وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، وزیر زراعت گلگت بلتستان محمد کاظم میثم نے کہا ہے کہ اس بات میں دو رائے نہیں کہ سابق ادوار میں بلتستان ریجن کو یکسر محروم رکھا گیا اور اس اہم ریجن کو دیوار سے لگایا گیا، جس کا ادراک موجودہ حکومت کو ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع میں منصوبوں کی منصفانہ تقسیم اور ان منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس کے ثمرات پورے گلگت بلتستان کو ملیں گے۔ حالیہ تاریخی پیکیج میں جو منصوبے شامل ہیں، ان کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ ہم گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بلتستان ریجن سمیت کسی بھی ضلع کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ حجت الاسلام شیخ حسن جعفری ہمارے سر کے تاج ہیں، خطبات میں ان کی رہنمائی ضروری ہے، بلتستان ریجن کا ہر وِزیر شیخ صاحب ہی کا لشکر ثابت ہوگا۔ شاتونگ نالہ منصوبے پر کام ہماری حکومت ہی کرے گی۔ موجودہ ترقیاتی منصوبوں میں سکردو کے دیرینہ وہ تمام مطالبات شامل ہیں، جن کے فوائد تمام اضلاع کو ملیں گے۔
کاظم میثم کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتوں کے نزلے بھی ہم پر گر رہے ہیں۔ ماضی میں بجلی کے منصوبوں پر کام ہوتے تو آج عوام رل نہیں رہے ہوتے۔ ابھی بجلی کے منصوبے رکھے جا رہے ہیں تو ظاہر ہے وہ ہفتوں میں مکمل نہیں ہوسکتے۔ بجلی کے منصوبے ہم نہ رکھیں تو ہم عوام کے مجرم ہوں گے، لیکن اس کی تکمیل کے لیے وقت تو لگنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین میں یہ حوصلہ ہی نہیں کہ اچھی کارکردگی پر حکومت کی تعریف کریں۔ ہر اچھے کام پر تنقید کرنے کو شعار بنایا ہوا ہے۔ ہم تنقید و توصیف سننے کے لیے نہیں بلکہ خدمت کے لیے سیاست کر رہے ہیں۔ شیخ جعفری صاحب اور دیگر علماء کو احتجاج کرنے کی زحمت ہی نہیں دیں گے۔ ہماری حکومت ان حکومتوں کی طرح نہیں کہ جن کے سامنے کئی کئی برس علماء کرام التجائیں کرتے رہے۔ شاتونگ نالے کے لیے، ہسپتال کی تعمیر کے لیے، میڈیکل کالج کے قیام کے لیے، بجلی گھروں کے منصوبے کے لیے، سڑکوں کی تعمیر کے لیے، سیوریج کی نظام کی بہتری کے لیے، لیکن انہوں نے ان سنی کر دی۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ہماری حکومت کو چھ ماہ کا عرصہ نہیں گزرا، لیکن وہ تمام مطالبات اور عوام کے دیرینہ مسائل تھے، ہم منظور کر رہے ہیں۔ یہ تمام منصوبے بلتستان ریجن کی تقدیر بدلنے کے لیے مہمیز کا کام دے گا۔ اربوں کے منصوبے کو دنوں میں مکمل کرنے کا کہنا بھی ناانصافی ہے۔ 500 بیڈ ہسپتال، میڈیکل کالج، استور سے براستہ شغرتھنگ سکردو روڈ، شغرتھنگ پاور پروجیکٹ، شگر پایو روڈ، مہدی آباد پاور ہاوس، غواڑی پاور ہاوس، طورمک پاور ہاوس، سدپارہ پاور ہاوس، حسین آباد تا گمبہ سکردو سیوریج، معذوروں کی بحالی کے مراکز، ہر ضلع میں آئی ٹی سنٹرز، فلڈ پروٹیکشن سنٹرز، ہر ضلع میں پروسیسنگ پلانٹ، سکردو ائیر پورٹ کو انٹرنیشنل بنانا، وہ بنیادی کام ہیں جن کے لیے ہم نے سیاست کی ہے اور یہ سب منظور بھی ہوئے۔ سیاسی مخالفین ان منصوبوں سے عوام کی نظریں چرانے کے لیے ایک ٹوٹی ہوئی کلوٹ کا سہارا لے کر حکومت کو ناکام دکھانے کی کوشش کریں گے۔












