارم بھی2015سے تاحال یہاں سے بنوائی گیج ہیں ا سکے علاوہ دیگر کلبس کے جیکسٹس، ٹراوزر،ٹریک سوٹ سمیت دیگر اہم مصنوعات یہاں سے بنتی ہیں۔

پریانتھا دیاودھنہ نے فیکٹری ملازمین کو فلور پہ کام کرنے کے لیے بطور ٹرینر بھی کام کرنا شروع کردیا تھا اور اپنی دی گئی ٹریننگ پر اس قدر مطمئن تھے ورکرز سے کسی غلطی کا امکان کم ہی ہوتا تھا۔وہ بطور پروفیشنل انجینئر اپنے کام کے ساتھ بہت مخلص تھے آٹھ سال میں صرف تین بار ہی سری لنکا جا پائے تھے۔پاکستان میں رہنے کے دوران اردو اور پنجابی کے چند جملے بول سکتے تھے۔لکھ یا پڑھ نہیں سکتے تھے۔

پریانتھا دیاودھنہ نے بطور مینیجر فیکٹر ی میں ویمن امپاورمنٹ کے لیے بہت کام کیے ان کے لیے الگ گاڑیاں،ہال اور سہولیات کا انتظام کیا تھا۔اگر کوئی خاتون بیمار ہوجاتی تواسے ہسپتال پہنچانے کے لیے اپنی گاڑی بھی دے دیتے تھے۔ان کے ایک قریبی دوست نے بتایا کہ ایک بار فیکٹری کی ایک خاتون ورکر اور اس کی دو بہنوں کے جہیز کے سامان میں بڑی رقم کی مشکل پیش آئی تو انھوں نے اپنی تنخواہ سے ان کی امداد کی تھی۔اسی طرح ایک بار عید کے موقع پر فیکٹری ملازمین کی تنخواہ کا انتظام نہ ہوا تو ان کے دوست ملک عدنان اور پریانتھا دیاودھنہ نے اپنی ذاتی اخراجات سے 10لاکھ کا انتطام کیا تھا۔

اگر بات کی جائے پریانتھا دیاودھنہ کی مذہبی رجحانات کی تو وہ بدھ مت مذہب سے تعلق رکھتے تھے مسلمانوں کے تمام مذہبی تہواروں کا احترام کرتے تھے۔بدھ مت اور اسلام کے تقابل میں ان کا موقف تھا کہ اسلام اور بدھ مت میں پانچ احکام مشترک ہیں اور یہ دونوں مذاہب ایک دوسرے کے قریب ہیں۔وہ شاید مذہبی آہنگی پہ یقین رکھتے تھے۔مسلمانوں کے تمام تہواروں کا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ گزشتہ چار سال سے ماہ رمضان المبارک میں فیکٹری ملازمین کیلئے افطاری کا اہتمام بھی کیا۔

اب اگر بات کی جائے ملک عدنان کی تو ملک عدنان نے چند سال قبل ہی فیکٹر ی کو جوائن کیا ان کے فیکٹری میں آنے کے بعد ان کی پریانتھا دیاودھنہ سے دوستی فیکٹری کی حد تک نہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پرمضبوط ہوگئی ۔منیجرز کی سالگرہ کے موقع کی خصوصی تقاریب کا اہتمام پریانتھا دیاودھنہ کی جانب سے کیا جاتا تھا۔جس میں تمام مینیجرز کو مدعو کیا جاتا تھا

پریانتھا دیاودھنہ چونکہ اپنے کام سے مخلص تھے اور ورکزر کی چھٹیوں اور کام چوری پہ نالاں رہتے تھے اس لئے وہ کبھی کبھار اونچا بو ل لیتے تھے لیکن گالیوں تک نوبت نہیں آتی تھی۔فیکٹری کی ذمہ داریاں اور کئی سال سے گھر نہ جانے کے باعث وہ ذہنی دباو کا بھی شکار تھے شاید یہی وجہ ہے کہ ورکرز کے ساتھ اونچا بھی بولتے تھے۔فیکٹری میں ورکرز کا ایک گروپ ان کا شدید مخالف تھا اور وہ انکو منیجر کی سیٹ پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔پریانتھا دیاودھنہ نے کام چوری اور چھٹیوں کی بنیاد پر کئی ورکز کو فارغ کردیا تھا اور کئی ملازمین کا کام عارضی طور پہ بند کردیا تھا۔2013سے 2020تک راجکو فیکٹری سے پریانتھا دیاودھنہ کے حکم پر درجنوں افراد نکالے جاچکے تھے۔

3دسمبر کو کیا ہوا؟

پریانتھا دیاودھنہ نے 2دسمبر کو سپروائزر کو فیکٹری کی صفائی کے احکامات جاری کیے اور یہ بھی کہا کہ مشینوں اور دیواروں سے سٹکرز کو اتار دیں۔ اس نے اتروادئیے لیکن ایک ورکر نے دوبارہ لگادیا جس پہ تحریر تھا کیا آج آپ نے درود شریف پڑھا؟۔جمعہ کی صبح کو فلور پر صفائی کی چیکنگ کے دوران جب منیجر پریانتھا دیاودھنہ نے سٹکر لگے دیکھے تو خود ہی اتار دئیے اور ورکز پہ غصہ کیا۔سپروائزر نے ورکز کو فیکٹری کے اسی میدان میں جمع کیا جہاں وہ اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے جمع ہوتے تھے بہت سے افراد نے مداخلت کی تو خاموشی ہوگئی لیکن آدھے گھنٹے کے بعد ایک ہجوم جمع ہوگیا اور پریانتھا دیاودھنہ کو دفتر سے نکالنے کی کوشش کی اس ہجوم میں وہ افراد بھی شامل ہوگئے جو 2013سے 2020تک نکالے گئے تھے انہیں ان کے فیکٹری میں موجود دوستو اور عزیزو نے بلوایالیا تھا۔ ملک عدنان نے ان کی منت سماجت کی اور یقین دہانی کروائی کہ وہ فیکٹری سے چلے جائیں گے اور مقدمہ درج کروادیا جائے۔لیکن ہجوم ہٹ نہیں رہا تھا۔پریانتھا دیاودھنہ نے ملک عدنان کو معافی کی پیشکش کی۔ملک عدنان نے پریانتھا دیاودھنہ کو سمجھانے کی کوشش کی وہ معافی کو قبول نہیں کریں گے آپ یہاں سے اسی وقت چلے جائیں گے معاملہ پر قابو پایا جاسکتا ہے پریانتھا دیاودھنہ کا جوا ب تھا کہ وہ یہاں آٹھ سال سے کام کر رہا ہے میں ایک ایماندار شخص ہوں مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک مقدس سٹیکر ہے میں معافی مانگنے کو تیار ہوں لیکن بھاگنے کو نہیں۔ملک عدنان نے انہیں چھت پہ چھپایا مگر وہ اس جتھے کے ہاتھ لگ گئے۔

بدقسمتی سے اس روز فیکٹری مالک بیرون ملک نجی دورے پہ تھا جس باعث ملازمین نے انتہائی قدم اٹھایا۔البتہ مالک کی غیر موجودگی میں شہباز بھٹی نے ہاتھ جوڑے منت سماجت کی جیسا کہ آپ نے ویڈیوز میں بھی دیکھا وہ ایک شخص کو کھونے سے ڈر رہے تھے جس نے ان کی فیکٹر ی کو پہلے کی نسبت آٹھ سال میں سات گنا منافع دیا تھا۔فیکٹری میں عمومی طور پہ لرائی جھگڑوں میں پیش پیش رہنے والے امتیاز بلی،طلحہ نے لوگوں کو اشتعال دلایا اور لاش کو فیکٹری کے باہر جاکر آگ لگادی جلانے کے بعد فیکٹری ورکرز فون کالز پہ ایک دوسر ے کو منیجر واصل جہنم ہوگیا کے میسجز کرتے رہے۔سانحہ سیالکوٹ جیسے افسوس ناک واقعات نے شدت پسندی اور مذہبی انتہا پسندی پر پھر سے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے سانحہ اے پی ایس کے بعد منظور ہونے وا لے ایکشن پلان کے 20میں سے صرف 9نکات پر 7 سال بعد بھی عمل نہیں ہوسکا۔انتہاپسندی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اگر ان کی روک تھام نہ کی گئی تو مذہب کے نام پر عدم برداشت کا رویہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=26208