3

علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم کے مختصر حالات زندگی

  • News cod : 33597
  • 01 می 2022 - 16:11
علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم کے مختصر حالات زندگی
علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم نے مکتب دیوبند میں علمی و فکری مراحل طے کیے اور کچھ عرصہ ایک دیوبندی مجاھد و مبارز عالم کی حیثیت سے فعالیت کی اور پروردگار کی خاص توفیقات ، محمد و آل محمد علیہم السلام کی نظر کرم سے نیز اپنی مسلسل تحقیق و مطالعہ سے شیعہ مکتب کے حق کا اعلان کرتے ہوئے ببانگ دہل مذھب شیعہ خیر البریہ کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔

29 ماہ رمضان پاکستان کے معروف و مشہور مناظر اور عظیم واعظ و مبلغ علامہ حافظ سیف اللہ جعفری اعلی اللہ مقامہ کی وفات کا دن ہے ۔
جنہوں مکتب دیوبند میں علمی و فکری مراحل طے کیے اور کچھ عرصہ ایک دیوبندی مجاھد و مبارز عالم کی حیثیت سے فعالیت کی اور پروردگار کی خاص توفیقات ، محمد و آل محمد علیہم السلام کی نظر کرم سے نیز اپنی مسلسل تحقیق و مطالعہ سے شیعہ مکتب کے حق کا اعلان کرتے ہوئے ببانگ دہل مذھب شیعہ خیر البریہ کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔
قبلہ علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم 15 ربیع الاول 1341 بمطابق 1923 کو جالندھر میں پیدا ہوئے
آپکے والد کا نام مولانا حفیظ اللہ لدھیانوی دیوبندی تھا آپکا آبائی خاندان علماء لدھیانہ کا معروف خاندان تھا جنہوں نے جنگ آزادی میں انگریزی سامراج کے خلاف جہاد کیا اور شہادتیں دیں
اور اس خاندان کے بزرگوں نے سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کی تکفیر کی اور قادیانیت کے خلاف محاذ قائم کیا۔
قبلہ علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم دیوبند مدارس میں عملی و فکری مراحل کو طے کرتے ہوئے پاکستان کی تشکیل کے بعد نوشہرہ ورکاں گوجرانولہ میں امام جمعہ و جماعت اور خطیب کی حیثیت سے فعال رہے ۔
اسی دوران آپ نے شیعہ ابادی میں نماز و تعلیم قرآن نہ ہونے پر انکے بچوں و جوانوں کی قرآنی تعلیم کا اہتمام کیا
شیعہ مجالس میں دیوبندی اور سنی لوگوں کو شرکت سے روکنے کے لیے خود نماز جمعہ کے خطبات میں فضائل آل محمد علیہم السلام کا ذکر شروع کیا۔
جب اپنے سنی و دیوبندی مذھب کی معتبر کتب میں اہل بیت علیہم السلام کے فضائل کا مطالعہ کیا تو اپنے خطبات میں مولا علی علیہ السلام کی بے پناہ فضیلت اور بالخصوص تمام اصحاب اور شیخین پر امام علی ع کی فضیلت کا اظہار کیا
یہیں سے انکے خاندان اور دیگر سنی و دیوبندی علمی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی جب وہ حافظ صاحب مرحوم سے بحث و مناظرہ میں کامیاب نہ ہوسکے تو حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم کے خلاف اہل سنت دیوبند علماء نے فتوی صادر کیا اور آپ کو اہل سنت سے خارج اور شیعہ قرار دیا
یہاں آپ کے تشیع کی طرف میلان کا نقطہ آغاز تھا
قبلہ علامہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم نے فریقین کی کتب پر اپنا مطالعہ و تحقیق جاری رکھی اسی دوران آپکی نجف کے ایک عالم محمد الرضی رضوی جو کہ مدرسۃ الصدر نجف سے تعلق رکھتے تھے ان سے خط و کتابت رہی نیز انکی اس زمانہ کے معروف شیعہ علماء سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں استاذالعلماء علامہ باقر ھندی مرحوم ، استاذ العلماء علامہ یارشاہ نقوی مرحوم ، علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم قابل ذکر ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں قبلہ مرحوم نے فریقین کی کتب تاریخ و عقائد کا تحقیقی مطالعہ کیا اور آل محمد کی مظلومیت ان پر واضح ہوتی چلی گئی بالخصوص حضرت زھراء سلام اللہ علیہا کے ساتھ جو کچھ بعد از رحلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوا مثلا فدک کا معاملہ نے ان پر حق و باطل روشن کردیا ۔
بالاخر آپ نے اپنی تحقیق سے 30 دسمبر 1952 کو شیعہ ہونے کا اعلان کیا
شیعہ کتب کے مطالعہ میں اصول کافی ، نہج البلاغہ اسی طرح احتجاج طبرسی کا کافی کردار تھا
آپ کے اعلان تشیع کے بعد آپکے والد مولانا حفیظ اللہ لدھیانوی نے آپکے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور حافظ صاحب مرحوم کے برادر مولانا طلحہ جو شیعہ ہونے کے بعد مولانا امان اللہ جعفری معروف ہوئے آپ کو قتل کرنے کی نیت سے آئے تھے لیکن حافظ صاحب نے انہیں امامت و عصمت اور فدک کے موضوع پر دس سوال دئیے تھے کہ ان کے جوابات علماء دیوبند سے لائیں۔
نتیجتاً وہ بھی شیعہ ہوگئے
مولانا امان اللہ جعفری مرحوم بتایا کرتے تھے اس رات جو میں نے حافظ صاحب کے ھاں گذاری احتجاج طبرسی کا مطالعہ کیا تھا کافی متاثر ہوا
شیعہ ہونے کے بعد خاندان کے بائیکاٹ ، تکفیر و قتل کے فتوے نیز دیوبندیوں کی طرف جانی حملے اور دیگر بے پناہ مسائل کا سامنا کیا
لیکن شیعہ علمی حلقوں میں حافظ صاحب کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی
استاذالعلماء قبلہ علامہ یار شاہ نقوی قدس سرہ فرمایا کرتے تھے جتنے اہل سنت سے شیعہ مکتب میں آئے ہیں سب واپس لے لو ہمیں فقط حافظ سیف اللہ کافی ہیں ان کے ذریعے فقط مکتب تشیع کو فائدہ ہوا باقیوں کے ذریعے فقط نقصان ہوا۔
حافظ صاحب مرحوم پاکستان کے طول و عرض میں مجالس میں دعوت کیے جاتے تھے اور ہر جگہ امامت و ولایت پر مناظرانہ تقریریں اور اصول دین بالخصوص توحید ہر نیز اخلاقی موضوعات کو بہترین انداز سے بیان کیا کرتے تھے
حافظ صاحب مرحوم نے شیعہ ہونے کے بعد نوشہرہ ورکاں میں جامعہ حیدریہ کی تاسیس کی اسی طرح فیصل آباد میں سدھوپورہ میں جامعہ المعصومین ع کی تاسیس کی اور کچھ عرصہ وہاں بعنوان پرنسپل خدمات انجام دیں اسی طرح بھکر میں کوٹلہ جام میں جامعہ باقر العلوم کی تاسیس کی اور وہاں بھی پڑھاتے رہے۔
مجالس و خطابت کے پروگراموں کی کثرت کی وجہ سے یہ ادارے دیگر جید علماء کے سپرد کئے
بالآخر یہ عظیم ھستی 29 ماہ رمضان 11 اگست 1980 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملی۔
آپ کی قبر مبارک چونیاں ضلع قصور کے مقامی قبرستان میں ہے۔

قبلہ حافظ سیف اللہ جعفری مرحوم کے حالات زندگی پر ڈھائی سو صفحات پر مشتمل کتاب وصال حق موجود ہے جو انکے بڑے صاحب زادے مولانا خلیل اللہ جعفری نے تحریر کی ہے اور اسکی تصحیح و ترتیب پر قم میں موجود انکے فرزند مولانا علی اصغر سیفی صاحب نے کام کیا۔
پروردگار تمام مستبصرین شیعہ اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کے حقیقی پروانوں کے درجات بلند فرمائے اور مرحوم و مغفور قبلہ حافظ سیف اللہ جعفری قدس سرہ کو محمد و آل محمد علیہم السلام کے ساتھ محشور فرمائے آمین ۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=33597