5

فاطمہ (س) “ام ابیھا”

  • News cod : 28112
  • 22 ژانویه 2022 - 14:12
فاطمہ (س) “ام ابیھا”
سیدہ فاطمہ زہراء ؑ وہ عظیم ہستی ہیں جو مرکز تعارف اہل بیت ؑ ہیں ۔آپ حدیث کساء میں پڑھتے ہیں کہ اہل بیؑت جب ایک چادر میں اکھٹے ہوئے ۔توجبرئیل امین ؑ نےسوال کیا ۔ اے پروردگار !چادر کے نیچے جو ہستیاں موجود ہیں وہ کون ہیں : یارب ومن تحت الکساء؟ تو خداوند عالم نے جواب میں ارشاد فرمایا: "ھم فاطمۃ و ابوھا و بعلھا وبنوھا” "وہ فاطمہ ؑ ہیں ،ان کے پدربزرگوار ہیں،ان کے شوہر نامدار ہیں اوران کے فرزند ان ذی وقار ہیں۔”

کتاب ” فاطمہ اپنے باپ کی ماں” سے اقتباس/ مؤلف: علامہ حسن رضا غدیری

و قال النبی (ص) لبنتہ ؑ :”فاطمۃ ام ابیھا“
و قال (ص):”فداک ابوک یا فاطمۃ (س)“،
سیدہ کائنات ام المعصومین فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا:
سیدہ فاطمہ زہراء ؑ وہ عظیم ہستی ہیں جو مرکز تعارف اہل بیت ؑ ہیں ۔آپ حدیث کساء میں پڑھتے ہیں کہ اہل بیؑت جب ایک چادر میں اکھٹے ہوئے ۔توجبرئیل امین ؑ نےسوال کیا ۔ اے پروردگار !چادر کے نیچے جو ہستیاں موجود ہیں وہ کون ہیں :
یارب ومن تحت الکساء؟
تو خداوند عالم نے جواب میں ارشاد فرمایا:
“ھم فاطمۃ و ابوھا و بعلھا وبنوھا”
“وہ فاطمہ ؑ ہیں ،ان کے پدربزرگوار ہیں،ان کے شوہر نامدار ہیں اوران کے فرزند ان ذی وقار ہیں۔”
غورفرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بیت ؑ کے تعارف میں سیدہء کائنات فاطمہ زہراؑ کی ذات گرامی قدر کو مرکز و محور قرار دیا ہے،ورنہ بظاہر تو ایسا ہونا چاہئیے تھا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی قدر کے ذریعے تعارف کروایا جاتا اور یوں کہا جاتا :
ھم محمد و ابتۃ و صھرہ و سبطاہ
وہ محمد ہیں ،ان کی دختر نیک اختر ہیں ،ان کے داماد ہیں اور ان کے نواسے ہیں ۔کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد سب سے بڑی ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہے ۔آپؐ سے بڑھ کر دنیا میں کوئی شخص قابل عظمت نہیں۔
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
لیکن جب اہل بیتؑ کے تعارف کا مرحلہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضورؐکی بجائے سیدہ ؑ کائنات فاطمہ زہراؑ کی ذات گرامی کو چنا اور انہیں اہل بیت ؑ کے تعارف کامحور قرار دیا ،اس سے سیدہ ؑ کائنات کی عظمت و رفعت اور بلندمرتبے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔سیدہ ؑ کائنات ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بہت عظمتیں عطا فرمائی ہیں اور ان کا وجود ایک ایسی نورانیت کا حامل ہے کہ کائنات ؑ کی نورانیت اسی کی مرہون منت ہے ۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سیدہ ؑ کائنات ؑ مقدس نور کا ایسا پر تو ہیں کہ جس کی روشنی سے پوری کائنات منور ہو جاتی ہے۔
ہم اس سلسلہ بحث کا آغاز سیدہ ؑ کائنات کے بارے میں حضرت ختمی مرتبت سیدہ الانبیاءوالمرسلین محمد ؐ کے ایک ارشاد مبارک سے کرتے ہیں جس میں حضورؐ نے سیدہ کائنات ؑ کی جو صفت و منفرد و فضیلت بیان فرمائی ہے وہ کائنات میں کسی کو حاصل نہیں۔حضورؑ کا فرمان نہ تو اپنی خواہش نفس سے ہوتا ہے اور نہ ہی مصلحت اور ضرورت کے تحت ہوتاہے بلکہ اپؐ کی ہر بات وحی کی ترجمانی کرتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے بارے میں ارشاد فرمایا:
”وماینطق عن الھویٰ ان ھواالا وحی یوحیٰ“
وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا ،وہ جو بھی کہتا ہے وہ اس پر وحی ہوتی ہے ۔
اس قاعدہ کلیہ کی روشنی میں آنحضرت ؐ کے اس ارشاد گرامی قدر پر غور کریں تو حقائق کی ایک وسیع کائنات سامنے آجاتی ہے اور سیدہ کائنات ؐ کے نورانی وجود سے آگاہی ملتی ہے۔
لفظی و معنوی جمال کا مرقع:
”فاطمۃ ام ابیھا “ فاطمہؑ اپنے باپ کی ماں ہے۔
یہ کس قدر خوبصورت اور پر معنی جملہ ہے ۔اس کی معنوی خوبصورتی اس کے لفظی جمال کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے ۔ یہاں یہ بات عرض کرتا چلوں کہ اس جملے میں آنحضرتؐ نے جو ترتیب قراردی ہے اس سے الفاظ میں چھپے ہوئے نورانی اور لطیف معانی اپنے اندر پوشیدہ مفاہیم کی حقانیت کوآشکار اکرتے ہیں ۔ اس میں اپنی عظیم بیٹی ، ام المعصومیؑن ،ام الآئمؑہ ،ام السادات سیدہ ء کائنات فاطمہ زہراؑ کی عظمت بیان فرمائی ہے جس میں اپنے روحانی ، نسبی ، اور قربتی تعلق ونسبت کو منفرد انداز میں بیان کیا ہے ۔ اس جملے میں سب سے پہلے سیدہؑ کائنات کا اسم گرامی ( فاطمؑہ ) ذکر کیا ہے اس مقدس اور پاکیزہ نا م کے بارے میں مستند روایات اور احادیث کے ساتھ ساتھ حدیث قدسی بھی گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نام اپنے پاکیزہ اسم مبارک ”فاطر“سے مشتق کر کے اس معنوی قربت کے تناظر میں سیدہؑ کے لئے مختص قرار دیا ہے ۔ویسے تو اہل بیت اطہارؑ کے اسماء مبارکہ کے بارے میں اشتقاق کا تذکرہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
میں نے محمد ؐ کا نام اپنے نام ”محمود“ سے علی ؑ کا اپنے نام ”عالی “سے فاطمہ ؑ کا نام اپنے نام ”فاطر“ سے ،حسن ؑ کا نام اپنے نام ”محسن“سے اور حسینؑ کانام اپنے نام ”قدیم الاحسان “ سے مشتق کیا ہے۔
اللہ اکبر ، اللہ تعالیٰ کو یہ بھی گوارا اور پسند نہیں کہ ان ہستیوں کے نام اس کے علاوہ کوئی اوررکھے ۔اس نے اپنے کمال اور عظمت کے اظہار کے لئے ان ہستیوں کے اسماء گرامی قدر خود اپنے اسماء حسنیٰ سے اس لئے مشتق کئے کہ ان کے وجود کی عظمت اور پاکیزہ تاثیر سے عالم انسانیت منور و فیضیاب ہو۔رسول اکرم نے حضرت فاطمہ ؑ کے بارے میں ارشاد فریاتے ہیں :
“انما سیمت ابنتی فاطمۃ،لان اللہ فطمھا و فطم محیھا من النار“
میری بیٹی کا نام فاطمہؑ اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اوراس سے محبت کرنے والوں کو دوذخ کی آگ سے محفوظ کردیاہے۔
(بحارالانوار،جلد 43،صفحہ 15)
ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:
انما سمیت فاطمۃ ؑ لانھا فطمت اولادھا وموالیھا من النار“
انہیں فاطمہ ؑ کے نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اولاد اور ان کی محبت کا دم بھرنے والے ، دوذخ کی آگ سے محفوظ کردیئے گئے ہیں۔
لفظ ”فطم “ عربی زبان میں چھڑوانے کے معنیٰ میں آتا ہے ،اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے سیدہء کائنات ؑ کو جو عظمت عطا فرمائی ہے اس کا اثر ان سے روحانی تعلق اور محبت رکھنے والوں کی دنیاوی اور اخروی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں عزت و احترام اور آخرت میں اپنی رضا و خوشنودی کی نعمت سے نوازتے ہوئے سیدہء کائنات ؑ کی برکات کا اظہار فرماتا ہے اور انہیں شیطانی ٖ غلبہ، گناہ و معصیت اور دوذخ سے محفوظ کرتا ہے ،گویا انہیں برائی کی زنجیروں سے چھڑوالیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز کسی کو عطا نہیں فرما یا کی بیٹی ہوتے ہوئے اپنے باپ کی ماں کا درجہ پائے ،سوائے حضرت سیدہؑ کائنات کے جنہیں خود پیغمبرا سلام ؐ نے فرمایا : فاطمہ اپنے باپ کی ماں ہے، لفظ ام “ کہ جس کا عام لفظی ترجمہ”ماں “ہے وہ لغت میں ”اصل “ کے معنی میں آتا ہے۔ اسی حوالے سے آنحضرت ؐ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:
”انا شجرۃ و فاطمۃ اصلھا“
میں درخت ہوں اور فاطمؑہ اس کی جڑہے ۔
اس ارشاد گرامی قدر میں حضورؐ نے لفظ”ام“ کی بجائے اصل کا لفظ استعمال فرماکر لفظ ” ام “ کی حقیقت واضح کردی ہے جس کےبعد کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ ”ام ابیھا“کاکیا معنیٰ ہے اس حوالہ سے غور کریں کہ سیدہؑ کائنات کس معنیٰ میں حضور ؐ کی اصل ہیں ۔ عقلیں دنگ اور سوچیں حیران ہیں کہ بیٹی کس طرح باپ کا اصل ہے ؟ اور اسے کس معنیٰ میں لیا جاسکتا ہے ؟یہی تو ان مقدس ومطہر ومنور ومکرم و معظم ہستیوں کی ذوات مقدسہ کا کمال ہے کہ ہر کس نا کس کو ان کی حقیقت کے فہم و ادراک تک رسائی حاصل نہیں ۔شاید اسی مطلب کی طرف اشارہ ہوئے معصوم ؑ ارشاد فرماتے ہیں:
“امرنا صعب مستصعب لا یتحملہ الا نبیی مرسل اومک مقعب اومومن امتحن اللہ قلبہ بالایمان“
ہمارا معاملہ مشکل اور دشوار ہے اسے کوئی سمجھ نہیں سکتا سوائے خدا کے بھیجے ہوئے نبی کے یا خدا کے مقرب فرشتہ کے یا اس مومن کے کہ اللہ نے جس کے دل کا امتحان ،ایمان کے حوالہ سے لے لیا ہو۔اللہ اکبر،اس قدر عظیم مقام و منزلت کی حامل شخصیات کی ذوات مقدسہ کا ادراک آسان نہیں۔
اصل اور اصل الاصل:
سیدہ کائنات ؑ کو خاتم الانبیاءؑ نے اپنی ”ماں“ کے الفا ظ کی بجائے ”ام ابیھا“ (اپنے باپ کی ماں کے “الفاظ سے موسوم فرمایا ہے اس لطیف انداز بیان میں جو اہم ترین نکتہ ملحوظ ہے وہ یہ کہ اس میں شخص کی بجائے شخصیت سے نسبت کا اظہار مقصود ہے ۔عمومی و نسبی حوالہ میں عام طور پر اس طرح کے ا ظہار ات بالعکس معانی کے حامل ہوتے ہیں یعنی باپ کو اولاد کی اصل کہا جاتا ہے جو کی ظاہری وجود کے حوالہ سے یقینا درست ہے ۔اگر حضور ؐ اس نسبی قرابت کو بیان کرنا چاہتے تو یوں ارشاد فرماتے کہ ”انا اصلھا“میں اس کی اصل ہوں ۔یا یوں ارشاد فرماتے کہ”میں اصل ہوں اور فاطمہ ؑ درخت ہیں “(انا اصل وفاطمۃ شجرتہ) ۔ کیونکہ درخت سے پھل حاصل ہوتا ہے اوراولاد کا سلسلہ بیٹے یا بیٹی سے چلتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ سیدہؑ کائنات کو اصل اور جڑ اور خود اپنے آپ کو درخت کہہ کر آنحضرت نے دنیا والوں کے ظاہری وجود ی حوالوں اور نسبتوں کے معیار سے بالا تر ہو کر اپنے اور سیدہ کائنات کے وجودی نورانی معیار کی امتیاز ی جہت کو بیان فرمایا ہے جو انہی ہستیوں کا خاصہ ہے۔ اگر ہم اس حوالہ سے فرمان نبوی ؐ کی تفسیر و توضیح میں یہ کہیں کہ آنحضرت کا ارشارہ اس حقیقت کی طرف ہوسکتا ہے چونکہ ماں اولاد کی نسبت وجودی مصدریت اور سرچشمہ کی حیثیت رکھتی ہے اور سیدہ فاطمہؑ ذریت و نسل رسول اللہ کا وجودی مصدرا ورسر چشمہ ہے لہذا آنحضرتؐ نے انہیں اپنے باپ کی ماں کا لقب عطا فرمایا جو کہ اصل اور مصدر کی حقیقت کا حامل جامع و مانع لفظ ہے۔ پس سیدہؑ کا وجود اصل ہے اور حضور ؐ کا اصل الاصل ہے۔
لفظ ام کے استعمالی موارد:
لفظ” ام“ کے استعمال کا تذکرہ بھی ہوجائے تو خالی از فائدہ نہیں ہوگا۔
لفظ ”ام “کے بارے میں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ لغوی حوالہ سے اس کا معنی اصل ہے، اور قرآنی استعمال اس حقیقت کی کھلی گواہی دیتا ہے، چنانچہ مکہ مکرمہ کو ”ام القریٰ“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ روئے زمین پر ہر آبادی کی اصل یہ مقدس شہرہے ۔آیت کچھ اس طرح سے ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے لفظ ”ام“استعمال فرما کر مکہ مکرمہ کی مرکزی حیثیت کو واضح کردیا ہے :
“وکذالک اوحینا الیک قرآنا عربیا لتنذر ام القریٰ ومن حولھا”
اور اسی طرح ہم نے آپ پر قرآن عربی زبان میں نازل کیا تاکہ کہ آپ ام القریٰ قرآن اور اور اس کے ارد گرد والوں کو انذار کریں ۔
(سورہ شعراء آیت ۷)
اس لفظ کے عرفی استعمال کے موارد شمار سے باہر ہیں، مثلا عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب والدین ، قوم و قبیلہ ، علاقہ ، مملکت ، مذہب و ملت کے سربراہ یا بزرگ و معتبر شخصیات اپنی طرف سے محبت و قربت کا اظہار کرتے ہیں تو پیارے بچے، عزیز، اور بزرگوں کے نام سے پکارتے ہیں چنانچہ باپ بیٹے کو اباجان ابو جی، اور اس طرح کے الفاظ جب ماں بیٹے کو اما ں جان ، امی جی اور اس طرح کے الفاظ سے پکارتے ہیں اسی طرح دادا ،دادی ،نانا، نانی اور بزرگ افراد اپنے بچوں کو پیار محبت کے ساتھ خود اپنے مقام و مرتبہ کے الفاظ سے پکارتے ہیں ۔تو اس طرح کے استعمال میں پیار و محبت اور اس کے علاوہ دیگر عوامل کار فرما ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے الفاظ کے استعمال کو فقط درست قرار نہیں دیا جاتا بلکہ قابل تعریف و تمجید اور عزت و تکریم کا عکاس سمجھا جاتا ہے۔ گویا محبت کمالی پہلو کی حامل ہو تو اس طرح کے استعمال کی متقاضی ہوتی ہے۔ اور اس سے جہاں مخاطب اور متکلم کے درمیان عمیق تعلق اظہار ہوتا ہے وہاں دونوں کے درمیان انس و محبت کا رشتہ مزید مضبوط و مستحکم ہو جاتا ہے کہ جس کے پاکیزہ افکار زندگی کے گوناگوں مراحل میں ظاہر ہوتے ہیں،اور ان آثار کی عملداری نوع انسانی کی وجودی معراج بنتی ہے ۔
نسبی تعلق کے اظہار کے ساتھ ساتھ حسبی نسبت کی بنیاد پر بھی اس طرح کے الفاظ سے فضیلتوں کی تصویر کشی ہوتی ہیں۔چنانچہ کی معاشرتی روابط میں بھی اس طرح کے الفاظ کا استعمال دیکھنے کو ملتا ہے جس سے القاب پہلو اجاگر ہوتا ہے اور معنوی و مفہومی حقائق آشکار ہوتے ہیں۔
قولی و عملی حوالوں کا تجزیاتی تذکرہ:
ظاہر ہے کہ حضور ؐ کا ارشاد ( معاذ اللہ ) نہ تو بے معنی ہو سکتا ہے اور نہ ہی جذباتی ! اور نہ ہی ذاتی خواہش ! بلکہ آنحضرت کی مقدس و مطہر زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ ،حقائق کی ترجمانی کرتے ہیں ،اور حضور پاک ؐ کی نسبت سے مخصوص معانی ومفاہیم اور پاکیزہ واعلیٰ معارف ومعالم کے ساتھ عملی حکمتوں کے عکاس ہوتے ہیں۔
یہ بات تو واضح ہے کہ آپ کو ” ام ابیھا” کا لقب عطا کرنے والی والی شخصیت ہی اس قدر عظیم ا ور رفیع المقام ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بعد پوری کائنات میں سب سے افضل ہے ۔اگر وہ نہ ہوتے تو خدا کائنات کی کوئی چیز پیدا نہ کرتا ۔ تاریخ اس حقیقت وو اقعیت کی کھلی گوہی دیتی ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء محمد ؐ فریضہ ء نماز ادا کرنے کے بعد گھر تشریف لاتے اور اپنی جلیل القدر و عظیم ،المرتبت بیٹی کے ہاتھوں کو چومتے اور ”ام ابیھا“،اے اپنے باپ کی ماں ! فداک ابوک“ تیرا باپ تجھ پر فدا ہو، کہتے۔
حضور کا یہ عمل بذات خود قوی دلیل ہے اس کے بعد مزید کسی ثبوت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی ،البتہ یہ نکتہ ملحوظ خاطر رہے کہ جہاں حضور ؐ کا عمل امت کے لئے سنت کی حیثیت رکھتا ہے وہاں اس عمل کو امت کے لئے سنت قرار نہیں دیا گیا بلکہ یہ صرف حضور ؐ کی ذات سے مخصوص ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ کوئی باپ اس طرح کےالفاظ کا استعمال نہیں کرتا کہ اپنی بیٹی کو ماں جیسی عظمت سے نوازے ۔ یہ تو سیدہ ء کائناؑت کا اختصاص ، انفرادیت اور امتیاز ہے۔
عملی طور پر حضور ؐ نے سیدہء کائنات ؑ کی تکریم وتعظیم میں اسی طرح کے کردار کا مظاہرہ کیا جو ماں کیلئے کیا جاتا ہے ، مثلا ہاتھ چومنا ، پیشانی کا بوسہ لینا ، ان کےلئے کھڑے ہو جانا ،اپنی جگہ پر بٹھانا ۔شریعت اسلامیہ میں بھی ماں کیلئے بھی احترام لازمی قرار دیا گیا ہے البتہ ادب واحترام اور اظہار محبت کے طریقے ہر قوم ومعاشرہ میں مخصوص ہوتے ہیں عرب دنیا میں مذکور ہ بالا چار انداز ایسے ہیں جو عام طور پر اکرام واحترام کا مظہر سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ دیگر اقوام میں ان کے علاوہ مختلف انداز اپنائے جاتے ہیں۔ سیرت النبیؐ کی معتبر و مستند کتب میں آنحضرؐت کے معمولات کے باب میں مذکور ہے کہ آپؐ جب سفر پر جاتے تو سب سے آخرمیں سیدہؑ ء کائنات کے پاس تشریف لاتے اور ان سے رخصت ہوتے اور جب واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے سیدہ کائناؑت کے پاس آتے اور انہیں سلام کرتے تھے بلکہ روایات میں یہاں تک موجود ہے کہ سفر توسفر حضور ؐ جب بھی گھر سے باہر نکلتے تو پہلے سیدہؑ کائنات ؑ کے خانہ اقدس پر تشریف لاتے تو محبت والفت پر مبنی احترام کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کے سامنے اس طرح آکر بیٹھتے اور گفتگو فرماتے جس طرح ماں سے کی جاتی ہے اور اسی قرب و نسبت کے تناظر میں جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس دور کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آنحضرتؐ نے سیدہ کائناؑت کو ”ام ابیھا “کا لقب دیا اس طرح لقب کی عملی پاسداری کا ثبوت دیا ،اسی طرح سیدہء کائنات ؑ نےبھی حضور ؐ کی خیال رکھا اور شدید صورتحال میں اسی طرح دلداری کی جس طرح ماں کرتی ہے کہ حضورؐ کے لیے حقیقی ماں کی یاد تازہ کردیتیں ۔
ایک ناقابل انکار عملی حقیقت:
یہ ایک ناقابل انکار عملی حقیقت ہے کہ:
٭ کوئی ماں ،اولاد کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی
٭۔کوئی ماں اپنے آرام و سکون کو اولاد کے آارام پر قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتی
٭کوئی ماں کھانے پینے میں اپنی اولاد سے پہل نہیں کرتی
٭کوئی ماں ،اولاد کو جاگتا چھوڑ کر خود نیند نہیں کرتی
٭کوئی ماں اولاد سے پہلے خود کھانا نہیں کھاتی
اس طرح کے دیگر اعمال جو انسانی معاشرے میں رائج ہیں تو یہ انسانیت کے کمال درجات کا آئینہ دار ہیں،ان اعمال سے ”ماں“ کی اصل حیثیت کا اظہار ہوتا ہے ۔ سیدہؑ کائنات کے حوالے سے تاریخ ان تمام اعمال کا پتہ دیتی ہے کہ اگر چہ بیٹی تھیں مگر عملی طور پر”ماں “بن کر دکھایا ۔ عرب کے بدؤوں نے جب حضرت پیغمبر اسلام ؐ کو اپنی طرف سے نفرت کے تیروں کا نشانہ بنایا اور اذیت و آزار میں اخلاقی و انسانی حدیں پھلانگ گئے توان حالات میں سیدہ ء کائناؑت نے حقیقی ماں سے زیادہ محبت و خدمت گزاری کا عملی مظاہرہ کیا اور حضور ؐ کو آرام وسکون دینے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔سیدہ کائناتؑ اس وقت تک کھانا نہ کھاتی تھیں جب تک آنحضرت ؐ کو کھانا نہ کھلاتی تھیں ۔گندی صفات کے رسیاعرب جب حضور ؐ پر گندگی پھینکتے تھے تو یہ سیدہ کائنات ؑ ہی تھیں جو گندگی کو صاف کرتی تھیں اور حضوؐر کوماں کی طرح پیار اور عاطفت کا ماحول فراہم کرتی تھیں۔اس مقام پر میں تو کہتا ہوں کہ اگر سیدہ کائنات ؑ کو حضور ؐ نے ”ام ابیھا“(اپنے باپ کی ماں)کالقب دیا تو یہ سیدہ کائنات ؑ کے کردار کا نتیجہ تھا ۔
اللہ اکبر ،ماں کا مقام کس قدر بلند ہے اللہ تعالیٰ نے ماں کو کتنی عظمت عطا فرمائی ہے ،اس کا اندازہ تو اس بات سے ہوسکتا ہے کہ حضور پاکؐ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ اگر خدا کے بعد کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو میں ماں کو سجدہ کرتا۔اس عظیم ترین مقام و مرتبت اورمنزلت کے تناظرمیں ”ام ابیھا “کے لقب کی حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ سیدہ ؑ نے کس قدر عملی طور پر سیدہ کائناتؐ کی خیالداری کا حق ادا کیا ہوگا کہ حضور ؐ نے یہ لقب دیا اور اس عظیم اعزاز سے نوازا جو کہ اپنے مقام پر منفرد حیثیت کا حامل ہے۔
اپنی حقیقی ماں کا سایہ اس وقت اٹھ گیا تھا جب حضور ؐ اپنے ظاہری وجود کے زمانہ طفولت میں تھے کہ جب بچے کو ماں کی ممتا مطلوب ہوتی ہے (چھ سال)۔اورپھر وہ وقت بھی آیا جب اسی مطلوبیت کی تکمیل سیدہ کائناتؑ کے وجود کے ذریعے ہوئی ،،اور بیٹی نے محبت کے تمام تر تقاضوں کو پورا کیا۔یہاں یہ اہم ترین نکتہ قابل ذکر ہے کہ حضرت آمنہ ؑ کی رحلت کے فورا بعد جس ہستی کو ماں کے فرائض ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی وہ حضرت فاطمہ بنت اسد ؑ تھیں کہ جنہیں حضور ؐ نے ماں کہا کیونکہ اس معظمہ نے حضورؐ کی تربیت ونگہداشت اور دیکھ بھال میں ماں سے کم کردار ادا نہیں کیا ۔چنانچہ حضور ؐ فرمایا کرتے تھے کہ وہ میری ماں تھیں(ھی امی) لیکن الفاظ کے حوالے سے سیدہ کائنات ؑ کے لئے ”ھی امی “ کی بجائے ”ام ابیھا “ کہا کہ ان دونوں جملوں کی معنوی حیثیت میں بہت فرق ہے ۔ بہر حال حضرت فاطمہ بنت اسد سے اس طرح کا کردار متوقع بھی تھا کیونکہ وہ محسن اسلام حضرت ابو طالب ؑ کی زوجہ اور مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؑ کی مادر گرامی قدر تھیں ۔اللہ تعالیٰ نے انہیں عظمت ورفعت میں کمال درجہ عطا فرمایا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ جب تک آپؐ شعب ابی طالب ؑ میں محصور رہےحضرت فاطمہ بنت اسدؑہی تھیں جو حضورؐ کے ساتھ ماں بن کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہیں اور جس طرح خود ابو طلب ؑ نے حضور ؐ کی حفاظت میں اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا کر آپ ؐ کو کافروں ا ورمشرکوں کے شر سے بچایا تو حضرت فاطمہ بنت اسد ؑبھی ان کے ساتھ برابر کی شریک رہیں ،اور کسی مرحلہ مین حضورؐ کی خیالداری میں کمی نہ آنے دی۔
میری نظر میں ان دونوں ہستیوں کے کمال یقین اور پیر وِدین ہونے کا سب سے بڑا اور واضح ثبوت یہی ہے ۔ حضورؐ نے حضرت فاطمہ بنت اسد ؑ کو ”ماں “کہا ،لیکن جو الفاظ و انداز بیان اپنی بیٹی سیدہؑ ء کائنات کے بارے میں اختیار کیا وہ اپنے مقام و حیثیت کے حوالہ سے منفرد تھا ۔ سیدہ کائنات ؑ کی ذات گرامی قدر کو اللہ تعالیٰ نے مقام و منزلت عطا فرمائی اس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی ۔ان کا سیدہ کائناؑت کی حقیقی صلبی دختر ہونا سب سے پہلا اور بڑا اعزاز ہے۔
”فاطمۃ ام ابیھا“ کے الفاظ سے سیدہ کائنات ؑ کی عظمت کا پتا چلتا ہے ۔لفظ”ام“اصل معنی میں ملحوظ ہو تو حضورؐ کے ارشاد کے کئی پہلووں سے آگاہی حاصل ہوجاتی ہے۔سیدہ کائناؑت کو اصل ہونے کا جو خدائی اعزاز حاصل ہے اس مرکزیت و محوریت سے سیدہ کائنات ؑ کی عظمت ورفعت آشکار ہوتی ہے کیونکہ اصل سے مربوط ہر فرع اپنے وجودی تشخص اور صفاتی شناخت میں آخر کار اپنی اصل سے وابستہ ہوتی ہے ۔ وجود مصطفیٰؐ ،اصل الوجود ہے کیونکہ آنحضرؐت کے فرمان میں مذکور وجود الاصل بھی اسی کی فرع ہے،اسی سے اصل کا فرع سے اور فرع کا اصل سے معنوی و روحانی ربط بھی معلوم ہوجاتا ہے اس بابت سے میں کہتا ہوں کہ سیدہ ؑ اصل اور حضورؐ اصل الاصل ہیں۔
عین ممکن ہے کہ یہ بات ذہن کے دریچے میں خطور کرے کہ وجودی حوالہ سے سیدہ کائنات ؑ کو بیٹی ہونے کے ناطے اصل کی بجائے فرع کی حیثیت حاصل ہے لہذا انہیں اصل قرار دینا کس معنی میں درست نہیں بنتا اور اسے کسی طرح قرین صحت قرار دیا جاسکتا ہے ؟یعنی بیٹی ، باپ کے لئے کس طرح اصل ہو سکتی ہےاس کی معنوی حیثیت سے مربوط حقائق کا ادراک کیونکر ممکن ہے؟
تو اس ک اجواب واضح روشن ہے کہ یہاں اصل سے مراد نسبی اصل نہیں کیونکہ نسبی حوالہ سے حضورؐ کی ذات اقدس ہی اصل ہیں اور سیدہ کائنات ؑ کو فرع ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور فرع بھی ایسی کہ جس کی وجودی نسبی نظیر نہیں ملتی ۔نسب ونسبت میں فرع ہونے کا حوالہ بھی سیدہ کائنات ؑ کی مخصوص امتیازی صفت ہے اور اس موضوع سے مربوط مقام پر ثابت ہوچکا ہے کہ نسبی و نسبتی فرع ہونے میں بھی سیدہ کائنات ؑکے شریک نہیں بلکہ وہ اس حوالہ میں بھی منفرد ہیں اور اکیلی و اکلوتی ہونے اعزاز رکھتی ہیں۔بہر حال یہ ایک تاریخی موضوع ہے جس کی بابت یہاں بحث کرنا طوالت کا باعث ہوگا۔

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=28112