زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























زائرینِ حسینی، طاقت اور استحکام، خون کا بدلہ دشمنوں سے، خوفناک انجام ثابت، کتائب سید الشہداء،
امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان جاری کر کے عراقی رضاکار فورس کے سربراہ پر پابندی عائد کرنے کی خبر دی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے بیان کہ وہ بلیک میل نہیں ہوں گے، دھرنے والے پہلے لاشوں کی تدفین کریں وہ پھر کوئٹہ جائیں گے، کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے ہیں اور لاہور کے تمام داخلی راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ لاہور میں جی ٹی روڈ پر امامیہ کالونی کے مقام پر شہریوں نے ریلوے پھاٹک بند کر دیا ہے اور جبکہ فیروز پور روڈ پر چونگی امر سدھو کے قریب بیجنگ فلائی اوور چوک میں سڑک پر دھرنا دیدیا گیا ہے۔
ایرانی بزرگ عالم دین آیت اللہ محمد باقر تحریری ان شہادتوں اور قربانیوں سے مسلمانوں اور حکومتوں بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں،کہ اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دیں تاکہ شہداء کے اہل خانہ کے غمزدہ دلوں کو سکون ملے۔
وزیراعظم عمران خان کو یہ بیان دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی ۔ لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان انسان ہے اور نہ ہی سیاستدان ۔انہیں اپنا بیان واپس لے کر ہزارہ قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور فی الفور لواحقین کے مطالبے کے مطابق کوئٹہ پہنچ کر انہیں آئندہ ایسے کسی بھی واقعات کی یقین دہانی کرانی چاہئے
عمران خان بادشاہ سلامت ہیں اور انہوں نے اپنا دورہ کوئٹہ ملتوی کردیا ہے اور الزام عائد کر رہے ہیں کہ مقتولین کے ورثا انہیں میل کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ظلم کو اللہ تعالیٰ بالکل پسند نہیں کرتا ۔وزیراعظم کسی دباو ¿ کا شکارہیں ،وہ کابینہ میں وہ بات چیت تو کرتے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے لیکن انھیں اناپرستی تبدیل کرنا ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کے دباو ¿ میں نہیں جائیں گے۔
آج بروز جمعہ انجمن امامیہ بلتستان کے زیر سرپرستی انجمن شہریان، انجمن تاجران، سول سوسایٹی، شیعہ علماء کونسل، جے ایس او، مجلس وحدت المسلمین، آیی ایس او اور امامیہ آرگنائزیشن کی جانب سے سانحہ مچھ میں شیعہ ہزراہ برادری پر سفاکانہ ظلم و بربریت کے خلاف احتجاج اور شہدا کے وارثین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسج سکردود سے یادگار شہدا تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
اس احتجاجی جلسہ میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے خلاف ہورہی دہشت گردانہ کاروائیوں پر پاکستانی حکومت سے لگام لگانے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔
اس ملک میں پائیدار امن کیلئے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری بنانے کا وعدہ پورا کرے۔
ہزارہ قوم کی مظلومیت ذرا ملاحظہ کیجئے کہ کبھی ان کو دکانوں میں گھس کر بون دیا جاتا ہے تو کبھی بسوں سے اتار کر گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے، کبھی ان کے ماتمی جلوسوں پر خودکش حملے کرکے سینکڑوں ماتمیوں کو خاک و خون میں غلطیاں کیا جاتا ہے تو کبھی ان کے ہوٹلوں میں دھماکے کرکے دسیوں افراد کو شہید کیا جاتا ہے۔