17

حضرت معصومه (س) کسی خاص زمانے اور عقیدہ سے تعلق رکھنے والوں کیلئے نہیں، بلکہ تمام خواتین کیلئے نمونۂ عمل ہیں، خانم ناہید طیبی

  • News cod : 47520
  • 23 می 2023 - 14:43
حضرت معصومه (س) کسی خاص زمانے اور عقیدہ سے تعلق رکھنے والوں کیلئے نہیں، بلکہ تمام خواتین کیلئے نمونۂ عمل ہیں، خانم ناہید طیبی
جامعه الزہراء (س) کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران محترمہ ناہید طیبی نے حضرت معصومه قم (س) کی تربیتی شخصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ (س) کی ولادت، آپ کی وفات اور آپ کی زندگی کا لمحہ بہ لمحہ تاثیر گزار ہے اور ہمیں اس پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جامعه الزہراء (س) کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران محترمہ ناہید طیبی نے حضرت معصومه قم (س) کی تربیتی شخصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ (س) کی ولادت، آپ کی وفات اور آپ کی زندگی کا لمحہ بہ لمحہ تاثیر گزار ہے اور ہمیں اس پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کسی خاص زمانے اور عقیدہ سے تعلق رکھنے والوں کیلئے نہیں، بلکہ تمام خواتین کیلئے نمونۂ عمل ہیں۔

جامعه الزہراء سلام اللہ علیہا کی استاد اور محققہ کا کہنا تھا کہ تربیتی لحاظ سے وہی شخص تاریخ رقم کر سکتا ہے جو معاشرے کیلئے نمونہ اور آئیڈیل ہو۔ تاریخ میں گزرے کسی بھی تاثیرگزار شخص کو نمونۂ عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔

محترمہ طیبی کا کہنا تھا کہ حضرت فاطمه معصومه سلام اللہ علیہا کا نمونۂ عمل ہونا کسی زمانے اور مسلک سے مخصوص نہیں، کیونکہ عدالت، سلامتی اور آزادی کے متعلق آپ (س) کے اقوال و کردار تمام انسانوں اور انسانیت کیلئے تاثیر گزار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حضرت معصومه (س) ایک تمدن ساز شخصیت کی حامل ہیں۔ حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کا علم، صبر اور بصیرت تمام خواتین کیلئے نمونۂ عمل ہے۔

وومین اسٹڈیز اور اسلامک ہسٹری کی استاد کا کہنا تھا کہ تاریخی نقطۂ نظر سے تاریخی حقیقت کو دریافت کرنے کیلئے ایک خوبصورت تاریخی اکائی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیسے جینا ہے۔ کیسے زندگی گزارنی ہے۔

محترمہ طیبی کا کہنا تھا کہ جب ہم کسی شخص سے آشنائی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اسے اسی کے زمانے میں جا کر دیکھتے ہیں یعنی جاہلیت کے دور کو گزرے ۱۹۰ ہزار سال ہوئے ہیں کہ جو خواتین کے نظریات و افکار تبدیل کرنے کیلئے کوئی زیادہ عرصہ نہیں۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کی پیامبر اکرم صلّی‌الله‌علیه‌وآله وسلم، کی رحلت کے بعد خواتین کا مقام واپس اسی جاہلیت کے زمانے کی طرف پلٹ گیا تھا، عورتوں کے ساتھ پیغمبر کا باوقار رویہ ختم ہو گیا تھا اور سقیفہ کے بعد وہی زمانہ جاہلیت کی رسومات رایج ہونے لگیں تھیں۔ اس بنا پر ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جناب معصومه قم(س) کے زمانے کی خواتین کی رفتار و کردار کیسا تھا۔ معاشرے میں ان کا کیا مقام تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حضرت معصومه سلام اللہ علیہا نے سیاسی مسائل کی نسبت بے بصیرت اور بے توجہی کی زنجیر کو توڑا۔ اس محترم خاتون نے اپنے وقت کے امام کو پہچانا اور معاشرے کو امام کی جانب رہنمائی کی۔

جامعه الزہراء سلام اللہ علیہا کی استاد اور محققہ نے حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کی علمی تربیتی شخصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت معصومه سلام اللہ علیہا کی نمایاں خصوصیات میں سے آپ کی علمی اور تہذیب و تمدن سے آراستہ شخصیت، آپ کی بصیرت، آپ کا سخت ترین حالات جیسے: والد کا زندان میں جانا، سفر کی سختیاں، بھائی کی شہادت پر صبر قابل توجہ ہے۔
محترمہ طیبی کا کہنا تھا کہ ہمیں با بصیرت ہونا چاہیئے۔ رہبرِ انقلاب کی نصیحتوں پر عمل کرنا چاہیئے۔ ہمیں اپنے اردگرد اور خود اپنی ذات کی نسبت با بصیرت ہونا چاہیئے۔ ہمارا آج گزرے کل سے بہتر ہونا چاہیئے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ طالب علم اسلامی ثقافتی محاذ کے سپاہی ہیں، تاکید کی کہ طالب علموں بالخصوص طالبات کو ہمیشہ ایک قدم آگے ہونا چاہیئے، دشمن اور منافقوں کی پہچان ہونی چاہیئے، انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ کس طرح دشمن سے مقابلہ کیا جائے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=47520