تحریر: حجت الاسلام سید احمد رضوی
أللّهُمَّ وَفِّرْ حَظِّي فيہ مِنَ النَّوافِلِ وَأكْرِمني فيہ بِإحضارِ المَسائِلِ وَقَرِّبْ فيہ وَسيلَتي إليكَ مِنْ بَيْنِ الوَسائِلِ يا مَن لا يَشْغَلُهُ إلحاحُ المُلِحِّينَ
اے معبود! اس مہینے کے نوافل اور مستحبات سے میرا حصہ بڑھا دے، اور اس میں میری التجاؤں کی قبولیت سے مجھے عزت دے، راستوں کے درمیان میرا راستہ اپنے حضور قریب فرما، اے وہ جس کو اصرار کرنے والوں کا اصرار [دوسروں سے] غافل نہیں کرتا
اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ اعمال واجب ہیں ، جن کے انجام دینے سے حتمی طور پر ثواب ملتا ہے اور انہیں ترک کر دینے سے یقینی طور پر سزا ملتی ہے ۔ان کے علاوہ بہت سارے اعمال انسان کی معنوی ترقی اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لئے مستحب قرار دئیے گئے ہیں، جنہیں اصطلاح میں نوافل کہتے ہیں۔نوافل ، نفل اور نافلہ کی جمع ہے ،جس سے معمولا دو چیزیں مراد لی جاتی ہیں:
1۔ مستحب نمازیں؛
2۔ تمام مستحب اعمال ۔
دوسرے معنی کے مطابق واجب اور فرض کے مقابلے میں جو چیز ہوگی اسے “نفل ” کہیں گے۔
فرائض انتہائی اہم اور ضروری ہیں جیسا کہ حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: ” وَ لَا عِبَادَةَ كَأَدَاءِ الْفَرَائِضِ “یعنی: فرائض کی ادائیگی کی طرح کوئی عبادت نہیں۔
اسی طرح حدیث قدسی میں بھی ارشاد ہوتا ہے :”اطعنی فیما امرتک اجعلک تقول لشیئ کن فیکون”کہ جن چیزوں کا میں نے حکم دیا ہے ان میں تم میری اطاعت کروتو میں تمہیں ایسا بنادوں گا کہ تم جو کہو گے وہی ہو کر رہے گا۔
لیکن یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ قرب الہی حاصل کرنے اور بلند مقامات کے حصول میں نوافل کا بہت بڑا کردار اور اثر ہے ۔ چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ہوتا ہے:
لا يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل مخلصا لي حتى أحبه فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به و بصره الذي يبصر …
یعنی: جب میرے بندے خلوص نیت کے ساتھ نوافل انجام دیتے ہیں تو میں بھی انہیں چاہتا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے کان بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ سنتے ہیں ۔
البتہ نوافل کے سلسلے میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جب وہ واجبات سے ٹکرائیں، تو انہیں چھوڑ کر واجب کو بجالاناضروری ہے۔
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
إذا أﺿﺮّت اﻟﻨّﻮاﻓﻞ ﺑﺎﻟﻔﺮاﺋﺾ ﻓﺎرﻓﻀﻮھﺎ
آیات و روایات میں نوافل کا مقام
1۔ مقام محمود تک پہنچنے کا ذریعہ
وَمِنَ اللَّيْلِ فَـتَـهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَـةً لَّكَ ۖ عَسٰٓى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا
2۔ قرب الٰہی کا وسیلہ
پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
وَ إِنَّهُ لَيَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّافِلَةِ حَتَّى أُحِبَّهُ
3۔ مومن کا شرف و مقام
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
شرف المؤمن صلاته في الليل
4 ۔ گناہوں سے پاک و پاکیزہ ہونے کا سبب
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
صَلاةُ الْمُؤمِنَ بِالْلَّيلِ تَذْهَبُ بِمَا عَمِلَ مِن ذَنْبٍ باِلنَّهارِ
5۔ صالحین کا وتیرہ
پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
مَن كَثُرَت صَلاتُهُ بِاللَّيلِ حَسُنَ وَجهُهُ بِالنَّهارِ
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
عَليكُم بِصَلاةِ الْلَّيلِ فَاِنَّهَا سُنَّةُ نَبِيِّكُم وَ ادابُ الصَّالِحينَ
6 ۔ آخرت کی زینت
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
ان الثمانیة رکعات یصلیها العبد آخر اللیل، زینة الاخرة.
نماز پڑھنے کی جگہے کا نورانی ہونا
جن جگہوں پر اوامر الہی ،خصوصا نوافل بجا لائےجائیں، وہ نورانی ہو جاتی ہیں اور قیامت کے دن نورانی شکل میں آکر اس عمل کی گواہی بھی دیتی ہیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ایک جگہ عبادت نہ کیا کرو، بلکہ مختلف مقامات پر عبادت کرنے کی کوشش کرو۔ یہاں تک کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے گھر کے مختلف گوشہ و کنار میں مختلف اوقات میں عبادت اور نیک اعمال بجا لائیں تاکہ ان کا پورا گھر دن رات نورانی بن کررہے اور آسمان میں رہنے والوں کے لئے نمایاں نظر آتا رہے۔
روایات میں ہے کہ جس گھر میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے وہ ستاروں کی طرح چمکتا نظر آتا ہے ۔
نوافل کی درجہ بندی :
یوں تو سارے نوافل کو اہمیت اور فضیلت حاصل ہے، لیکن ان میں سے نماز پنجگانہ سے مربوط نوافل کو دوسری مستحب نمازوں پر فوقیت حاصل ہے ، اسی لئے ان نوافل کی قضا بھی بجا لائی جا سکتی ہے۔ البتہ واجبات میں جو شرائط ہیں وہ نوافل میں نہیں۔
نوافل کو راستہ چلتے ہوئے اور سواریوں کے اوپر جیسے گاڑی میں بیٹھ کر انجام دیا جا سکتا ہے۔ اگر انہیں وقت پر انجام نہ دیا جا سکتا ہو تو بعد میں ان کی قضا کی جا سکتی ہے، یہاں تک کہ نماز شب کو ایڈوانس بھی بجالایا جا سکتا ہے ، یعنی رات کو سونے سے پہلے انجام دے پھر سوجائے تو نماز شب کا ثواب حاصل ہوگا۔
ماہ رمضان المبارک اور نیکیوں کی عادت
رمضان کے اس بابرکت مہینے میں معمولا کچھ نیکیوں کی عادت پڑ جاتی ہے، جیسے : افطاری دینا ، مہمان نوازی، مستحب اعمال انجام دینا، دوسروں سے نیک برتاؤ کرنا، صبر و تحمل اور برداشت سے کام لینا وغیرہ
لہٰذا اس مہینے کے گزر جانے کے بعد بھی انہی عادتوں پر قائم رہنے اور ان کو مسلسل بجا لاتے رہنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اس مہینے کا فلسفہ اور اسکی حکمت کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت و نگہداری بھی ہو۔
خداوند عالم ہمیں اچھی عادتوں پر کاربند رہنے ور اس با برکت مہینے کی نیک خصلتوں کوپورے سال تک محفوظ رکھنے کی توفیق دے ۔آمین!












