صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
وفاق ٹائمز | قاتل دھشت گردوں نے یزید و شمر کی تاریخ دھرائی جبکہ ہمارے مظلوم شہداء عاشق کربلا تھے
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں مذہب مخالف سوچ اور ان لوگوں کی لاعلمی کا نتیجہ ہیں جو مظلوم لوگوں کو جھوٹے بہانے سے قتل کرنے کا جواز پیش کرتے ہیں اور متعدد بے گناہ خاندانوں کو سوگوار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو ایسے عقلی، انسانیت اور آسمانی مذاہب کے منافی واقعات اور حادثات کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئے ، تمام انسانی مذاہب حتی کہ غیر الہی مذاہب بھی ایسے دردناک اور ناجائز طریقے کے قتل کو تسلیم نہیں کرتے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے مچھ میں گیارہ کان کنوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے ایک بار پھر تکفیری دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں علاقے کے تمام ملکوں کے تعاون کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کی پریزائڈنگ کمیٹی کے سربراہ احمد امیر آبادی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر اکیس فروری دوہزار اکیس تک ایران کے مالیاتی، بینکاری اور تیل کے شعبے پر عائد ظالمانہ امریکی پابندیاں ختم نہ کی گئیں تو تہران ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو ملک سے باہر نکال دے گا۔
علامہ محمد افضل حیدری نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ہزارہ شہداء کے ورثاء کو بلیک میلر قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور ان کے منصب کے منافی ہے، عمران خان کا اپنے سیاسی مخالفین اور حکومتی نا اہلی کے متاثرین غم زدگان کیلئے ایک جیسے الفاظ استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزرا علی زیدی، زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، بلوچستان کے وزیراعظم جام کمال خان پر مشتمل وفد نے ملاقات کی اور ان سے کامیاب مذاکرات کیے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پاکستان میں،خاندان عصمت و طہارت کے 11عقیدت مندوں اور پیروکاروں کی تکفیری گمراہ کن گروہوں کے ہاتھوں شہادت نے ایک بار پھر شیعیان و دوستان اہل بیت علیہم السلام کے خلاف دہشت گرد داعش اور صہیونی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو برملا کردیا۔
مظاہرہ حوزہ علمیہ اثنا عشریہ سے نماز جمعہ کے بعد شروع ہوا اور کرگل مین بازار سے ہوتے ہوئے واپس حوزہ علمیہ چوک پر اختتام پذیر ہوا ۔اس دوران مظاہرین دہشتگردی نامنظور ، پاکستان سرکار قاتلوں کو سزاد دو ، شیعہ نسل کشی بند کرو جیسے فلک شگا ف نعرے بلند کررہے تھے ۔