1

ناگہانی آفات سے نمنٹے کےلئے پیشگی اقدامات اٹھائے جائیں، زاہد علی اخونزادہ

  • News cod : 35849
  • 06 جولای 2022 - 16:22
ناگہانی آفات سے نمنٹے کےلئے پیشگی اقدامات اٹھائے جائیں، زاہد علی اخونزادہ
ترجمان نے کہا ہے کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سیدساجد علی نقوی نے مون سون کی بارشوں کے دوران حالیہ بارشوں کی صورتحال پر اظہار تشویش اور مالی و جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناگہانی آفات سے نمٹنے کےلئے جوپیشگی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیے تھے۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ترجمان نے کہا ہے کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سیدساجد علی نقوی نے مون سون کی بارشوں کے دوران حالیہ بارشوں کی صورتحال پر اظہار تشویش اور مالی و جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناگہانی آفات سے نمٹنے کےلئے جوپیشگی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیے تھے وہ نہیں اٹھائے گئے کوئٹہ ، ہنزہ سمیت دیگر جگہوں پر جانی نقصان اظہار تاسف کرتے ہوئے کہاکہ بڑے شہروں میں انتظامی و ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلئے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، شہری تحفظ کے اداروں اور رضا کاروں ضروری آلات سے لیس کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے مون سون میں بارشوں کے سلسلے شروع ہوتے ہی کوئٹہ، ہنزہ، کراچی سمیت مختلف شہروں سے آنیوالی اطلاعات اور خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ شدید بارشیں یا دیگر ناگہانی آفات قدرت کی طرف آتی ہیں البتہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کےلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ لوکل انتظامیہ کے بھی فرائض میں شامل ہے کہ وہ پیشگی انتظامات کرے۔ جدید ترین آلات کے ذریعے جب موسم کی صورتحال کا پتہ لگالیا جاتاہے تو صرف وارننگ جاری کرنے پر ہی کیوں اکتفا کیا جاتاہے ؟ عملی اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟، ان بارشوں کے سبب نشیبی و میدانی علاقوں میں رہنے والے متوسط و غریب طبقات کی رہائشی آبادیوں کے نقصان کے ساتھ ساتھ انکی سماجی و اقتصادی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے مگر حکومتوں یا ذمہ داران کی طرف سے مسلسل اس اہم ترین سماجی و معاشرتی مسئلے پر آج تک سنجیدگی سے غور ہوا نہ ہی کوئی ماسٹر پلان مرتب کیاگیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان پہلے بھی متوجہ کرچکے کہ بڑے شہروں کی صورتحال یہ ہے کہ بے ہنگم آبادیاں بنائی گئیں ، ندی نالوں کی صفائیاں نہیں کی گئیں، کوڑا کرکٹ اٹھانے کےلئے کروڑوں کا بجٹ مختص کیا جاتاہے مگر اس کے باوجود صفائی نہ ہونے کے برابر ہے ، لائن لاسز کی مد میں بھی اربوں روپے عوام سے لئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود بجلی کے کھمبے اور تاریں بوسیدہ ہیں اور جب بھی اس طرح کی بارشیں ہوتی ہیں تو ایک طرف لوگ بوسیدہ تاروں ، کھمبوں سے کرنٹ کا شکار ہوتے ہیں تو دوسری جانب سیوریج سسٹم بہتر نہ ہونے کے باعث بارشی پانی ان کےلئے وبال جان بن جاتاہے، اس وقت حالیہ تیز ترین بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے جبکہ بارشوں کا یہ سلسلہ جاری رہتاہے تو پھر بڑے سیلاب کے بھی خدشات بڑھ جائینگے ۔ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے زور دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس جانب متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ شہری تحفظ کے نظام کو فعال کو کیا جائے، قدرتی و ناگہانی آفات سے نمٹے کےلئے پیشگی اقدامات کئے جائیں ، ندی نالوں کی صفائیوں کے ساتھ اووہیڈ برج اورفلائی اوورز کے ساتھ نکاسی آب کا نظام بہتر بنایا جائے جبکہ شہری آبادیوں کے حوالے سے بھی میکنزم مرتب کیا جائے تاکہ مستقبل قریب میں ایسی مشکلات سے بچاجاسکے۔واضح رہے کہ بلوچستان میں بارشوں کے سبب اب تک 7 سے زائد افراد دریائے ہنزہ میں 3افراد کے ڈوبنے، جگلوٹ سکردو روڈ کی بندش جبکہ کراچی سمیت دیگر شہروں میں نکاسی آب درست نہ ہونے کے سبب صورتحال انتہائی ابتر ہے

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=35849