سلسلہ بحث مہدویت
تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)
امام عصر عج کی طولانی عمر مبارک
حضرت امام مہدی عليہ السلام کی زندگی سے مربوط بحثوں میں سے ایک بحث آپ کی طولانی عمر کے بارے میں ہے۔
اس وقت 1437 ھجری ہے. امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کی عمر مبارک 1182 سال ہے.
بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح ایک انسان کی عمراتنی طولانی ہوسکتی ہے؟!
اس سوال کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے زمانہ میں عام طور پر٠ ٨ سے٠٠ ١ سال کی عمر ہوتی ہے لہٰذا بعض لوگ عمر کا یہ دورانیہ دیکھنے اور سننے کی بنا پر اتنی طولانی عمر پر یقین نہیں کرپاتے یا اتنی طولانی عمر کو بعید اور ناممکن خیال کرتے ہیں۔ ورنہ تو طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے بھی کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔
دانشوروں نے انسانی بدن کے اعضاء کی تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان بغیر بوڑھا اور ضعیف ہوئے بہت زیادہ طولانی عمر پاسکتا ہے۔
برنارڈ شو کہتے ہیں:
”بیالوجسٹ ماہرین دانشوروں کے لئے قابل قبول اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کی عمر کے لئے کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی”(راز طول عمر امام زمان, علی اکبر مہدی پور, س 13)
پر وفیسر ”اٹینگر” لکھتے ہیں:
”ہماری نظر میں عصر حاضر کی ترقی اور ہمارے شروع کیے ہوئے کام کے پیش نظر اکیسویں صدی کے لوگ ہزاروں سال عمرپاسکتے ہیں”.(مجلہ دانشمند,سال 6،نمبر6،ص 147)
اس وقت بھی دنیا میں ایسے افراد کم نہیں جو مناسب کھانے پینے اور متناسب آب و ہوا اور دوسری بدنی و فکری سرگرمیوں کی بنا پر ١٥٠ سال یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں۔
اسکے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ انسانی تاریخ میں طولانی عمر کا متعددبار تجربہ اور آسمانی اور تاریخی کتابوں میں بہت سے ایسے افراد کا نام اور ان کی زندگی کے حالات بیان کئے گئے ہیں جن کی عمر آج کل کے انسان سے بہت زیادہ طولانی تھی۔
اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں اور مضامین لکھے گئے ہیں۔ ہم ذیل میں چند نمونے بیان کرتے ہیں:
١۔ قرآن کریم میں ایک ایسی آیت ہے جو نہ صرف یہ کہ انسان کی طولانی عمر کی خبر دیتی ہے بلکہ عمر جاویداں کے امکان (ہمیشہ کی زندگی )کے بارے میں خبر دے رہی ہے۔
چنانچہ حضرت یونس عليہ السلام کے بارے میں ارشادہوتا ہے:
فَلَولاَ اَنَّہُ کَانَ مِن المُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ اِلَی یَومِ یُبعَثُون(سورہ صافات,آیت 143)
”اگر وہ (جناب یونس عليہ السلام ) شکم ماہی میں تسبیح نہ پڑھتے تو قیامت تک شکم ماہی میں رہتے”۔
لہٰذا مذکورہ آیہ شریفہ بہت زیادہ طولانی عمر (جناب یونس عليہ السلام کے زمانہ سے قیامت تک) کے بارے میں خبر دے رہی ہے جسے ماہرین حیاتیات کی اصطلاح میں ”عمر جاوداں” کہتے ہیں.
(جاری ہے…..)












