زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
حرمینِ شریفین سے مسلمانوں کا یہ عشق بلا وجہ نہیں ہے۔ اس عشق کی دلیل وہاں کے مقدس مقامات ہیں۔ مکے اور مدینے میں موجود حضور نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہﷺ کے پیارے اور جلیل القدر اصحابؓ کے تاریخی آثار اور ان کی نورانی قبور ہیں۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کو قلبِ اسلام بھی کہا جاتا ہے۔
علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم نے مکتب دیوبند میں علمی و فکری مراحل طے کیے اور کچھ عرصہ ایک دیوبندی مجاھد و مبارز عالم کی حیثیت سے فعالیت کی اور پروردگار کی خاص توفیقات ، محمد و آل محمد علیہم السلام کی نظر کرم سے نیز اپنی مسلسل تحقیق و مطالعہ سے شیعہ مکتب کے حق کا اعلان کرتے ہوئے ببانگ دہل مذھب شیعہ خیر البریہ کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔
اسلامی حکمرانوں کی اقتدار پرستی جو کہ سقیفہ سے شروع ہواور خلافت اسلامی ملوکیت میں تبدیل ہونے کے بعد مسلمانوں کی حاکمیت ایسے حکام کے ہاتھ آئی جو احکامات اسلامی پر عمل پیرا ہونے کی بجائے خلافت کو روم اور ایران کے بادشاہوں کی طرز عمل پر سلطنت میں بدلنے میں مصروف رہے اور بدلا کے دکھا بھی دیا۔ جس کی وجہ سے مسلمان پسماندگی کاشکارہوئے۔۔۔
شہید مطہری، اولیاء اور انبیاء کی سیرت کے مطابق خلوص کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ، آپ کہتے کہ: کام کو اپنے لئے کرنا نفس پرستی ، دوسرے انسانوں کے لئے کرنا بت پرستی ، اپنے اور دوسرے سب کے لئے کرنا شرک اور صرف اور صرف خدا کے لیے کام انجام دینا توحید اور خدا پرستی ہے ۔
شہید مطہری انحرافی نظریات اور اسلام کی غلط تفسیر کو استعماری طاقتوں امریکہ اور سویت یونین سے زیادہ خطرناک سمجھتے تھےآج اسلام کو جس چیز سے خطرہ ہے وہ صرف امریکہ اور دوسری استعماری طاقتیں ہی نہیں بلکہ اسلامی احکام کی غلط تفسیر اور ان میں تحریف کرنا زیادہ خطرناک ہے۔
والد مرحوم نے فریقین کی کتب تاریخ و عقائد کا تحقیقی مطالعہ کیا اور آل محمد کی مظلومیت ان پر واضح ہوتی چلی گئی بالخصوص حضرت زھراء سلام اللہ علیہا کے ساتھ جو کچھ بعد از رحلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوا مثلا فدک کا معاملہ نے ان پر حق و باطل روشن کردیا ۔
شہید مطہری جو عالم اسلام اور بالخصوص مکتب اہل بیت کے عظیم مفکر اور فلسفی ہیں،آپ نے خواتین کے حقوق ومقام اور اس سلسلے میں شبہات کے بارےانتہائی دقیق گفتگو کی ہے۔آپ کی کتاب اسلام میں خواتین کے حقوق میں اسلامی نکتہ نظر سے خواتین کے باے میں مختلف زاویوں سے بحث کی ہے، جن میں جائیداد، حکومت، گھریلو حقوق وغیرہ شامل ہیں۔ قرآن کریم، دوسرے ادیان ومکاتب کے برعکس عورت کی فطرت اور تخلیق کا احترام کرتا ہے اور مرد اور عورت کے دوہرے پن کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔
رہبر انقلاب معتقد ہےکہ: شہید مطہری ان افراد میں سے ایک ہیں۔جس نے اسلامی فکر کو احیاء کرنے میں زیادہ کردار دااکیا۔اور اس تفکر کوتعارف کرنےوالے علم برداروں میں سے ہے۔ شہید مطہری ایک جامع شخصیت تھی جس کے مختلف پہلوتھے ۔ عالم ہونے کے ناطے ایک عالم مبارز، فقیہ ، فلسفی ، یونیورسٹی کا استاد، بہترین مولف، خطیب توانا، مصلح اجتماعی ،فکری ، سیاسی اور انقلابی لحاظ سے بھی جامع صفات کے حامل تھا۔
قدس جو کہ عالم اسلام کا حساس ترین نقطہ ہے وہاں ایک غاصب اور جعلی ریاست کو تشکیل دیا گیا نہ صرف تشکیل دیا گیا بلکہ اسے مسلسل غاصبانہ طریقے سے وسعت دی جا رہی ہے حما س اور اس جیسی مزاحمتی تنظیمیں جو اپنی زمین کے دفاع کیلئے کھڑی ہیں ان کو دہشت گرد اور متشدد کے ناموں سے پکارا جاتا ہے مگر غاصب اسرائیل کو کوسنے والا کوئی نہیں جس کی دہشت گرد آرمی مسلم امہ کے مقدس ترین مقام مسجد اقصی میں مقدسات کی تو ہین کے ساتھ ساتھ نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کی جانوں کے ساتھ کھیلتے نظر آتے ہیں ۔