صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
تہران میں واقع پاکستانی سفارت خانہ کے باہر ایرانی اسٹوڈنٹس اور عوام کی جانب سے شہدائے مچھ کے لواحقین اور پاکستانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور تعزیت کے اظہار کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اپنے حالیہ خطاب میں امریکی اور برطانوی ویکیسن کی افادیت پر سوالات اٹھائے تھے جس کے پیش نظر آزادی اظہائے رائے کا ڈھونگ کرنے والے مغربی سوشل میڈیا نیٹورک ٹوئیٹر نے اس سے مربوط پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا۔
جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیرا عجازاحمد ہاشمی نے کہا ہے کہ ہزارہ برادری کے قتل کے مسلسل واقعات کاتعلق فرقہ واریت سے نہیں، دہشت گردی سے ہے ۔ محب وطن اورپر امن ہزارہ کو گذشتہ تقریباً 15 سال سے جس بے دردی اور منصوبہ بندی سے دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے، قابل مذمت ہے۔ حکومت اور ریاست کی بے حسی واضح کرتی ہے کہ اداروں میں بیٹھے افراد انسانی اقدار اور اپنی ذمہ داریوں سے ناواقف ہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں پچھلے کئی سالوں سے سے مسلسل دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، اس میں کوئٹہ کی ہزارہ برادری بری طرح متاثر ہے۔ ان کے دو ہزار کے قریب لوگ نشانہ بن چکے ہیں۔
سکردو میں ہزارہ برادری کے حق میں نکالی گئی ریلی میں بعض افراد نے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے پرامن احتجاج کا تاثر خراب کرنے کی کوشش کی تھی
پاکستان کسی بھی فرقہ وارانہ دہشتگردی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس وقت تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ایک پیج پر ہونا پڑے گا
وفاق ٹائمز | اس قتل عام کی مذمت کرنے کے کے ساتھ ، میں پاکستان کے مسلمان عوام اور خانوادہ شھداء کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
اس بیان میں آیا ہے کہ مٹھی بھر مجرم ، دلوں سے نفرت اور لاعلمی اور تکفیریوں کا تعصب ، آج استعمار کے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی خدمات کی رہنمائی میں ہیں ، اور یہ لوگ انہی اداروں کی پشت پناہی میں دہشت گردی کرتے ہیں.
وفاق ٹائمز | اگر یونیورسٹی ہی میں ملنا تھا تو پانچ دن پہلے مل آتے۔ اگر بلیک میل نہیں ہونا تھا تو اپوزیشن سے پہلے چلے جاتے۔ اگر تدبر ہوتا تو قبرستان قبروں پر سے ہی ہو آتے