0

مختصر حالات زندگی آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی

  • News cod : 55817
  • 26 می 2024 - 21:04
مختصر حالات زندگی آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی
ابراہیم رئیسی مورخہ 14 دسمبر سنہ 1960ء کو مشہد کے محلہ نوغان میں پیدا ہوئے۔ ان کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف سے زید بن علی تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے مشہد میں مدرسہ علمیہ نواب سے اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا اور سنہ 1975ء میں قم آئے اور حوزہ علمیہ قم میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا

وفاق ٹائمز، سید ابراہیم رئیسی کے نام سے مشہور شیعہ عالم دین اور جمہوریہ اسلامی ایران کا آٹھواں صدر تھے۔ انہوں نے حوزہ علمیہ قم، حوزہ علمیہ مشہد اور شہید مطہری یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔

ابراہیم رئیسی ایران میں “انجمن علمائے مبارز”(جامعہ روحانیت مبارز) کے رکن تھے اور جمہوری اسلامی ایران میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ وہ ایران کے چیف جسٹس، اٹارنی جنرل، جنرل اسپیکشن آفس ایران کے سربراہ، سپیشل کورٹ برائے علما (دادگاہ ویژہ روحانیت) کے چیف جج، مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن اور مجلس خبرگان رہبری (رہبر انتخاب کرنے والے ماہرین کی کونسل) کے رکن رہ چکے تھے۔ سید ابراہیم رئیسی تین سال تک آستان قدس رضوی کے متولی بھی رہے ہیں۔

مورخہ 19 مئی سنہ 2024ء کو سید ابراہیم رئیسی اور ان کی کابینہ کے کچھ وزراء ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان میں ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے، یہاں سے واپسی پر اس علاقے کے “وَرزَقان” اور “جُلفا” نامی مقام پر ان کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا۔ اس سانحے میں سید ابراہیم رئیسی سمیت امام جمعہ تبریز اور وزیر خارجہ ایران وفات پاگئے۔

سوانح حیات اور تعلیم
ابراہیم رئیسی مورخہ 14 دسمبر سنہ 1960ء کو مشہد کے محلہ نوغان میں پیدا ہوئے۔ ان کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف سے زید بن علی تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے مشہد میں مدرسہ علمیہ نواب سے اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا اور سنہ 1975ء میں قم آئے اور حوزہ علمیہ قم میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔ سید ابراہیم رئیسی نے قم میں آیت‌ اللہ مروی، فاضل ہرندی، موسوی تہرانی، ید اللہ دوزدوزانی، ابو القاسم خز علی، ستوده، طاہری خرم‌ آبادی، سید علی محقق داماد، علی‌ اکبر فیض مشکینی، احمد بہشتی، مرتضی مطہری اور حسین نوری ہمدانی جیسے اساتذہ کے دروس میں شرکت کی۔[1]‌‌ رئیسی نے سید محمد حسن مرعشی شوشتری، سید محمود ہاشمی شاہرودی، مجتبی کلہری تہرانی|آقا مجتبی تہرانی]] اور آیت‌ الله خامنه‌ ای جیسے اساتذہ کے پاس اصول فقہ کے دروس حاصل کیے۔[2]

رئیسی فقہ اور قانون کے شعبے میں مدرسہ شہید مطہری کے فارغ التحصیل تھے۔[3] انہوں نے سنہ 1983ء میں سید احمد علم‌ الہدی کی بیٹی جمیلہ علم الہدیٰ سے شادی کی۔[4]

اسلامی انقلاب ایران سے پہلے کی مجاہدانہ سرگرمیاں
رئیسی اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ اسلامی انقلاب سے پہلے کے سالوں میں ساواک (بیورو برائے انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی آف اسٹیٹ) نے ان کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا۔[5]‌‌ نیز وہ بعض دینی طلباء کے ساتھ مل کر ان علماء کے پاس جایا کرتے تھے جنہیں پہلوی حکومت نے شہر بدر کر دیا تھا۔ جس وقت آیت اللہ سید علی خامنہ ای “ایران شہر” میں شہر بدر کیے گئے تھے، رئیسی ان سے ملنے یہاں گئے۔[6] وہ ان علماء کے اجتماع میں بھی موجود تھے جنہوں نے فروری 1978ء میں تہران یونیورسٹی میں امام خمینی کی ایران واپسی کو روکنے کے لیے ہوائی اڈوں کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔[7]

آستان قدس رضوی کی تولیت

سنہ 2014ء میں آستان قدس رضوی کے متولی عباس واعظ طبسی کی وفات کے بعد رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے حکم سے سید ابراہیم رئیسی حرم امام رضاؑ کے متولی منصوب ہوئے[9] اور سنہ 2019ء تک اسی عہدے پر برقرار رہے۔[10] آستان قدس رضوی میں ان کی تولیت کے دوران بکثرت ترقیاتی کام انجام پائے۔ انہوں نے حرم امام رضاؑ کے احاطے میں شہر زائر کے نام سے روزانہ 3000 زائرین کی رہائش کے لیے مسافرخانوں کی تعمیر کروائی۔[11] اس کے علاوہ مشہد الرضا کی زیارت پر پہلی بار جانے والے ضرورتمند افراد کو مشہد بھیجنے کا منصوبہ، مشہد کی طرف جانے والے راستوں پر میقات الرضا (زائرین کے آرام کے لیے مقامات) کی تعمیر اور نوجوان رضاکار خادمین کا گروہ تشکیل دینا حرم امام رضاؑ کی دیگر خدمات میں سے ہیں۔[12]

سیاسی خدمات
سید ابراہیم رئیسی نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد 20 سال کی عمر میں شہر کرج کے عدلیہ ادارے میں اپنی عدالتی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور ساتھ ہی ساتھ کچھ عرصے تک وہ شہر ہمدان کی عدلیہ کے دفتر کے انچارج بھی رہے۔ ان کے دیگر عہدے مندرجہ ذیل تھے:

سنہ 1980ء سے 1985ء تک ایران کے شہر کرج میں پراسیکیوٹر کے عنوان سے عدلیہ میں کام کیا،[13]
سنہ 1989ء سے 1994ء تک تہران میں پراسیکیوٹر رہے،[14]
سنہ 1994ء سے 2004ء تک جنرل اسپیکشن آفس ایران کے سربراہ رہے،[15]
سنہ 2004ء سے 2014ء تک چیف جسٹس کے نائب رہے،[16]
سنہ 2006ء کو مجلس خبرگان رہبری میں جنوبی خراسان کے عوام کے نمایندہ منتخب ہوئے،
سنہ 2012ء سے 2021ء تک علما سے مخصوص عدلیہ کے جج رہے،[17]
سنہ 2014ء سے 2015ء تک ایرانی عدلیہ کے چیف جسٹس رہے،[18]
2015ء سے 2019ء تک آستان قدس رضوی مشہد کے متولی رہے،[19] [20]
2017ء میں مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن رہے،
2018ء سے 2022ء تک ایرانی عدلیہ کے سربراہ رہے،[21] [22]
سنہ 2022ء کو ملک میں عام انتخابات کے بعد صدارتی عہدے پر فائز ہوئے۔[23]
“انجمن علمائے مبارز” کی مرکزی شورا کی رکنیت۔[24]
تدریس اور علمی آثار
سید ابراہیم رئیسی جس وقت آستان قدس رضوی کے متولی تھے اس دوران درس خارج فقہ کے استاد کے طور پر تدریس کرتے تھے۔ نیز حوزہ علمیہ تہران اور مختلف جامعات جیسے جامعہ امام صادقؑ اور جامعہ شہید بہشتی وغیرہ میں بھی سید رئیسی فقہ کے اعلی دروس کے استاد کے طور پر تدریسی فعالیتیں انجام دے چکے تھے۔[25]

درس خارج کے دروس پر مشتمل کتاب قواعد فقہ (3 جلد میں عدالتی، اقتصادی اور عبادی مباحث پر مشتمل کتاب)، کتاب “ارث بے وارث”، کتاب “تعارض اصل و ظاہر در فقہ” اور کتاب “قانون” سید ابراہیم رئیسی کے قلمی آثار میں شامل ہیں۔[26] اس کے علاوہ قانون، اقتصاد، فقہ، عدالت اجتماعی، طرز زندگی جیسے مختلف موضوعات پر بھی ان کی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔[27]

فلسطین اور مزاحمتی بلاک کی حمایت

سید ابراہیم رئیسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں قرآن ہاتھ میں اٹھائے ہوئے، اسی دوران کچھ آیات کی تلاوت بھی کی
سید ابراہیم رئیسی مزاحمتی محاذ کے زبردست حامیوں میں سے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی صدارت کے آغاز میں انہوں نے اپنی حکومت کی کابینہ کے متعدد ارکان کے ساتھ شام کا سفر کیا اور دمشق میں مختلف فلسطینی تحریکوں اور حزب اللہ لبنان کے سربراہوں سے ملاقاتیں کیں۔ وہ ایران کے پہلے صدر تھے جنہوں نے شام کی خانہ جنگی کے بعد (15 سال بعد) دمشق کا دورہ کیا۔[حوالہ درکار]

رئیسی نے طوفان اقصیٰ آپریشن اور غزہ پر اسرائیل کے حملے کے بعد 165 دنوں میں غزہ اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی حمایت میں 100 سے زائد موقف کا اعلان کیا ہے۔[28] انہوں نے اقوام متحدہ کے 78ویں جنرل اجلاس میں تقریر کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فلسطین پر غاصبانہ قبضے اور لبنان اور شام کے بعض مقامات پر صیہونی حکومت کے قبضے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: “کیا اب وقت نہیں آیا کہ فلسطینی سرزمین پر 75 سالوں سے جاری غاصبانہ قبضے اور اس مظلوم قوم پر ظلم و جبر اور عورتوں اور بچوں کے قتل عام کا سلسلہ بند کیا جائے اور فلسطینی قوم کے حقوق کو تسلیم کیا جائے؟

ہیلی کاپٹر حادثے میں وفات
مورخہ 19 مئی سنہ 2024ء کو سید ابراہیم رئیسی اور ان کی کابینہ کے کچھ وزراء ایران کے مشرقی آذربائیجان میں ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے، جہاں سے واپسی پر اسی علاقے کے “وَرزَقان” اور “جُلفا” نامی مقام پر ان کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا۔ ہیلی کاپٹر میں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان اور صوبہ مشرقی آذربائیجان کے نمایندہ رہبر معظم، سید محمد علی آل ہاشم سمیت 7 افراد سوار تھے۔[29] اس حادثے کی خبریں شائع ہوتے ہی ایرانی عوام نے مذہبی مقامات جیسے حرم امام رضاؑ،[30] حرم حضرت فاطمہ معصومہ(س)[31] اور حرم شاہ چراغ کا رخ کیا اور یہاں ملک کے صدر کی سلامتی کے لیے دعائیں کیں۔[32] 20 مئی 2024ء کو مختلف اخبار نے اپنے نیوز بلٹن میں ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کے جان بحق ہونے کی خبر شائع کردی۔[33]

اسلامی جمہوریہ ایران میں سرکاری خدمات کے دوران جان بحق ہونے والوں کو شہید سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے سید ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کو “شہدائے خدمت” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تاثرات اور رد عمل
آیت‌ الله سید علی حسینی خامنه‌ای کے تسلیتی پیغام سے ماخوذ جملہ
عزیزم سید ابراہیم ئیسی اپنے کا موں کی انجام دہی میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا تھا۔ اس المناک حادثے میں ایرانی قوم ایک مخلص اور قیمتی خدمت گزار سے محروم ہوگئی۔ اس کے نزدیک لوگوں کی فلاح و بہبود (public welfare) جو کہ خدا کی خوشنودی پر دلالت کرتی ہے، ہر چیز پر مقدم تھی، چنانچہ بعض بدخواہوں کی ناشکری اور ان کی طعنہ بازیاں لوگوں کی فلاح و بہبود میں بروئے کار لانے والی ان کی انتھک کوششوں میں سد راہ نہیں بنیں۔[34]

تہران یونیورسٹی میں سید ابراہیم رئیسی کی جسد خاکی پر رہبر معظم آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی اقتداء میں نماز جنازہ پڑھائی جارہی ہے (22 مئی 2024ء)
سید ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد اب تک مختلف تاثرات اور رد عمل سامنے آئے ہیں۔ حرم امام رضاؑ میں منعقدہ جشن ولادت امام رضاؑ کے پروگراموں کو منسوخ کر دیا گیا اور روضہ مبارک کے سبز پرچم کو تبدیل کر کے سیاہ پرچم لگایا گیا۔ آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای نے اپنے تعزیتی پیغام میں رئیسی کو ایک مجاہد عالم دین اور ان کی وفات کو شہادت قرار دیتے ہوئے ایران میں پانچ دن سوگ منانے کا اعلان کیا۔[35] مختلف سیاسی اور مذہبی شخصیات نے ایرانی صدر کی رحلت پر تعزیتی پیغامات ارسال کیے ہیں۔ جن میں نجف اشرف میں مقیم شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی نیز مختلف ممالک کے سربراہان شامل ہیں۔ لبنان اور شام میں تین دن[36] ہندوستان،[37] پاکستان[38] اور عراق میں سرکاری سطح پرایک دن سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایکس پیج پر ایران کے صدر کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا: “پاکستان میں ایرانی صدر اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے موقع پر ان کے احترام اور ایرانی قوم سے یکجہتی کے لیے ایک دن عوامی سوگ منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں برادر ملک ایران کے ساتھ یکجہتی کے لیے پاکستانی سبز ہلالی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا۔”[39]

تشییع جنازه اور تدفین

وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ممکن ہے اس میں کچھ تبدیلیاں آجائے۔ ابتدائی معلومات ممکن ہے غیر معتبر ہوں اور اس مقالے کی آخری اپڈیٹ بھی اس واقعے کو پوری طرح منعکس نہ کرسکے۔ برائے مہربانی اس مقالے کو آپ مکمل کریں یا اسی صفحہ کے تبادلہ خیال میں اس کی کمزوریوں کو بیان کریں۔

تہران میں سید ابراہیم رئیسی کی تشییع جنازہ کا منظر
قم میں سید ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقاء کی تشییع جنازہ ہوئی جبکہ 22 مئی 2024ء کو رہبر معظم آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای نے تہران یونیورسٹی میں رئیسی اور ان کے رفقاء پر نماز جنازہ پڑھائی۔[41] مورخہ 22 مئی کو تہران میں رئیسی اور ان کے رفقاء کی تشییع جنازہ ہوئی جس میں سیاسی اور مذہبی شخصیات، مختلف شعبہ ھای زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور عوام کے جم غفیر نے شرکت کی۔[42] اس کے علاوہ اسی دن سہ پہر کے وقت مختلف ممالک کی سیاسی اور مذہبی شخصیات کی طرف سے ایرانی صدر کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تقریب سمٹ ہال میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں 90 سربراہان مملکت اور دیگر حکام نے شرکت کی۔[43]

سید ابراہیم رئیسی کی تشییع جنازہ 23 مئی 2024ء کو ایران کے شہر بیرجند اور مشہد میں ہوئی اور ان کی جسد خاکی کو حرم امام رضاؑ میں دفن کیا گیا۔[44]

—————
حوالہ جات
نجفی، روایت انتخابات دوازدهم، ص186-188 به نقل از «روایت حجت‌الاسلام رئیسی از دوران مبارزه علیه رژیم پهلوی/ شکل‌گیری هسته‌های مبارزاتی طلاب در قم / ماجرای دیدار با آیت‌ الله خامنه‌ ای در ایرانشهر»، مرکز اسناد انقلاب اسلامی۔
«زندگینامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری.
«سوابق و زندگینامه حجت الاسلام و المسلمین رئیسی»، خبرگزاری صداوسیما.
«زندگی نامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری.
نجفی، روایت انتخابات دوازدهم، ص186-188 به نقل از «روایت حجت‌الاسلام رئیسی از دوران مبارزه علیه رژیم پهلوی/ شکل‌گیری هسته‌های مبارزاتی طلاب در قم / ماجرای دیدار با آیت‌الله خامنه‌ای در ایرانشهر»، مرکز اسناد انقلاب اسلامی۔
نجفی، روایت انتخابات دوازدهم، ص186-188 به نقل از «روایت حجت‌الاسلام رئیسی از دوران مبارزه علیه رژیم پهلوی/ شکل‌گیری هسته‌های مبارزاتی طلاب در قم / ماجرای دیدار با آیت‌ الله خامنه‌ای در ایرانشهر»، مرکز اسناد انقلاب اسلامی۔
نجفی، روایت انتخابات دوازدهم، ص186-188 به نقل از «روایت حجت‌الاسلام رئیسی از دوران مبارزه علیه رژیم پهلوی/ شکل‌گیری هسته‌های مبارزاتی طلاب در قم / ماجرای دیدار با آیت‌الله خامنه‌ای در ایرانشهر»، مرکز اسناد انقلاب اسلامی۔
«غبار روبی مضجع شریف امام رضا(ع) در آستانه دهه کرامت، سایت سید احمد علم‌ الهدی.
«انتصاب حجت‌الاسلام رئیسی به تولیت آستان قدس رضوی»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌الله العظمی خامنه‌ای.
ملاحظہ کیجیے:«انتصاب حجت‌الاسلام رئیسی به تولیت آستان قدس رضوی»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌الله العظمی خامنه‌ای.
«نگاهی به عملكرد سه ساله حجت الاسلام رئیسی در آستان قدس رضوی»، خبرگزاری ایرنا.
ملاحظہ کیجیے: «نگاهی به عملكرد سه ساله حجت الاسلام رئیسی در آستان قدس رضوی»، خبرگزاری ایرنا۔
«زندگی نامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری ہمشهری.
«زندگی نامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری.
«زندگی نامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری.
«زندگی نامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری.
«زندگی نامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری.
«زندگی نامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری.
«انتصاب حجت‌ الاسلام رئیسی به تولیت آستان قدس رضوی»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌الله العظمی خامنه‌ای.
««انتصاب حجت‌ الاسلام رئیسی به تولیت آستان قدس رضوی»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌ الله العظمی خامنه‌ای.
«انتصاب حجت‌الاسلام والمسلمین سیدابراهیم رئیسی به ریاست قوه قضائیه»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌الله العظمی خامنه‌ای.
«زندگینامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری.
«زندگی نامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری ہمشهری۔
https://raisi.ir/page/biography
«زندگینامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری۔
«سوابق و زندگی نامه حجت الاسلام و المسلمین رئیسی»، خبرگزاری صداوسیما۔
«زندگی نامه: سید ابراهیم رئیسی»، خبرگزاری همشهری۔
«بیش از۱۰۰موضع‌گیری درحمایت از غزه/ رئیسی چگونه دست مدعیان حقوق بشر را روکرد»، خبرگزاری ایرنا.
«بالگرد حامل رئیس جمهور دچار سانحه شد/با ۲ نفر از سرنشینان بالگرد رئیس‌جمهور ارتباط برقرار شد»، خبرگزاری ایسنا.
«دعای زائران حرم مطهر رضوی برای سلامتی رئیس جمهور و همراهانش»، خبرگزاری مهر.
«برگزاری دعا در حرم حضرت معصومه (س) برای سلامتی رئیسی و همراهان»، خبرگزاری انتخاب.
«دعای توسل زوار شاهچراغ برای سلامتی رییس جمهور و همراهانش»، خبرگزاری مهر.
آیت‌ الله رئیسی و هیئت همراه به ملکوت اعلی پیوستند، خبرگزاری تسنیم۔
«پیام تسلیت رهبر انقلاب اسلامی و اعلام عزای عمومی در پی درگذشت شهادت‌گونه رئیس‌ جمهور و همراهان گرامی ایشان»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌الله العظمی خامنه‌ای.
«پیام تسلیت رهبر انقلاب اسلامی و اعلام عزای عمومی در پی درگذشت شهادت‌گونه رئیس‌جمهور و همراهان گرامی ایشان»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌الله العظمی خامنه‌ای۔
«۳ روز عزای عمومی در سوریه اعلام شد»، خبرگزاری مهر.
«اعلام یک روز عزای عمومی در هند»، وبگاه خبری انتخاب.
«ایرانی صدر کے انتقال پر پاکستان میں قومی پرچم سرنگوں»، jang.com.
[ایرانی صدر کے انتقال پر پاکستان میں قومی پرچم سرنگوں]https://jang.com.pk/news/1351998
«‌تشییع باشکوه شهدا‌‌ در تبریز/ مردم “سید” را در آغوش گرفتند»، خبرگزاری تسنیم۔
«اقامه نماز رهبر انقلاب بر پیکر شهید رئیسی و شهدای خدمت»، خبرگزاری تسنیم۔
«بازتاب گسترده مراسم تشییع شهدای خدمت در رسانه‌های بین‌المللی»، ایسنا۔
«ادای احترام 90 نفر از سران و مقامات کشورها به مقام رئیس جمهور شهید و همراهان»، انصاف‌نیوز۔
خاکسپاری پیکر شهید رییسی در حرم امام رضا(ع)، باشگاه خبرنگاران جوان۔
«روایت حجت‌ الاسلام رئیسی از دوران مبارزه علیه رژیم پهلوی/ شکل‌ گیری هسته‌ های مبارزاتی طلاب در قم / ماجرای دیدار با آیت‌ الله خامنه‌ ای در ایرانشهر»، مرکز اسناد انقلاب اسلامی.

بشکریہ: ویکی شیعہ

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=55817