دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
سید حسن نصراللہ نے کہاکہ امریکا نے اپنے سنگين اور مجرمانہ جرائم کو فراموش کردیا ہے، امریکیوں نے افغانتسان میں شادی کی تقریب کو عزا میں بدل دیا، داعش دہشت گردوں نے پشاور میں امریکا کی خوشنودی کے لئے بے گناہ نمازیوں کو بہیمانہ طور پر شہید کیا، امریکی فوجیوں کے سنگين اور بہیمانہ جرائم سے تاریخ بھری پڑی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے جاری بیان میں پشاور میں کئے گئے شیعہ مسجد پر حملے اور نمازیوں کے قتل عام کی سخت مذمت کی ہے۔
جامع مسجد کوچہ رسالدار پشاور میں بے گناہ محب وطن نمازیوں کو جس بیدردی کے ساتھ خون میں نہلایا گیا وہ فرقہ واریت پر مبنی اسی سوچ اور پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے جسے وطن عزیز میں ایک طویل عرصے سے پھلنے پھولنے اور امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ مکتب تشیع کی جانب سے بارہا نشاندہی کئے۔
گورنر ہاوس میں کانفرنس سے خطاب میں منہاج الحسینؑ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عراق میں جب داعش نے شیعہ، سنی اور مسیحی خواتین کو کنیزیں بنا کر بازار میں فروخت کیلئے پیش کیا تو آیت اللہ سیستانی نے اپنے مقلدین کو حکم دیا کہ وہ بلاتفریق مذہب و ملت دین و عقیدہ تمام قیدی عورتوں کو پیسے دے کر خریدا جائے اور ان کو عزت و تکریم کیساتھ ان کے گھروں میں پہنچایا جائے، اور اس حکم پر عمل کیا گیا، یہی وہ سیرت النبی(ص) کا عملی مظاہرہ تھا۔
ایران کے صوبہ بوشہر میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام و المسلمین غلامعلی صفائی بوشہری نے اپنے ایک بیان میں پشاور کی مسجد میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ ان کے مقدس وجود کو ایرانی قوم اور تمام مسلم اقوام کی محبت و الفت کا مرکز بتایا۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے پشاور مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے پشاور میں نمازیوں پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیعہ مسلک کے خلاف 30 سالہ دہشت گردی کا تسلسل نہایت تشویشناک اور ملکی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔
اجتماعی جنازے کی ادائیگی کیلئے شہر بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔