05آوریل
رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ خامنہ ای ” دام ظلہ ” کی مختصر سوانح حیات

رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ خامنہ ای ” دام ظلہ ” کی مختصر سوانح حیات

رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے

01می
علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم کے مختصر حالات زندگی

علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم کے مختصر حالات زندگی

علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم نے مکتب دیوبند میں علمی و فکری مراحل طے کیے اور کچھ عرصہ ایک دیوبندی مجاھد و مبارز عالم کی حیثیت سے فعالیت کی اور پروردگار کی خاص توفیقات ، محمد و آل محمد علیہم السلام کی نظر کرم سے نیز اپنی مسلسل تحقیق و مطالعہ سے شیعہ مکتب کے حق کا اعلان کرتے ہوئے ببانگ دہل مذھب شیعہ خیر البریہ کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔

01می
شہید مطہری کی نگاہ میں مسلمانوں کازوال

شہید مطہری کی نگاہ میں مسلمانوں کازوال

اسلامی حکمرانوں کی اقتدار پرستی جو کہ سقیفہ سے شروع ہواور خلافت اسلامی ملوکیت میں تبدیل ہونے کے بعد مسلمانوں کی حاکمیت ایسے حکام کے ہاتھ آئی جو احکامات اسلامی پر عمل پیرا ہونے کی بجائے خلافت کو روم اور ایران کے بادشاہوں کی طرز عمل پر سلطنت میں بدلنے میں مصروف رہے اور بدلا کے دکھا بھی دیا۔ جس کی وجہ سے مسلمان پسماندگی کاشکارہوئے۔۔۔

01می
شہید مطہری کی چار نمایاں خصوصیات

شہید مطہری کی چار نمایاں خصوصیات

شہید مطہری، اولیاء اور انبیاء کی سیرت کے مطابق خلوص کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ، آپ کہتے کہ: کام کو اپنے لئے کرنا نفس پرستی ، دوسرے انسانوں کے لئے کرنا بت پرستی ، اپنے اور دوسرے سب کے لئے کرنا شرک اور صرف اور صرف خدا کے لیے کام انجام دینا توحید اور خدا پرستی ہے ۔

01می
تحریف کے علل واسباب اور نقصانات شہید مطہری کی نگاہ میں

تحریف کے علل واسباب اور نقصانات شہید مطہری کی نگاہ میں

شہید مطہری انحرافی نظریات اور اسلام کی غلط تفسیر کو استعماری طاقتوں امریکہ اور سویت یونین سے زیادہ خطرناک سمجھتے تھےآج اسلام کو جس چیز سے خطرہ ہے وہ صرف امریکہ اور دوسری استعماری طاقتیں ہی نہیں بلکہ اسلامی احکام کی غلط تفسیر اور ان میں تحریف کرنا زیادہ خطرناک ہے۔

30آوریل
قبلہ مولانا حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم اور سفر وصال حق

قبلہ مولانا حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم اور سفر وصال حق

والد مرحوم نے فریقین کی کتب تاریخ و عقائد کا تحقیقی مطالعہ کیا اور آل محمد کی مظلومیت ان پر واضح ہوتی چلی گئی بالخصوص حضرت زھراء سلام اللہ علیہا کے ساتھ جو کچھ بعد از رحلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوا مثلا فدک کا معاملہ نے ان پر حق و باطل روشن کردیا ۔

30آوریل
اسلام میں خواتین،شہيد مطہری کی نظر میں

اسلام میں خواتین،شہيد مطہری کی نظر میں

شہید مطہری جو عالم اسلام اور بالخصوص مکتب اہل بیت کے عظیم مفکر اور فلسفی ہیں،آپ نے خواتین کے حقوق ومقام اور اس سلسلے میں شبہات کے بارےانتہائی دقیق گفتگو کی ہے۔آپ کی کتاب اسلام میں خواتین کے حقوق میں اسلامی نکتہ نظر سے خواتین کے باے میں مختلف زاویوں سے بحث کی ہے، جن میں جائیداد، حکومت، گھریلو حقوق وغیرہ شامل ہیں۔ قرآن کریم، دوسرے ادیان ومکاتب کے برعکس عورت کی فطرت اور تخلیق کا احترام کرتا ہے اور مرد اور عورت کے دوہرے پن کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

30آوریل
شہید مطہری،رہبر انقلاب کی نظر میں

شہید مطہری،رہبر انقلاب کی نظر میں

رہبر انقلاب معتقد ہےکہ: شہید مطہری ان افراد میں سے ایک ہیں۔جس نے اسلامی فکر کو احیاء کرنے میں زیادہ کردار دااکیا۔اور اس تفکر کوتعارف کرنےوالے علم برداروں میں سے ہے۔ شہید مطہری ایک جامع شخصیت تھی جس کے مختلف پہلوتھے ۔ عالم ہونے کے ناطے ایک عالم مبارز، فقیہ ، فلسفی ، یونیورسٹی کا استاد، بہترین مولف، خطیب توانا، مصلح اجتماعی ،فکری ، سیاسی اور انقلابی لحاظ سے بھی جامع صفات کے حامل تھا۔

29آوریل
مسئلہ فلسطین کی اہمیت اور مسلم امہ کی ذمہ داریاں

مسئلہ فلسطین کی اہمیت اور مسلم امہ کی ذمہ داریاں

قدس جو کہ عالم اسلام کا حساس ترین نقطہ ہے وہاں ایک غاصب اور جعلی ریاست کو تشکیل دیا گیا نہ صرف تشکیل دیا گیا بلکہ اسے مسلسل غاصبانہ طریقے سے وسعت دی جا رہی ہے حما س اور اس جیسی مزاحمتی تنظیمیں جو اپنی زمین کے دفاع کیلئے کھڑی ہیں ان کو دہشت گرد اور متشدد کے ناموں سے پکارا جاتا ہے مگر غاصب اسرائیل کو کوسنے والا کوئی نہیں جس کی دہشت گرد آرمی مسلم امہ کے مقدس ترین مقام مسجد اقصی میں مقدسات کی تو ہین کے ساتھ ساتھ نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کی جانوں کے ساتھ کھیلتے نظر آتے ہیں ۔

29آوریل
شہید مرتضیٰ مطہری کی نظر میں حق اور باطل

شہید مرتضیٰ مطہری کی نظر میں حق اور باطل

چودہویں صدی کے فلسفی اور مفکر استاد شہید مرتضیٰ مطہری کہ جنہوں نے ۱۳۲۵ ہجری شمسی میں قلم کاری کا کام شروع کیا اور پھر اسے اپنی زندگی کے آخر تک جاری رکھا ان کی کتابیں عام فہم، موضوعات میں تنوع ، وسعت اور معاشرے کی ضرورت کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے مختلف زبانوں میں مقبول واقع ہوئی ہیں