1

مالی سال کا تعیّن

  • News cod : 27715
  • 08 ژانویه 2022 - 13:37
مالی سال کا تعیّن
کیا مالی سال کی ابتدا کام کا پہلا مہینہ ہے یا وہ پہلا مہینہ جس میں تنخواہ وصول کرے؟ ج: مزدوروں اور ملازمت کرنے والوں کے خمس کا سال اس دن سے شروع ہوتا ہے جس دن ان کو مزدوری یا تنخواہ ملتی ہے یا جس روز وہ اس کو وصول کر سکتے ہیں۔

س٩۹۴: جو شخص مطمئن ہو کہ سال کے آخر تک اس کے پاس سال بھر کی آمدنی میں سے کچھ نہیں بچے گا، اور اسکی ساری کمائی دوران سال کے مخارج زندگی میں خرچ ہوجائے گی تو کیا اس کے باوجود بھی اس پر خمس کی تاریخ معین کرنا واجب ہے؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو اپنے اس اطمینان کی بنا پر کہ اس کے پاس کچھ نہیں بچے گا اپنے خمس کے سال کا تعیّن نہ کرے؟
ج: خمس کے سال کی ابتداء مکلف کی تعیین وحد بندی سے نہیں ہوتی ، بلکہ یہ ایک امر واقعی ہے اور کھیتی باڑی کرنے والے کیلئے کھیتی کاٹنے کے وقت سے ، مزدور اور ملازمت پیشہ لوگوں کے لئے پہلی اجرت یا تنخواہ وصول کرنے کے وقت سے اور کارو بار کرنے والے کیلئے کار وبار شروع کرنے کے وقت سے خمس کے سال کا آغاز ہوجاتاہے اور سال بہ سال منفعت اور خمس والے سال کا حساب کرنا کوئی الگ واجب نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف خمس کی مقدار معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور حساب کرنا اس وقت ضروری ہوتاہے جب وجوب خمس کا علم ہو لیکن اسکی مقدار معلوم نہ ہو لہذا اگر کمائی میں سے کچھ باقی نہ بچے اور سب کچھ مخارج زندگی میں خرچ ہوجائے تو خمس نہیں ہے۔

س٩۹۵: کیا مالی سال کی ابتدا کام کا پہلا مہینہ ہے یا وہ پہلا مہینہ جس میں تنخواہ وصول کرے؟
ج: مزدوروں اور ملازمت کرنے والوں کے خمس کا سال اس دن سے شروع ہوتا ہے جس دن ان کو مزدوری یا تنخواہ ملتی ہے یا جس روز وہ اس کو وصول کر سکتے ہیں۔

س٩۹۶: خمس ادا کرنے کیلئے سال کی ابتداء کا کیسے تعیّن ہوتا ہے؟
ج: خمس کے سال کی ابتدا کیلئے اسے معین کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ آمدنی کے حصول کی کیفیت کی بنیاد پر خود بخود معین ہوجاتی ہے لذا مزدور اور ملازمت پیشہ افراد کے خمس کے سال کی ابتداء اس تاریخ سے ہوتی ہے جس دن ان کے لئے اپنے کام اور ملازمت کی پہلی آمدنی کا حاصل کرنا ممکن ہو اور دوکانداروں اور تاجروں کے سال کا آغاز ان کے خرید و فروخت شروع کرنے کی تاریخ سے ہوتا ہے اور کھیتی باڑی و غیرہ کرنے والے لوگوں کے سال کا آغاز پہلی فصل اٹھانے سے ہوتاہے۔

س٩٩۷: غیر شادی شدہ جوانوں پر جو اپنے والدین کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، کیا خمس کی تاریخ کا معین کرنا واجب ہے؟ اور ان کے سال کی ابتداء کب سے ہوگی؟ اور اس کا کیسے حساب کریں؟
ج: اگر غیر شادی شدہ جوان کی اپنی ذاتی کمائی ہو، خواہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ خمس کی سالانہ تاریخ کو معین کرے اور سال بھر کی آمدنی کا حساب کرے تاکہ اگر سال کے آخر میں اس کے پاس کوئی چیز بچ جائے تو اس کا خمس ادا کرسکے اور خمس کے سال کا آغاز پہلی آمدنی کے حصول کے وقت سے ہوتا ہے۔

س٩٩۸: جو میاں بیوی اپنی آمدنی کو مشترکہ طورپر گھر کی ضروریات میں خرچ کرتے ہیں کیا ان کے لئے ممکن ہے کہ مشترکہ طورپر اپنے خمس کی تاریخ کا تعین کریں؟
ج: ان میں سے ہر ایک کے لئے ان کی آمدنی کے حساب سے مستقل طور پر خمس کا سال ہے، لہذا سال کے آخر میں ان میں سے ہر ایک کے پاس تنخواہ اور سال بھر کی آمدنی سے جو کچھ بچ جائے اس کا خمس دینا واجب ہوگا اور یہ جائز ہے کہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کی اجازت سے اس کا خمس حساب کرکے ادا کرے۔

س٩٩۹: میں ایک خانہ دار عورت ہوں اور میرے شوہر نے خمس کا سال قرار دے رکھاہے اور وقت پر وہ اپنے اموال کا خمس نکالتا ہے مجھے بھی بسااوقات آمدنی ہوتی ہے تو کیا خمس ادا کرنے کے لئے میں بھی اپنی تاریخ معین کرسکتی ہوں اور اپنے خمس کے سال کی ابتداء اس حاصل ہونے والی پہلی آمدنی سے کروں کہ جس کا میں نے خمس نہیں دیا ہے اور سال کے آخر میں گھر کے اخراجات منہا کرکے باقی کا خمس ادا کروں، اور دوران سال جو پیسہ میں زیارت کیلئے یا تحفے وغیرہ خریدنے پر خرچ کرتی ہوں کیا اس میں بھی خمس ہے؟
ج: آپ پر واجب ہے کہ خمس کے سال کی ابتداء اس دن سے کریں جس دن آپ کو سال کی پہلی آمدنی پر دسترس حاصل ہوئی ہے اور سال کے دوران کی کمائی میں سے جو کچھ آپ کے ذاتی مخارج ،جیسے وہی مخارج جنکا آپ نے تذکرہ کیا ہے، سے بچ جائے اس میں خمس واجب ہے۔

س۱۰۰۰: کیا خمس کاسال شمسی ہونا ضروری ہے یا قمری ؟
ج: اس سلسلہ میں انسان کو اختیار ہے۔

س۱۰۰۱: ایک شخص کا کہنا ہے کہ اس کے خمس کے سال کا آغاز، گیارہویں مہینہ سے ہوتا ہے لیکن وہ اسے بھول گیا اور خمس نکالنے سے قبل بارہویں مہینے میں اس نے اس مال سے اپنے گھر کے لئے قالین، گھڑی اور کارپٹ خرید لیا اور اب وہ اپنے خمس کے سال کا آغاز ماہ رمضان کو قرار دیناچاہتا ہے اس بات کی طرف اشارہ کردینا ضروری ہے کہ یہ شخص گزشتہ اور موجودہ سال کے سہم امام و سہم سادات کے ٨٣ ہزار تومان کا مقروض ہے اور انہیں قسط وار ادا کر رہا ہے، لہذا مذکورہ چیزوں کے سہم امام اور سہم سادات کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
ج: خمس کا سال پہلے لانا جائز ہے، اس طرح کہ اس وقت تک کی کمائی کے خمس کا حساب کرکے ادا کرے اور اس کے بعد اسی وقت سے خمس کا سال شمار ہوگا ، تاہم خمس کے سال کو پیچھے لے جاتے ہوئے اس کی ادائیگی میں تاخیر جائز نہیں ہے ۔ جو شخص سال پوراہونے پر اپنی کمائی کا خمس ادا نہ کرے اور خمس کا سال گزرنے کے بعد زندگی کی ضروریات میں استعمال کرلے، یہ خمس اس کے ذمے باقی رہے گا چنانچہ پیسے کی قدر گرجائے تو اس گراوٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو ادا کرنا ضروری ہے اور اگر قیمت میں ہونے والی گراوٹ کی مقدار معلوم نہ ہو تو حاکم شرع سے مصالحت کرنا ضروری ہے۔

س۱۰۰۲: کیا انسان اپنے مال کے خمس کا خود حساب کرسکتا ہے پھر جو کچھ اس کے اوپر واجب ہو، اسے آپ کے وکلاء کی خدمت میں پیش کردے؟
ج: خمس کے مسائل سے آشنا ہونے کی صورت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=27715