دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
رہبرانقلاب اسلامی نے ایران اور ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ میں امریکیوں کی جانب سے ڈالی جانے والی رکاوٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ متعدد بارایسا ہوا ہے کہ ہمسایہ ملکوں کے اعلی رتبہ وفد کے دورہ ایران کی امریکہ کی جانب سے مخالفت کی گئی ہے۔
صدر مملکت عارف علوی نے اپیل کی کہ بزرگ افراد عبادات گھر پر سرانجام دیں۔ عارف علوی نے کہا کہ علماء لوگوں کو ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ اپنانے کی تلقین کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں حضور نبی کریم ص کی وبا سے بچنے کے لیے دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستانی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایس او پیز پر پابندی سے عمل کرتے ہو ئے حسب روایات تمام مجالس منعقد ہو نگی اور جلوس بھی برآمد ہونگے ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 20رمضان فتح مکہ کے موقع پر کہاکہ فتح مکہ، شرک کے سیاسی اقتدار کے زوال کا نقطہ آغاز ہے اور مکہ اسلام کے مقابلے میں 20 سالہ مزاحمت کے بعد اسلام کے زیر نگیں آیا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے یکم مئی”عالمی یوم مزدور“ کے موقع پر کہا ہے کہ ہم پاکستانی مزدوروں اور محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو قومی تعمیرو تروقی میں اپنا قیمتی حصہ ڈالتے ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ یوم ضربت علی ابن طالب ؑ عالم اسلام کابڑا سانحہجو داخلی انتہاءپسندی، شدت پسندی کی گھناﺅنی مثال ہے، یہ ضربت دراصل اسلام کے تشخص ، نظام عدل ، گڈ گورننس ، عوامی و انسانی حقوق کےلئے عمل پیرا نظام حکومت پر وار ہے
انقلاب بحرین کے قائد اور تحریک اسلامی کے رہنما آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحرین کی بقا اور دوام کا دار و مدار بنیادی اور حقیقی اصلاحات پر ہے۔
آج وزیر اعظم گلگت کے دورے پر آئیں گے، جس میں بہت سارے اعلانات متوقع ہیں۔ البتہ ایک تجزئیے کےمطابق بلتستان ریجن کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ شتونگ نالہ ہمارے لیے حیاتی مسئلہ ہے مگر وزیر اعظم کے متوقع اعلانات میں اس کا ذکر تک نہ ہونا نا انصافی ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بہت اچھا لگا کہ سعودی عرب کے پرنس نے ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ اور یہ امت مسلمہ کے لئے بہت خوش آئند ہے۔ اس کے لئے آیت اللہ خمینی، آیت اللہ خامنہ ای وغیرہ سب ہی کوشش کرتے رہے ہیں کہ آؤ ہاتھ ملاؤ۔ کفار کے مقابلہ میں کھڑے ہوجاتے ہیں.