صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں حسن اتفاق ہے کہ پاکستان 27 رمضان المبارک کو قائم ہوا ، اسلامی تقویم کے لحاظ سے یوم پاکستان یعنی یوم آزادی 27رمضان المبارک ہے،آ ج کا دن ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی، فلاحی اورجمہوری ریاست بنانے کےلئے کردار ادا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ زکوٰة فطرہ کا استحقاق وہ شخص رکھتا ہے جس کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے سال بھر کے اخراجات نہ ہوں اور اس کاکوئی روز گار بھی نہ ہو جس کے ذریعے وہ اپنے اہل و عیال کا سال بھر خرچہ پو را کر سکے جبکہ خود مستحق شخص پر فطرہ واجب نہیں ہے ،نیز فطرہ کے مستحق وہی افراد ہیں جو زکوٰة کے مستحق ہیں (البتہ فطرہ دینے کےلئے ترجیح غریب ترین رشتہ دار یااپنے شہر والوں کو دی جائے )
وزیراعظم عمران خان نے اسلامی تعاون تنظیم کے سکریٹری جنرل سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلامو فوبیا کے تدارک اور فلسطین کی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ یوم القدس منانے کا مقصد مسلمانوں بالخصوص فلسطین کے مظلوم عوام کے حقوق اور ظالم جابر صیہونی ریاست کیخلاف آواز بلند کرنا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے فلسطین میں نمازیوں اور افغانستان میں تعلیمی ادارے پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، عالمی اداروں کو متوجہ کرتے ہوئے ظلم کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کابل میں شیعہ ہزارہ کے تعلیمی مرکز سیدہ الشہداء پر خود کش حملےکی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہا کہ چالیس سے زائد معصوم طلباء کو کو لقمہ اجل بنا نے والے انسان کہلانے کے مستحق نہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے قبلہ اول مسجد اقصی پر غاصب اسرائیلی فوج کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران مسجد اقصی پر اسرائیلی فورسز کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اسرائیلی فوج انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کررہی ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سینئیر نائب صدر حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ مرید حسین نقوی نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کی فائرنگ امت مسلمہ کی غیرت و حمیت کو چیلنج قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کوتسلیم کرنے والے عرب ممالک کااپنی غلطی کے اعتراف اور فیصلہ واپس لینے کی بجائے محض مذمتی بیان شرمناک ہے۔
وہ وقت دور نہیں جب بین الاقوامی سیاست ذاتی مفادات پر نہیں، اخلاقیات پر مبنی ہو گی