2

امامت کی ضرورت اور افادیت خطبہ سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کی روشنی میں

  • News cod : 40953
  • 04 دسامبر 2022 - 8:49
امامت کی ضرورت اور افادیت خطبہ سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کی روشنی میں
بی بی دوعالم کی نظر میں امام کا تصور سیدہ نساء العالمین نے امام کی مفہومی وضاحت کی بجائے، اس کی عینی صفات پر روشنی ڈالی ہے تاکہ عملی اور مصداقی شکل میں امام کا تصور عیاں ہو جائے۔ اس بیان سے بی بی کے نزدیک امامت کا تصور اور اس کی صفات نہایت شفاف انداز میں سامنے آجاتی ہیں کیونکہ آپ نے امامت کی عملی تصویر کو سامنے رکھ کر اس کی صفات کا تذکرہ کیا ہے، جس کے مطابق امام ان صفات کا حامل انسان ہوتا ہے۔

حافظ محمد فرقان گوہر، المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم
چکیدہ
خطبہ فدکیہ کےنام سےشہرت پانے والا حضرت زہراءسلام اللہ علیہا کا یہ منفرد کلام؛ توحید، رسالت اورمعاد کے علاوہ فلسفہ احکام اوردیگرمعارف کا نہایت جامع ذخیرہ ہے۔ اس خطبے میں حضرت فاطمہ الزہراء علیہاالسلام نے امامت کی ضرورت اور افادیت کے بیان کو دو جملوں میں بندکردیا ہے۔ یہ دو جملے اسلامی معاشرے میں امامت کے مرکزی کردار کا بیان ہیں۔ پیش نظرمقالہ ان دو جملوں میں چھپے بنیادی مفاہیم کا علمی تجزیہ پیش کرتا ہے اور امامت کے باب میں نہفتہ مفاہیم کو اسلامی تہذیب کے فکری، ثقافتی اور اجتماعی پیرائے میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے پہچاننا مقصود ہےکہ بی بی دو عالم کی نگاہ میں امامت کا تصور کیا ہے؟ اور آپ کی نظر میں امامت کو کس عنوان سے توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے اور اسلامی سماج میں اس کی ضرورت کس وجہ سے ہے؟ علمی ضرورت کے پیش نظر، خطبہ کے مآخذ ومصادر اور مذکورہ جملوں کے علمی اختلافات کی طرف اشارہ بھی اسی مقالے کا حصہ ہے۔
کلیدی کلمات: امامت۔ خطبہ فدکیہ۔ وحدت۔ نظم۔ امت اسلامی۔ فلسفہ احکام
مقدمہ
اسلام کے نکتہ نظر سے رسول خدا( ص) کے بعد ہدایت کا سلسلہ بارہ اماموں کی رہنمائی میں آگے بڑھتا ہے تاکہ وہ امت کی رہبری کا ذمہ لیں اور اسے انحراف اور کج روی سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس فہم کی ایک اہم دلیل حدیث ثقلین ہے جس پر شیعہ اور اہل سنت کا اتفاق ہے۔(1) حتی کہ اس حدیث کو تواتر یا کم از کم استفاضہ کا درجہ حاصل ہے۔(2) تواتر کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کا رسول خدا ص سے صادر ہونا یقینی اور استفاضہ سے مراد یہ ہے کہ اسناد حدیث کی کثرت کی وجہ سے اس کے صادر ہونے کا اطمئنان حاصل ہے۔ اس حدیث کے مطابق رسول خدا ص نے اپنے بعد دو گرانقدر چیزیں چھوڑی ہیں، ایک قرآن اور دوسرے اہل بیت ع، ان دو کادامن مضبوطی سے تھامے رکھنا انسان کو گمراہی سے بچا سکتا ہے۔ (3)
بی بی زہراء سلام اللہ علیہا کے اس خطبے میں بھی بالکل یہی دو چیزیں اپنی اپنی جگہ پر بیان ہوئی ہیں۔ خود اہل بیت علیہم السلام کے کامل ترین مرکزی کردار ہونے کے ناطے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اس خطبے میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کی دقیق ترین تفسیر پیش کی ۔سب سے پہلے توحید پروردگار کے متعلق انسانی خیالات کی نارسائی کا ذکر اور تخلیق کائنات کی حکمت کا تذکرہ فرمایا۔ پھر بعثت پیغمبر(ص) کے اہداف کا ذکر فرمایا اوراس کے طفیل امت اسلامی کو ملنے والے معرفت کے خزینوں اور علم کی نورانی کرنوں کا بھی جنہوں نے جاہلیت کے اندھیروں میں جلا بخشی اور انہیں گمراہی سے نکال کر ہدایت سے سیراب کیا۔
اس کے بعد آپ نے امت کا مرکزی کردار بتلایا۔ اور اصحاب پیامبر ص سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم ہی ہو جنہوں نے اسلام کا پیغام باقی امتوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے بعد حدیث ثقلین کے پہلے حصے جسے ثقل اکبر کہا گیا ہے، یعنی قرآن کی طرف آئیں۔ فرمایا کہ یہ اللہ کی ناطق و صادق کتاب ہے۔ جس کی پیروی انسان کو مقام رضوان تک پہنچا سکتی ہے۔ اور اللہ کی نورانی حجتوں، برہانات، واضح دلائل اور فرائض و محرمات کا علم اسی سے ملتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے اللہ کے تشریع کردہ آخری دین کے بنیادی ڈھانچے کی تفسیر پیش کی۔ اور فلسفہ شریعت کو بیان کیا۔ اسی زمرے میں امامت کا ذکر اور اس کی ضرورت کو بیان کیا۔خطبے کا سیاق و سباق یہ بتلاتا ہے کہ امامت ایک تشریعی امر ہے۔ جس طرح نماز، روزہ، حج ، زکات اور جہاد کو اللہ تعالی نے انسان کی مصلحت کے لیے وضع کیا ہے، اسی طرح اما مت کا تصور بھی اسلام کی نظر میں اہم ترین اجتماعی ،مذہبی اور فکری ضرورت کی بنیاد پر اللہ تعالی کی طرف سے ہی ہوا ہے۔(4) اس مختصر مقالے میں خطبہ فدکیہ کے بارے میں اہم نکات پر مختصر روشنی ڈالنے کے بعد آپ کے بیان کردہ فلسفہ امامت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
خطبہ فدکیہ کے بنیادی مآخذ:
یہ خطبہ اگرچہ بعض لوگوں کے لیے قابل ہضم نہ تھا اوروہ اسے تیسری صدی کے معروف ادیب ابو العیناء کی پیداوار قرار دیتے تھے، تاہم جیسا کہ ابن طیفور نےاپنے زمانے کی بہت بڑی علوی شخصیت زید بن علی سے نقل کیا ہے کہ علوی سادات خاندان کے درمیان یہ خطبہ ابو العیناء کے داداکی پیدائش سے بھی پہلے رائج تھا اور وہ اسے نسل در نسل اپنے بچوں کو سکھلاتے اور یاد کرواتے تھے۔ (5)
ہمارے پاس موجود مآخذ میں بلاغات النساء کے مصنف ابن طیفور(وفات۲۸۱ه.ق) وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے اس خطبے کو سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ابن طیفور تاریخ‌و ادب کا ماہر ایک غیر جانبدار معتدل اہل سنت لکھاری تھا، جس نے دنیائے عرب کی فصیح و بلیغ مسلمان خواتین کے خطبات کو بلاغات النساء نامی کتاب میں اکٹھاکیا ہے۔ بی بی دوعالم کے اس خطبے کی بے انتہا بلاغت کے پیش نظرہی ، ابن طیفور نے اسے اپنی کتاب میں جگہ دی۔ (6)
یہ خطبہ مکمل یا نامکمل انداز میں، شیعہ کے بہت سے علمی مآخذ میں سند کے ساتھ نقل ہوا ہے۔ کثرت مصادر کے باعث اسے شہرت کا درجہ حاصل ہے، اور یوں اس کی صحت صدور کا اطمینان حاصل ہوجاتا ہے۔ (7)
موجودہ شیعی مآخذ میں سب سے پہلے شیخ صدوق(وفات381ہ۔ق) کا نام آتا ہے ۔ علل الشرائع میں شیخ صدوق نے اس خطبے کی تین اسناد بیان کی ہیں۔ یہ تینوں سندیں زینب بنت علی ع پر ختم ہوتی ہے جو اپنی والدہ ماجدہ حضرت زہراء علیہا السلام کی زبانی اسے نقل کرتی ہیں۔(8) شیخ صدوق نے اپنی دوسری کتاب «من لایحضرہ الفقیہ» میں بھی اسے قلم بند کیا ہے، البتہ سندی لحاظ سے اس میں کوئی نیا اضافہ شامل نہیں ہے اور علل الشرائع میں نقل شدہ اسناد میں سے ایک سند کے ساتھ جو بظاہر زیادہ معتبر تھی، اسے یہاں نقل کر دیا ہے۔ یہ دونوں کتابیں کیونکہ فقہی نوعیت کی ہیں، اس لیے مکمل خطبہ نقل نہیں ہوا۔ علل الشرائع احکام شریعت کی حکمت کے بیان پر مبنی کتاب ہے، اس لیے موضوع کی مناسبت کے پیش نظر خطبے کا صرف مربوطہ حصہ نقل کیا گیاہے، اور من لایحضرہ الفقیہ میں بھی تھوڑا مزید اضافہ شامل ہے۔ تاہم شیخ صدوق نے اشارہ کیا ہے کہ خطبہ طولانی ہے اور ہم اپنی ضرورت کے پیش نظر صرف یہی حصہ نقل کر رہے ہیں۔ (9)
سید مرتضی نے الشافی فی الامامۃ میں اس خطبہ کی دو سندیں نقل کی ہیں، جن میں سے ایک حضرت عائشہ زوجہ پیامبر گرامی(صلوات الله علیہ و آلہ) پر ختم ہوتی ہے جبکہ دوسری سند کا اختتام تیسری صد ی کی ایک شخصیت عبیداللہ پر ہوتا ہے جو ابن عائشہ کے نام سے مشہور تھا، یوں یہ سند منقطع ہے۔ (10)
طبری آملی شیعی نے دلائل الامامہ میں اس کی مختلف اسناد ذکر کی ہیں، جن کی تعداد نو بنتی ہے، جن میں سے بعض اسناد میں مکمل جبکہ بعض میں نامکمل نقل ہوا ہے(11)۔ قاضی نعمان نے شرح الاخبار میں اسے نقل کیا ہے(12)۔ طبرسی نے احتجاج میں سند کا اکثر حصہ حذف کرکے اسے نقل کیا ہے۔(13) اربلی نے کشف الغمہ میں اسے جوہری کی کتاب السقیفہ و الفدک سے جو چوتھی صدی کی تالیف ہے، مختلف اسناد کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(14) ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی اس خطبے کا ایک حصہ نقل کیا ہے۔ (15)
متن پر ایک نظر:
بظاہر ایک طویل عرصہ تک شفاہی و گفتاری رہنے کے پیش نظر خطبہ کے متن میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ اختلاف آج کا نہیں ہے،چنانچہ شیخ صدوق نے علل الشرائع میں اس اختلاف کی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ(وَزَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي اللَّفْظِ)(16) مطلب یہ ہے کہ لفظی اعتبار سے راویوں کے درمیان الفاظ میں کمی بیشی موجودہے۔ عبداللہ شبر نے اپنی شرح میں احتجاج طبرسی والی روایت کو اصل مان کر باقی مصادر کے اختلاف کو حواشی میں ذکر کیا ہے۔ (17)
مکمل متن کے اختلافات کا ذکر اس تحریر میں مقصود نہیں ہے، صرف امامت سے متعلقہ حصے میں پائے جانے والے متنی اختلافات اور اس کے معانی پر پڑنے والے اثرات کی طرف اشارہ کریں گے ۔
امامت کے حوالے سے پائے جانے والے دو جملوں میں سے پہلا جملہ اطاعت اور نظم کے رابطے کے متعلق ہے۔ جبکہ دوسرا جملہ امامت کے وحدت امت کے ساتھ رابطے کا بیان ہے۔ْپہلے جملے میں پائے جانے والے اختلافات درج ذیل ہیں۔ پہلا یہ کہ «طاعۃ» کا لفظ دو طرح سے نقل ہوا ہے۔
ایک: فَجَعَل َاللَّهُ۔۔۔طَاعَتَنَانِظَاماًلِلْمِلَّةِ(18) اللہ تعالی نے «ہماری اطاعت» کو ملت کے لیے نظم و ضبط کا سبب قرار دیا ہے۔
دوسرا: فَفَرَضَ اللَّهُ۔۔۔الطَّاعَةَ نِظَاماً لِلْمِلَّةِ(19) اس روایت میں «الطاعۃ» کا لفظ استعمال ہوا ہے۔یعنی اللہ تعالی نے اطاعت کو ملت کے لیے نظم و ضبط کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
دوسرا اختلاف بھی اوپر کی عبارات میں مذکور ہے کہ جو فرض اور جعل کے لفظ کا ہے۔ پہلی تعبیر کے مطابق «اللہ تعالی نے ہماری اطاعت کو قرار دیا ہے ۔۔۔»اوردوسری تعبیر میں« اللہ تعالی نے اطاعت کو فرض کیا ہے»۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی بنتا ہے۔
تیسرا اختلاف ابن طیفور کے نسخے میں ہے ، وہاں « ملت» کا لفظ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
ففرض الله۔۔۔طاعتنانظاما (20)
ان اختلافات میں سے صرف «طاعت» کے لفظ میں یہ عندیہ مل سکتا ہے کہ اطاعت اہل بیت ع مراد ہے یا مطلق اطاعت؟ کیونکہ جہاں«طاعتنا یعنی ہماری اطاعت» کا لفظ موجود ہے وہاں تو صاف واضح ہے کہ مراد اہل بیت ع کی اطاعت ہے اور جہاں «الطاعة»کا لفظ ہے وہاں کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ عمومی طور پر حکمرانوں کی اطاعت مراد ہے۔ کیونکہ سیاسی نظم و ضبط کا تعلق بھی اطاعت سے ہے۔ یہی نظم و ضبط اس اطاعت کی ضرورت کی وجہ بنتا ہے۔ پس اس میں اہل بیت ع کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رہتی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں الطاعۃ ، الف و لام کے ساتھ ذکر ہوا ہے یہ الف و لام ادبی قواعد کے اعتبار سے چاہے عہد کا ہو یا تعریف کا، معنی واضح ہے کہ ہر قسم کی اطاعت مراد نہیں ہےبلکہ خاص اطاعت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہی اطاعت ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ جو اطاعت خدا اور رسول کی اطاعت کے ذیل میں آتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کرو۔(21) یہی وہ اطاعت ہے جو ملت اسلامیہ کے درمیان نظم و ضبط کا باعث بنتی ہے۔ لیکن کیسے ؟ اس پر آگے چل کر مزید گفتگو کریں گے۔
دوسرے جملے کے حوالے سے بھی لفظی اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاہم اس کا معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مصادر نے یہ جملہ چند الفاظ سے نقل کیا ہے۔
وَإِمَامَتَنَالَمّاًلِلْفُرْقَةِ، (22)اور(الله تعالی نے) ہماری امامت کو اختلاف سے بچنے کے لیے ہم آہنگی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
الْإِمَامَةَلَمّاًمِنَالْفُرْقَةِ(23) اور(الله تعالی نے) اس امامت کو اختلاف سے اجماع اور ہم آہنگی تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا ہے
إمامتناأمنامنالفرقة(24) اور(الله تعالی نے) ہماری امامت کو تفرقے سے بچنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
وَإِمَامَتَنَاأَمَاناًلِلْفُرْقَةِ(25) اور (الله تعالی نے) ہماری امامت کو تفرقے کے لیے امان اور پناہ قرار دیا ہے۔
تعبیر کے لحاظ سے« ہماری امامت» اور« الامامۃ» میں کوئی جوہری اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ یہ وہی امامت ہے جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے۔ یہی وہ امامت ہے جو حضرت ابراہیم ع کو بھی ملی اور اس سے ہدایت کا سفر آگے بڑھتا ہے۔ اسی طرح چاہے تفرقہ سے بچنے کے لیے امان اور پناہ گاہ کا لفظ استعمال ہو یا(لم) یعنی ہم آہنگی اور اجماع کا ، مفہوم ایک ہی ہےکہ یہ امامت ہی ہے جس کے ذریعےامت تفرقے اور دھڑے بندی سےمحفوظ رہ سکتی ہے۔
بی بی دوعالم کی نظر میں امام کا تصور
سیدہ نساء العالمین نے امام کی مفہومی وضاحت کی بجائے، اس کی عینی صفات پر روشنی ڈالی ہے تاکہ عملی اور مصداقی شکل میں امام کا تصور عیاں ہو جائے۔ اس بیان سے بی بی کے نزدیک امامت کا تصور اور اس کی صفات نہایت شفاف انداز میں سامنے آجاتی ہیں کیونکہ آپ نے امامت کی عملی تصویر کو سامنے رکھ کر اس کی صفات کا تذکرہ کیا ہے، جس کے مطابق امام ان صفات کا حامل انسان ہوتا ہے۔
پہلی صفت: «مكدودا في ذات الله‏» (26)
امام اللہ کی ذات اور اس کے دین کے بارے میں حد درجہ انتھک اور مجاہد ہوتا ہے۔ اس کی تمام تر کوشش یہ ہوتی ہے کہ اللہ کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کی جائے، جس کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا، چاہے میدان بدر، احدا ور حنین و خیبر ہو یا پھر بستر رسول(لیلۃ المبیت) ، مسند خلافت ہو یا پھر مسجد و بیت اللہ، امام کی تمام تر کاوشیں اللہ کی راہ کے لیےوقف ہوتی ہیں۔
اسی صفت کو بعض مصادر میں مزید اضافی تعبیر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، فرمایا :« ِمُجْتَهِداًفِيأَمْرِاللَّه‏»(27) معنی کے لحاظ سے یہ پہلے ہی کے قریب ہے۔ لہذا اغلب مصادر میں نہ ہونے کی وجہ سے معنی میں کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا۔
دوسری صفت: ِ«قَرِيباً مِنْ رَسُولِ اللَّه‏» (28)
رسول خدا ص سے قربت اور نزدیکی امام علیہ السلام کی دوسری صفت ہے۔، اس سے مراد قطعی طور پر جسمانی یا مادی قربت نہیں ہے، کیونکہ موضوع اس شان کا متقاضی نہیں ہے، ہدایت کا موضوع اس بات کا متقاضی ہے کہ قرابت بھی اسی نوعیت کی ہو۔ لہذا معنوی ، اخلاقی ،علمی وفکری قربت مراد ہے۔ یہ وہی مقام «انفسنا و انفسکم»(29) ہے جس کی طرف آیہ مباہلہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔یا وہی علمی قربت جو شہر علم اور اس کے دروازے میں ہوتی ہے۔ (30)
تیسری صفت:«سيدا في أولياء الله» (31)
ولایت قرب پروردگار کا مفہوم دیتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اولیاء کی ولایت میں سب کی سرداری امام کو حاصل ہوتی ہے. یعنی اسلام کے فکری منظومے میں مقام ولایت اسی امام کو حاصل ہوتا ہے اور یوں سب اہل ولایت اپنی ولایت اور قربت پروردگار کے بنیادی اصول امام سے دریافت کرتے ہیں۔
یہ تو آسمانی صفات ہیں. دوسری طرف کچھ زمینی صفات بھی ہیں جو بعض مصادر کے مطابق اس خطبے میں ذکر ہوئی ہیں۔
سب سے پہلی صفت یہ ہے کہ امام محنت شاقہ، سعی و کوشش اور جدوجہدمسلسل کا نمونہ ہوتا ہے۔ اسے بی بی نے تین لفظوں میں«مشمر، مجدّ» اور«کادح»(32) کی تعبیر کے ساتھ بیان کیا ہے۔
دوسری صفت: خیرخواہی ہے۔ امام اپنی امت کا خیرخواہ ہوتا ہے۔بی بی نے اسے ناصح کی تعبیر کے ساتھ بیان کیا ہے۔(33) امام کو امت کی خیرخواہی عزیز ہوتی ہے اور اس کی خاطر اپنے ذاتی حقوق سے درگزر بھی کر سکتا ہے۔
یہ وہ صفات ہیں جو بی بی دوعالم ع نے مصداقی انداز میں بیان فرمائی ہیں۔ ان صفات کا تذکرہ بی بی نے اسوقت کیا جب آپ امام علیؑ کا لوگوں سے تعارف کروایا اور فرمایا کہ حضرت علی ع ان صفات کی حامل شخصیت ہیں ، جنہیں مقام امامت پر فائز کیا گیا ہے۔
ان بنیادی باتوں کی وضاحت کے بعد ، اب ان دو جملوں میں موجود امامت کی ضرورت اور افادیت کے بیان کا جائزہ لیتے ہیں ۔اس حوالے سے ہم نے بی بی سلام اللہ علیہا کے کلام ہی کی روشنی میں ضرورت امامت کے بیان کو دو اہم حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں اجتماعی نظم و انتظام کا اطاعت اہل بیت ع کے ساتھ تعلق کا بیان ہے اور دوسرا حصہ وحدت امت اور امامت کے باہمی ارتباط کے بیان پر مشتمل ہے۔
امامت اور اجتماعی نظم:
امامت کی افادیت اور ضرورت کے بیان میں سب سے پہلا نکتہ جو بی بی دو عالم علیہا السلام نے اٹھایا ہے وہ نظم اجتماعی سے متعلق ہے۔ آپ کی نظر میں ملت اسلامیہ ایک الگ تشخص کی حامل قوم ہے، جس کے اجتماعی نظم و انتظام کے لیے امامت کا وجود ضروری ہے۔چنانچہ بی بی نے اس تشخص کے بیان کے لیے (الملة) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس ملت کو فکری، اجتماعی ، ثقافتی اور تہذیبی سطح پر نظم کی ضرورت ہے جو اس کے الگ تشخص کے ساتھ اس کی بقاء و دوام کا ضامن ہو۔
بی بی سلام اللہ علیہا کا مخاطب وہ لوگ تھے جو حکمرانی اور سیاسی نظم و انصرام کی ضرورت کو سمجھتے تھے، ان کا اصلی مسئلہ یہ تھا کہ یہ نظم کیسے اس آئیڈیل کیفیت میں ہوسکتا ہے جس کے بعد امت کی ترقی اور تکامل کا سفر بہتر طے ہوسکے تو آپ نے فرمایا کہ یہ مہم ہماری اطاعت سے سرانجام پائے گی۔
منطقی ارتباط کی تلاش:
اب اصل سوال کی طرف آتے ہیں کہ اطاعت اہل بیت علیہم السلام کا نظم ملت سے منطقی رابطہ کیا ہے؟ تو اس کا حلقہ مفقودہ ہدایت اور ولایت ہے۔ قرآن کریم نے امامت کو ہدایت سے جوڑا۔ فرمایا ﴿وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا﴾(34) یعنی ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے امر سے ہدایت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ یہ آیت اگرچہ بنیادی طور پر انبیاء کے متعلق ہے، لیکن قرآنی امامت کے مفہوم و مقصود کو واضح کرنے میں ہمارے لیے مددگار ہے۔ یہ آیت بتلا رہی ہے کہ امامت حقہ کا اہم ترین فریضہ ہدایت کرنا اور راستہ دکھانا ہے۔ یعنی ایک طرف تو ہدایت کے ذریعے ملت کی بصیرت افزائی اور انہیں حقیقت سے آگاہی بخشنے کا مربوط نظام امامت کے ذمے ہے تو دوسری طرف ولایت کا رشتہ جو امام اور امت کے درمیان قائم ہوتا ہے، وہ اس اطاعت کا متقاضی ہے۔ یوں ہدایت اور ولایت کے باہمی ملاپ سے معاشرے میں اطاعت کی وہ شکل قائم ہوتی ہے جس میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کی رضامندی شامل ہوتی ہے۔ یہی وہ اطاعت ہے جو امت کو نظام یافتہ اور آئیڈیل بناتی ہے۔
امام اور وحدت امت:
دوسرے جملے میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے امامت کا تعلق امت کی باہمی ہم آہنگی اور وحدت سے جوڑا ہے۔فرمایا ہماری امامت تفرقے سے بچنے کے لیے پناہ گاہ ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ دو مختلف تعبیریں اس حوالے سے مصادر میں ملتی ہیں، لیکن دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ ایک تعبیر« لما للفرقہ» ہے، جس کا مطلب ہم آہنگی اور اجتماعیت ہے۔ یعنی آپس کی دوریاں اور تفرقے بازی اور گروہ بندی سے بچنے کا ذریعہ امام ہی ہے۔ دوسری تعبیر «امنا من الفرقۃ» ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تفرقے سے محفوظ امن کی پناہ گاہ میں رہنے کے لیے امامت کا وجود ضروری ہے۔
امام کیسے وحدت قائم کرتا ہے؟
یہ سوال بہت اہم ہے کہ امام وحدت کے قیام میں اپنا کردار کیسے ادا کرتا ہے؟
جواب یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں اخلاقی اجتماعی نظام کے قیام کی اصل ذمہ داری امام پر عائد ہوتی ہے۔ ایک ایسا نظام جس سے تفرقے کی جڑیں کمزور ہوجائیں اور ہم آہنگی کی فضا قائم ہو۔ تفرقہ اس معاشرے میں پروان چڑھتا ہے جہاں جہالت ، تعصب اور کینہ پروری ہو۔ جبکہ امام، علم و معرفت اور محبت و ولایت کے ذریعے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا قائم کرتا ہے۔چنانچہ رسول خدا ص نے جب معاشرے کی امامت کا ذمہ لیا تو مدینہ میں اخوت کی فضا پیدا ہوئی اور آپ نے انصار اور مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔(35) ا س طرح خود انصار جو اوس اور خزرج کے دو یمنی قبائل پر مشتمل تھے، کئی دہائیوں سے جنگ و خونریزی اور آپس کی دشمنی کا شکار تھے ،وہ اسلام کی بدولت مل جل کر رہنے لگےچنانچہ قرآن کریم نے اس فضا کو ستودنی انداز میں بیان کیا ہے، فرمایا:
یاد کرو اس زمانے کو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اور اللہ تعالی نے تمہیں بھائی بنا دیا اور تم آگ کے دہانے پر کھڑے تھے تو اللہ تعالی نے تمہیں بچا لیا»۔ (36)
چنانچہ رسول خدا ص نے تمام لڑائیوں کو جو اسلام سے قبل چھوٹے چھوٹے مفاد کی خاطر ہو جایا کرتی تھیں، جاہلیت کی لڑائی قرار دے دیا۔ معروف واقعہ ہے کہ شاس بن قیس یہودی نے ان جنگوں کی یاد دلا کر ایک بار پھر سےاوس و خزرج کو بھڑکا کرلڑانے کی کوشش کی تو آنحضرت فورا جائے وقوعہ پر پہنچے اور صلح کروائی اور فرمایا« الله الله، أ بدعوى الجاهليّة و أنا بين أظهركم‏ (37)» کہ کچھ خدا کا خوف کرو، ابھی تو میں زندہ سلامت ہوں، ابھی سے جاہلیت کی لڑائیاں لڑنے لگ گئے ہو۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ انصار اور مہاجرین میں درمیان جھگڑا ہو گیا تو رسول خدا ص نے فرمایا ایسے جھگڑوں کو چھوڑو کہ ان سے بہت زیادہ بدبو اور تعفن کا سا ماحول پیداہوتا ہے«دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ»۔ (38)
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تفرقہ ایک معاشرتی عمل ہے جو خاص اجتماعی کیفیات کا عکاس ہےاور جب پورا معاشرہ مل کر تفرقہ پھیلاتا ہے،تو معاشرہ اجتماعی طور پر تعصب، محدود سوچ اور ظاہر مآبی جیسے امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے، تو اس معاشرے سے وابستہ افراد کا شیوہ ہمیشہ حق بجانب لہجے میں دوسروں پر تنقید کرنا اور اپنی پاکیزگی کو حقانیت جبکہ مخالف کی باطنی خباثت کو مخالفت کی یقینی وجہ ماننا ٹھہرتا ہے، جسے کے نتیجے میں کسی بھی فریق کا اپنی مخالف سوچ کو برداشت نہ کرنے کا ماحول فراہم ہو جاتا ہے، ایسے میں بینات اور دلائل بے معنی ہو جاتے ہیں، کیونکہ اجتماعی نفسیات میں یہ بات راسخ ہوچکی ہوتی ہے کہ اختلاف کی وجہ دلائل نہیں بلکہ مد مقابل کی باطنی خباثتیں ہیں، قرآن کی اس آیت پر غور کرنے کی ضرورت ہے جس میں فرمایا ایسی قوموں کی طرح نہ بنو جو تفرقہ پھیلاتی ہیں اور بینات آ جانے کے بعد اختلاف کرتی ہیں ۔(39) اس آیت کا پہلا حصہ مذکورہ بالا اجتماعی نفسیات کا عکاس ہے ۔ اور دوسرا حصہ اسی اجتماعی کیفیت کے منفی اثرات کی طرف اشارہ کر رہا ہے، یعنی جب معاشرہ تفرقہ کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو پھر بینات آ جانے کے بعد بھی اختلاف کرنا ان کی مجبوری بن جاتا ہے۔ اس قسم کا معاشرہ ہر لمحہ بکھر رہا ہوتا ہے، اور اس میں دھڑے بندیاں مجبوری بن جاتی ہیں۔ ایسے میں دین ہو یا کوئی بھی دوسرا اجتماعی معاملہ، فکری اختلاف سے تفرقہ ہی کا نتیجہ ملتا ہے۔ اس بحران سے نجات کے لیے معاشرتی روح کی تلاش ضروری ہے جس کا وجود یا عدم وجود معاشرے کو وحدت یا تفرقہ کی طرف لے جاتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ ایک زندہ موجود ہے، جسطرح انسان ایک زندہ موجود ہے، اس لیے اس کے اندر روح کی موجودگی معاشرتی ہمبستگی، اور ہمدلی کا سبب بنتی ہے۔ جبکہ اس روح کا خلا معاشرے کو بکھیر دیتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں اجتماعی توحید ہی وہ روح ہے جس کی بدولت تمام مسلمان معاشرے وحدت سے مالا مال ہوسکتے ہیں اور اس اجتماعی توحید تک پہنچنے کے لیے امامت کا وجود ضروری ہے۔یہ امامت چاہے انبیاء کرام کے ہاتھ میں رہے یا ان کے جانشین اور معین شدہ نائب کے ہاتھوں انجام پائے، امام ہی اسے توحید کے راستے پر گامزن کر سکتا ہے، کیونکہ یہ وہ ہمہ گیر سنگین اجتماعی ذمہ داری ہے، جس سے عہدہ برا ء ہونے کے لیے امامت کا مخصوص علم ، اپنی بلندی کردار کے ساتھ ساتھ ہدایت افکار کا فریضہ سرانجام دیتا ہے اور اسلامی معاشرے کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
تفرقہ کی اصل علّت ظلم اور نا انصافی ہے، کیونکہ ظالم اپنے ظلم کو باقی رکھنے اور چھپانے کے لیے مختلف غلط ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ وہ حقائق کو چھپاتا ہے اور جھوٹ کا بازار گرم کرتا ہے، اور دوسری طرف سے مظلوم اور بے بس لوگ اپنی زندگی گزارنے کے جتن کرتے ہیں۔ عدل اور ظلم کے درمیان حقیقی دراڑ موجود ہے، اس لیے ظلم جس سماج میں رائج ہو جائے وہ کبھی وحدت پر قائم نہیں رہ سکتا، یہ سماجی دراڑ جو ظلم کے سبب وجود میں آتی ہے، کسی بھی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر نے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ امام عدل و انصاف برپا کرتا ہے۔ ظلم کا راستہ روکتا ہے۔ ظالم کے تمام ہتھکنڈوں پر قابو پاتا ہے اور مظلوموں کی مدد کرتا ہےاور یوں سماج میں ایک توازن کی فضا قائم ہوتی ہے، جس سے محرومیوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور وحدت قائم ہوجاتی ہے۔
امام علی علیہ السلام نے معاشرے میں عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم کرنے کے لیے انفرادی سطح پر افراد کی ذاتی اخلاقی خوبیوں کےساتھ ساتھ اجتماعی سطح پرحقوق وفرائض پرمبنی سماجی وسیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے کی طرف قدم بڑھایا۔ چنانچہ آپ جب مسند خلافت پر بیٹھے تو ایک خطبے میں لوگوں سے مخاطب ہو کرفرمایا «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقّاً وَ لَكُمْ عَلَيَّ حَقٌّ»اےلوگو،تمھاری گردن پرمیراحق ہے،اورمجھ پر ایک حکمران ہونے کے ناطے تمہارے کچھ حقوق ہیں۔اس کے بعد امام نے پہلے لوگوں کےحقوق گنوائے،اور اس کے بعد حکمران کی نسبت لوگوں کےفرائض کا ذکر فرمایا۔ عوام کی خیرخواہی، بیت المال کے ذریعے فلاح و بہبود کو یقینی بنایاجانا ، اور ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست حاکم کی ذمہ داری بتلائی ۔اس کے بعد آپ ع نے بیعت پر کاربند رہنا اور استقامت دکھانا، ظاہر و باطن میں خیرخواہ رہنا ، دعوت حق پر لبیک کہنا اور اطاعت کرنا، عوام کی ذمہ داری بتلائی ۔(40) حضرت نےلوگوں کےفرائض سےپہلےحکمران کے فرائض کا تذکرہ کیا، اورفرمایا: امام کافرض یہ ہےکہ خدا کے نازل کردہ حکم کے مطابق حکومت کرے اور امانت کو پورا کرے، جب اس نے اپنی ذمہ داری پوری کی تو لوگوں کافرض ہےکہ اس کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں اور اس کی دعوت پر لبیک کہیں۔(41) حضرت علی ع نے جب مالک اشتر کو مصر کا والی بنا کر بھیجا تو اپنے اس طویل عہدنامے میں اہم ترین سیاسی اصول بتلائے، جن میں ایک اصول یہ تھا کہ انسان دو قسم کے ہیں، یا دینی بھائی ہیں یا خلقت بشری میں تیری مانند ہیں۔(42) لہذا دونوں صورتوں میں انہیں اپنے سے کم نہ سمجھنا، بلکہ وہ تیرے جیسی مخلوق ہیں، ان کے حقوق کا خیال رکھنا۔
اب کوئی یہ سوال بھی کر سکتا ہے کہ شیعہ اماموں کا پیش کردہ اخلاقی اجتماعی نظام کہا ں ہے؟
اگرچہ عملی شکل میں اخلاقی اجتماعی نظام کا تقاضا تو تبھی کیا جا سکتا ہے جب امامت تسلسل کے ساتھ کسی معاشرے کی باگ ڈور سنبھالے اور اس کی سربراہی کے علمبردار بنیں، کیونکہ اجتماعی نظام کو پختہ تر کرنے میں نسلیں درکار ہوتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں ما سوائے پیغمبر اکرم ؐ، امام علیؑ اور چند گنے چنے دن امام حسن علیہ السلام کے ، اسلامی معاشرہ اس امامت سے محروم ہی رہا۔ اور ان ہستیوں نے بھی تمام تر مشکلات کے باوصف عدل و انصاف اور اسلامی بھائی چارہ قائم کرنے کی بھر پور کوششیں کیں ۔ اس مختصر مقالے میں ان سب چیزوں کا تجزیہ ممکن نہیں ہے، تاہم جواب کے قریب پہنچنے کے لیےاس نکتہ کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ امام علی ع کے مذکورہ بالا کلام میں بھی واضح عندیہ ملتا ہے کہ اخلاقی سماج، حقوق اور فرائض کی باہمی ادائیگی پر کھڑا ہوتا ہے۔ شیعہ اماموں نے اخوت اسلامی کی بنیاد پر حقوق اور فرائض کا مربوط نظام متعارف کرایا ہے جس پر توجہ نہیں دی گئی اور آج تک یہ نظام زیادہ جانا پہچانا نہیں ہے، جس کی وجہ سے حقیقی معنی میں اسلامی اخوت کی فضا قائم نہیں ہو سکی۔
اس حوالے سے اگر باقی حدیثی کتب سے صرف نظر بھی کر لیا جائے تو شیخ صدوق کی ایک مستقل کتاب مصادقۃ الاخوان کے عنوان سے موجود ہے۔ اس کتاب میں اہل ایمان کے معاشرے میں رہنے والے انسانوں کے ایک دوسرے پر حقوق اور فرائض کا تفصیلی بیان موجود ہے۔ اس کتاب کے چند اہم ابواب میں اخوت کی اجتماعی بنیادوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، خاص طور پراپنے دینی بھائیوں کے لیے نفع مند ہونا اور انہیں فائدہ پہنچانا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، ایک دوسرے سے ہمدردی ، قربت اور آپس میں میل جول رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔(43) سب سے بڑی بات اور اہم خوبی اس کتاب کی یہ ہے کہ اس میں اخوت کی آئیڈیالوجیکل تقسیم بالکل بھی پیش نہیں کی گئی، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ شیخ صدوق تمام اہل اسلام کو یہاں ایمانی بھائی کے طور پر دیکھ کر وحدت اور اخوت کی بات کر رہے ہیں۔ چنانچہ ابتداء ہی میں جب ایمانی برادری کی دو قسمیں بیان کیں تو اس میں خود ان بھائیوں کی انسانی خصلتوں کو معیار قرار دیا ۔ فرمایا کہ اخوت اور برادری دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جس میں اعتماد اور بھروسہ موجود ہوتا ہے، جبکہ دوسرے وہ جہاں صرف ہنسی مذاق اور بات چیت کی حد تک کشادہ روی موجود ہوتی ہے۔ پہلی قسم کے دوست انسان کے دست و بازو اور زندگی کا سہارا ہوتے ہیں، لہذا اپنا مال ان پر نچھاور کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ دوسری قسم کے دوست وہ ہیں جو صرف میل ملاپ کی حد تک کام آتے ہیں، ان سے اسی تعلق کوباقی رکھنے اور قطع تعلق نہ کرنے کی بات کی گئی ہے۔(44) اس کتاب میں موجود تعلیمات کا اگر عام انفرادی دوستی سے ہٹ کر اجتماعی تعلقات کے عناصر کے طور پر اگر تجزیہ کیا جائے تو بہت کچھ مل سکتا ہے۔
چنانچہ اسی کتاب میں ہے کہ خیثمہ جب امام صادق ع سے الوداع ہونے لگا تو آپ نے فرمایا کہ میرے چاہنے والوں تک میرا سلام پہنچا دو اور انہیں یہ احکام بھی سنا دو کہ خوف خدا کریں اورمالدار لوگ ضرورت مندوں کی احوال پرسی کریں اور مضبوط طبقے کمزوروں کا خیال رکھیں اور زندہ لوگ فوت ہونے والوں کےجنازوں میں شریک ہوں،کیونکہ ان کے آپس میں روابط سےہماراامرزندہ ہوتاہے۔ پھرفرمایاکہ اےخیثمہ ہم کسی بھی انسان کو خدا سے بے نیاز نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ وہ خود نیکیوں کے لئے کوشاں رہے اور ہماری ولایت سوائے پارسائی اورتقوی کے ہاتھ نہیں آتی اور قیامت کے دن سب سے زیادہ حسرت اسی کا مقدر بنے گی جو عدل وانصاف کی تعریف تو کرےلیکن عمل میں اس سےروگردان ہو۔(45)
اس حدیث میں تقوی اور پارسائی، ذاتی کردار کی بلندی کے ساتھ ساتھ اجتماعی سطح پر اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے پر زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ عدل و انصاف صرف زبانی کلامی دعووں سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اپنی عملی ذمہ داریاں نبھانے سے آتا ہے۔ یہ کہنے کی چیز نہیں بلکہ عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی طرح امام سجاد علیہ السلام کا رسالۃ الحقوق معاشرے میں انسان دوستی اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے لیے اہم ترین متن ثابت ہو سکتا ہے۔(46) یوں آج بھی اگر ائمہ ع کا پیش کردہ اجتماعی اخلاقی نظام قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو کسی نہ کسی حد تک تفرقے سے نجات مل سکتی ہے۔
خلاصہ :
اسلام نے اخوت اور ولایت کے ذریعے، تمام اہل ایمان کے درمیان انسانی رابطے کو مزید تقویت دی ہے اور انہیں فطری بنیادوں کے ساتھ ساتھ ایمانی بنیادوں پر بھی بھائی بنا دیا ہے۔ تاہم اس بھائی چارے کو باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام عوامل و مسائل کی جڑیں کاٹ دی جائیں جو تفرقے کی بنیاد بنتے ہیں اور انہیں تقویت فراہم کرتے ہیں۔امامت کا فریضہ معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی ، انسانی حقوق کی حفاظت اور الہی ہدایت کے ذریعے لوگوں کی فکری تربیت ہے۔ یوں امامت کا وجود سماجی عدل کے ساتھ ساتھ معرفت کی درست بنیادیں فراہم کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ تاریخ اسلام کے ابتدائی دور نے یہ ثابت کیا ہے کہ امامت حقیقی معنی میں اخوت اور بھائی چارے کے قیام کا فریضہ سر انجام دیتی ہے۔امام ایک ایسے اجتماعی اخلاقی نظام کی بنیاد رکھتا ہے جہاں باہمی احترام اور انسان دوستی موجود ہو، جہاں دوسروں کے حقوق کو پورا کرنے کے لیے مکمل اخلاقی، سیاسی اور اجتماعی ڈھانچہ موجود ہو۔ اس لیے بی بی دو عالم نے اپنے خطبے میں امامت کا تعلق وحدت امت سے جوڑا ہے اور اسے تفرقے سے بچانے کا اہم ترین وسیلہ قرار دیا ہے۔
دوسری طرف اطاعت اہل بیت ؑ، اہل ایمان کی اجتماعی حیات کا سفر درست سمت پر گامزن رکھتی ہے اور معاشرے کو عملی سطح پر انحراف اور کج روی سے بچاتی ہے۔ یوں اہل بیت ؑ کی اطاعت کا تعلق اسلامی معاشرے کے باہمی نظم سے جڑ جاتا ہے ۔خطبہ فدکیہ امامت کے حوالے سے ان دو اہم اجتماعی بنیادوں کو بہت احسن طریقے سے منعکس کرتا ہے۔

حوالہ جات:
(1)لکھنوی، میرحامد حسین، عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار،تحقیق: بروجردی، غلام رضا مولانا، چاپخانہ سید الشہداء، قم، 1405ق، ج3، ص266۔

(2)میلانی، سید علی حسینی، نفحات الازہار ، مرکز تحقیق و نشر آلاء، قم، 1423ق، ج1، ص194-195۔

(3)قمی،علی بن ابراہیم،تفسیرالقمی،دارالكتاب – قم، 1404ق. ج‏1 ؛ص173؛ صفار،محمدبن حسن،بصائرالدرجات فی فضائل آل محمّدصلّی اللہ عليهم،مكتبۃآیۃالله المرعشی النجفی – ایران؛قم، 1404 ق. ج‏1 ؛ص413؛ابن حنبل،احمدبن محمد،مسندالإمام أحمدبن حنبل،مؤسسۃالرسالۃ – لبنان – بيروت، 1416 ه.ق، ج‏17 ؛ص211۔ حدیث نمبر11131۔

(4)یہ نکات، بلاغات النساء، الاحتجاج اور دلائل الامامۃ کے «بالاتفاقیہ» متن سے ماخوذ ہیں۔ حوالہ جات آگے چل کر نقل ہونگے۔

(5)ر۔ک: ابن طیفور،احمدبن أبی طاہر،بلاغات النساء، 1جلد،الشریفالرضی – قم،ص23۔

(6)۔ ایضا،

(7)شبر،عبداللہ، کشف المحجۃ فی شرح خطبہ اللمۃ،تحقیق:اسدی، علی،مکتبہ فدک لاحیاء التراث، قم، مقدمہ محقق، ص10۔

(8)صدوق،محمّدبن علی بن بابویہ،علل الشرائع،كتاب فروشیداوری،قم،اول، 1386 ه‍ق، ج1، ص248-249،( باب علل الشرائع وأصول الإسلام) حدیث نمبر2، 3، 4۔

(9)صدوق،محمّدبن علی بن بابویہ،من لایحضرہ الفقیہ،دفترانتشارات اسلامی،قم،، 1413 ه‍ق، ج3، ص567-568۔( بَابُ مَعْرِفَۃالْكَبَائِرِالَّتِی أَوْعَدَاللَّهُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیهَاالنَّار)، حدیث نمبر4940.

(10)شریف مرتضی،الشافی فی الإمامۃ، مؤسسہ الصادق،تہران، 1410ق، ج‏4 ؛ص70۔

(11)طبری آملی صغیر،محمدبن جریربن رستم،دلائل الإمامۃ،بعثت – ایران؛قم، 1413ق، ص109۔

(12)قاضی نعمان، ابن حیون،نعمان بن محمد،شرح الأخبارفی فضائل الأئمۃالأطہارعلیہم السلام،،جامعہ مدرسین – قم،، 1409 ق، ج3، ص34۔

(13)طبرسی،احمدبن علی،الإحتجاج علی أہل اللجاج،نشرمرتضی – مشہد، 1403 ق، ج1، ص97۔

(14)اربلی،علی بن عیسی،كشف الغمۃفی معرفۃالأئمۃ،بنی ہاشمی – تبریز، ، 1381ق، ج1، ص480۔

(15)ا بن أبی الحدید،عبدالحمیدبن هبۃالله،شرح نهج البلاغۃلابن أبی الحدید،مكتبۃآیۃالله المرعشی النجفی – قم، 1404ق. ج‏16 ؛ص249۔

(16)صدوق، علل الشرائع، ج1، ص249۔

(17)شبر، عبداللہ ، کشف المحجہ، ص30۔

(18)طبری آملی، ایضا، ص113۔

(19)صدوق، علل الشرائع، ج1، ص248۔ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ج3، ص568۔

(20)ابن طیفور، بلاغات النساء، ص28۔

(21) القرآن الکریم:4: 59۔

(22)طبری آملی، دلائل الامامۃ، ص113۔

(23)صدوق، علل الشرائع، ج، 248۔ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ج3، ص568۔

(24)ابن طیفور، بلاغات النساء، ص28۔

(25)طبرسی،احمدبن علی،الإحتجاج علی أہل اللجاج (للطبرسی)، 2جلد،نشرمرتضی – مشہد، 1403 ق.، ج1، ص99۔

(26)ابن طیفور، ایضا، ص25۔ طبری آملی، دلائل الامامۃ، ص115۔

(27)طبرسی، ایضا، ج1، ص101۔

(28) ابن طیفور، ایضا. طبری آملی، ایضا، طبرسی ، ایضا،

(29)القرآن الکریم:۳، ۶۱.

(30)قاضی نعمان، شرح الاخبار، ج۱، ص۸۹.

(31)ابن طیفور، ایضا، ص25۔طبری آملی، ایضا، ص115۔ طبرسی ، ایضا، ج1، ص101۔

(32)۔طبرسی، ایضا، ج1، ص101۔

(33)۔ ایضا۔

(34)القرآن الکریم:21، 73۔

(35) بلاذری، أحمدبن یحیی بن جابر،انساب الاشراف ، تحقیق سہیل زکارو ریاض زرکلی،بیروت دارالفکر، 1417ق. ج1،ص270۔

(36)القرآن الکریم:3، 103۔

(37)ابن ہشام، عبدالملك بن ہشام الحمیری المعافری،السیرۃالنبویۃ،تحقیق مصطفی السقاوابراہیم الأبیاری وعبدالحفیظ شلبی،بیروت،دارالمعرفۃ،بی تا، ج1، ص556۔

(38)نسائى،احمدبن على،السنن الكبرى،دارالكتب العلمیۃ،منشورات محمدعلی بیضون – لبنان – بیروت، 1411 ه.ق. ج‏6 ؛ص243۔ باب دعوی الجاہلیۃ، حدیث نمبر10813۔

(39)۔القرآن الکریم:3، 105۔

(40)سید رضی، ایضا،ص44.بلاذری، ایضا،ج2،ص380.

(41)۔ ہروی بغدادی، ابوعبید ،قاسم بن سلّام،تحقیق: خلیل محمدہراس،دارالفكر، بیروت، کتاب الاموال، ص12.

(42)۔ سید رضی، ایضا ،ص367.

(43)ر۔ک: صدوق، محمدبن علی ابن بابویہ،،مصادقۃالإخوان،مكتبۃالإمام صاحب الزمان العامۃ – الكاظمیہ، 1402ق۔

(44)۔ ایضا، ص30۔ باب اصناف الاخوان، حدیث نمبر1۔

(45)۔ ایضا، ص34۔باب اجتماع الاخوان، حدیث نمبر6۔

(46)ر۔ک: ابن شعبہ حرانی،حسن بن علی،تحف العقول عن آل الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ،جامعہ مدرسین – قم، 1404 ، ص255۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=40953