دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
تبلیغ دین میں تبلیغ قولی سے زیادہ اہم تبلیغ عملی ہے اور تبلیغ کے نتیجے میں ایک انسان کی ہدایت مبلغ کے لیے دنیا وما فیھا سے بہتر ہے۔
عالمی استکبار کی جانب سے قرآن کی توہین اور دیگر مذموم سازشوں کے باوجود عالمی سطح پر مخصوصا مغربی ممالک میں جوانوں کی قرآن کی طرف توجہ بڑھ گئی ہے۔
اولین شب قدر کے موقع پر اپنے خطاب میں نصراللہ نے یوم القدس کو زندہ رکھنے پر زور دیا جو رمضان المبارک کے آخری جمعہ المبارک کو منایا جاتا ہے۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام پر جمعہ کے خطبوں میں دی جانے والی گالیوں پر پابندی ، یزید کو جانشین مقرر نہ کرنا شرائط میں شامل تھا،امیر شام کو صلح پر مجبو ر کرنا فرزند رسول کی کامیابی تھی، جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعةالمنتظر میں خطبہ جمعہ
روزہ کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ انسان اس مہینہ میں اپنے ان دشمنوں کے خلاف آمادہ ہو جنہوں نے اس سے تکامل کا راستہ چھین لیا ہے، دشمن سے مقابلہ کرنے اور اس پر غلبہ پانے کے لئے صبر و استقامت کی مشق کرے
حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ نے جامعۃ الزہرا (س) کی مدیر سے ملاقات کے دوران کہا کہ طالبات معاشرے میں کافی اثر رکھتی ہیں، خواتین پورے خاندان اور معاشرے کو بدل سکتی ہیں۔
ولی امر مسلمین سید علی خامنه ای سے ملاقات میں جہاد اسلامی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آج جو کچھ بھی غزہ میں ہو رہا ہے وہ در حقیقت واقعہ کربلا کو دہرایا جا رہا ہے۔ تمام سازشوں اور سختیوں کے باوجود غزہ کی عوام استقامتکاروں کے ہمراہ کھڑی ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ صلح امام حسن ؑ عالم اسلام کے لئے نقطہ آغاز اور رہنما اصول کا مقام رکھتی ہے جس سے سبق حاصل کرکے مسلمان انتشار و افتراق‘ جنگ و جدال اور قتل و غارت گری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ضروری ہے کہ اس مہینہ میں تلاوت قرآن مجید کی جائے۔ قرآن مجید کی تلاوت کے آداب میں سب پہلی چیز قرآن مجید کی عظمت کا اقرار ہے کہ انسان کے دل میں ہو کہ اللہ تعالیٰ کی کتا ب میں ٹیڑھا پن نہیں اور ہر لحاظ سے عظیم ہے ۔دوسرا اللہ تعالیٰ کی عظمت انسان کے دل میں ہو۔