زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
سید محمد باقر الصدرؒ عقل اسلامی اور مفکر اسلام تھے اور امید کی جاتی ہے کہ عالم اسلام آپ کے افکار سے وسیع پیمانے پر استفادہ کرے گا اور خاص طور پرمیں اس عظیم مفکر اسلام کی کتب سے استفادہ کرنے کی دعوت دیتا ہو ں۔ خداوند کریم آپ کو آپ کے آباء واجداد اور آپ کی عظیم مجاہدہ بہن کواپنی جدۂ طاہرہ کے ساتھ محشور فرمائے۔
شہیدہ سیدہ آمنہ بنت الہدیؒ تاریخ اسلام کی ایک عظیم شخصیت ہےجنہوں نے اپنے جلیل القدر بھائی آیت اللہ العظمیٰ شہید محمد باقر الصدرؒ کے شانہ بشانہ تبلیغی،ثقافتی،جہادی اور سیاسی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
صدقہ کے حوالے سے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اس کے مقدار مہم نہیں ہے کہ انسان بہت زیادہ مال دے،بلکہ جتنا وہ دے وہی کافی ہے بلکہ بعض روایات میں آیا ہے:"اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ شِقُّ تَمْرَةٍ فَكَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ"؛ بچو تم دوزخ سے اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر ہو اور یہ بھی نہ پائے تو اچھی سی کوئی بات کہہ کر سہی۔
اگر اسرائیل اور ہندوستان کے حکمران شہداء کے خون کا تمسخر اڑاتے ہیں تو ہمارے حکمران بھی شہداء کے وارثوں کو کبھی ٹشو پیپر کے ٹرک بھیجنے، کبھی شہداء کے ورثاء کو بلیک میلر کہنے اور کبھی سانحہ اے پی ایس کے شہید بچوں کی ماوں سے احتجاج کرنے کے بجائے مزید بچے پیدا کرنے کو کہتے ہیں۔
کچھ عرصے کی مختصر سی خاموشی جس میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ یا دھماکہ نہ ہو اور اس وقفے کو امن کا نام دیا جاتا ہے ، در حالیکہ وہ کسی مزید بڑے واقعے کی تیاری کا پیش خیمہ بن رہی ہوتی ہے۔
سلطان عبد الحمید ثانی کا نام ہمیشہ تاریخ فلسطین میں یاد رکھا جاتا ہے۔ مسئلہ فلسطین حق وباطل کی ایک ایسی سرخ لکیر ہے کہ جس نے اپنے حمایتیوں اور مخالفین کو تاریخ میں رقم کر رکھا ہے۔ سلطان عبدالحمید ثانی ترکی کے شہر استنبول میں 21ستمبر 1842ء کو پیدا ہوا اور آپ نے 1876ء سے 1909ء تک سلطنت عثمانیہ کے منصب پر ذمہ داری نبھائی۔
اگر قرآن میں کسی طرح کا انحراف و کجی نہیں ہے،”غیر ذی عوج’‘تو امام حسین کے سلسلے میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ آپ ایک لمحہ کے لئے بھی باطل کی طرف مائل نہیں ہوئے،”لم تمل من حق الی الباطل
سانحہ پشاور میں شہداء کے قاتلوں میں وہ سب لوگ بھی شامل ہیں، جنہوں نے آج تک اپنی زبان و بیان کے ساتھ معاشرے میں شیعہ عقائد کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائیں اور بے گناہ انسانوں کے قتلِ عام کی راہ ہموار کی۔ دینِ اسلام سچائی کا پیکر ہے