صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
خیال رہے کہ ہر سال سنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے خانہ کعبہ کی اندرونی دیواروں، فرش، چھت اور دروازے کو غسل دیا جاتا ہے اور عام طور پر یہ 15 محرم الحرام کو انجام دیا جاتا ہے۔
حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے مقرر نے کہا ہے کہ ماضی میں ہمارے دسترخوان اور محفلوں پر اتنی عیش و عشرت کی چیزیں نہیں ہوتی تھیں، اس لیے بہت زیادہ تشریف آوری ہوتی تھی، لیکن اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ یہ عیش و عشرت بد سکونی کا سبب بن گئی ہے۔ صلہ رحمی کم ہو رہی ہے، کیونکہ شخص خود اس قابل نہیں ہے کہ وہ کھانے کا دسترخوان لگا سکے اس لیے وہ پھر باقی محفلوں میں بھی نہیں جاتا۔
حجت الاسلام عدیدہ نے کہا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے زندگی کے مختلف شعبوں میں لوگوں کو اپنی سیرت اور کلام سے گراں قدر تعلیمات دیں۔ آپ علیہ السلام کی تعلیمات نہ صرف ان کی زندگی میں بلکہ پوری تاریخ اسلام میں بہت سے لوگوں کی رہنمائی اور ہدایت کا سبب رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم تحریکِِ عاشورہ کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ہمیں امام حسین علیہ السلام کو عالمی سطح پر اور دنیا کے تمام آزاد انسانوں کو معرفی کرنا ہے تاکہ دنیا امام زمان (عجل) کو امام حسین علیہ السلام کے ذریعہ پہچانے۔
صہیونی ذرائع نے کہا ہے کہ ڈرون طیارہ سمندر کے راستے دفاعی سسٹم کو ناکام بناتے ہوئے تل ابیب کی فضائی حدود میں داخل ہوا
ہر سال محرم الحرام اورحضرت امام حسین(ع) کی سوگواری اور عزاداری کے ایّام میں عزاداروں کی کثیر تعداد حرم امام رضا علیہ السلام میں حاضر ہوتی ہے تاکہ شہدائے کربلا کے سوگ میں منعقد کئے جانے والے پروگراموں میں شریک ہو کر اہلبیت(ع) سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کر سکیں۔
گزشتہ روز ملایشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ظہر کی باجماعت نماز اور عاشورہ حسینی کی مناسبت سے مجلس و ماتم داری کا انعقاد کیا گیا جس میں ملائشیا میں مقیم ایرانی عزاداروں اور فارسی زبان بولنے والوں نے شرکت کی۔
انہوں نے اس دہشت گردانہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء اور مومنین کے اہل خانہ سے تعزیت پیش کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی اور عمان کے امن و سلامتی اور استحکام کی دعا کی۔
اسلامک اسکالر محترمہ خانم مرضیہ بتول نے اس پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کےقیام کے اہم ترین اہداف و مقاصد میں سے ایک خداوندمتعال کی رضایت کا حصول تھا۔