یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن کا اٹلی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایرانی پرچم لہرا کر، ایران کی حمایت کا اعلان
























آئرلینڈ کے سیاستدان اور یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن، اسٹیڈیم کے اسٹینڈز میں ایرانی پرچم، امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی دہشت گردی،
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل شام افغان وزیر خارجہ سے ٹیلی فونی گفتگو ہوئی جس میں کوئٹہ اور پشاور کے دھماکوں پر پاکستان کے خدشات پر ان سے بات کی اور انہیں کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
عقل کا تقاضا یہ ہے کہ فرانسیسی مصنوعات کے ساتھ امریکی، برطانوی اور یہودی مصنوعات کا بھی مسلم ممالک میں بائیکاٹ کیا جائے۔ جب مغربی ممالک کی معیشت کمزور ہوگی تو وہ خود بخود ایسے ہتھکنڈوں سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔
حوزہ ٹائمز|علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، تمام سٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات اور بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل عمل حل تلاش کیا جائے، کشمیرکی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے.
انھوں نے کہا کسی بھی مہذب ملک اور قوم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسرے ادیان کے مقدسات کی توہین کرے فرانسیسی میگزین نے دوبارہ آزادی اظہار رائےکی آڑ میں اس فعل قبیح کو انجام دے کر مسلمانوں کو رنجیدہ کیا ہےجس پر پوری دنیا کے مسلمان شدید احتجاج کر رہے ہیں
اسلامو فوبیا کا شکار یہ عالمی طاقتیں مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو آئے روز نت نئے طریقوں سے نشانہ بنا کر توہین اسلام کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
شرجیل میر کا کہنا ہے کہ فرانس کی حکومت اور شہریوں نے ہمیشہ ہمارے دین اسلام کے بارے میں نفرت آمیز کردار ادا کیا، ملک بھر کے تاجر فرانس کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ نبی کریم ؐاور دین اسلام سمیت بزرگان دین کی ناموس کے خلاف جو بھی بات کرے گا ہم اسی کی زبان کھینچنا جانتے ہیں۔
پشاور مدرسے کے اندر دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی
عراقی مظاہرین نے کل بغداد کے قھرمانہ اسکوائر میں فرانس کے سفارتخانے کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے فرانس کے صدر میکرون کے اہانت آمیز بیان کی مذمت کی اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے، جن کے ہاتھوں میں عراق اور الحشد الشعبی کے پرچم تھے، فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کیا۔
حوزہ ٹایمز | واضح رہے کہ پاکستان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر اعتراض کرتے ہوئے فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ میں طلب کیا۔ یاد رہے کہ رواں ماہ میں فرانس کے ایک اسکول کے ٹیچر نے آزادئ اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازعہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو میں سن 2006 میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔