صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























کعبہ شریف کے اردگرد سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ رکاوٹیں ڈھائی سال قبل کورونا وبا کے باعث لگائی گئی تھیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد کے سلسلے میں جاری پاک آرمی کے آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر کے حادثہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے آخری رسول جب مبعوث برسالت ہوئے تو انہوں نے عالمِ بشریت کو ایک ایسا فلاحی نظام دیا جس کا تعلق جسم کی فلاح اور روح کی سعادت سے ہے اور یہ نظام دنیوی زندگی کی سرفرازی کے ساتھ اخروی زندگی کی سربلندی کا ضامن بھی ہے۔
اقوام عالم کے نزدیک یزید اور یزیدیوں کے نام گالی بن کے رہ گئے۔ جبکہ امام حسین ع اور آپ کے اصحاب خیر و برکت کا استعارہ ٹھہرے، کیونکہ آپ نے انسانی اقدار کی پامالی برداشت نہیں کی، اور یزیدیوں کے پاؤں تلے روندے گئے اقدار کے احیا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بنی امیہ نے بہت ساری احادیث اپنی حمایت میں جعل کیئے اور احادیث کو اپنی حکومت بچانے کے لئے استعمال کیا جیسا کہ معروف ہے کہ "حکومت کے خلاف اٹھنا یعنی دین کے خلاف اٹھنا" اور دین کے خلاف بات کرنے سے انسان واقعا ڈر جاتے ہیں اور مسلمانوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنی امیہ نے مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعے حکومت کی۔
انکا مزید کہنا تھا کہ کربلا رہتی دنیا تک ایک آفاقی تحریک ہے لوگوں کو اگر جینا ہے تو ان سے جڑ جائیں جو مرے نہیں ہیں جبکہ پاکستان سمیت ساری دنیا میں کربلا والوں کی یاد میں یہ بڑے بڑے اجتماعات ان کی حیات ابدی کا منہ بولتا ثبوت ہیں
علامہ امین شہیدی نے پہلی وحی کو تربیتِ انسانی کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ لفظ "اقراء" جہل سے علم تک کا سفر ہے۔ پہلی وحی بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے ذریعہ انسانی معاشرہ رفتہ رفتہ تاریکی سے روشنی اور نادانی سے دانائی کی طرف بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کربلا کا درس ہے کہ بصیرت و آگاہی اور شعور و فکر کو بلند و بیدار رکھا جائے ورنہ جہالت و گمراہی کے پروردہ ہر جگہ ایسی ہی کربلائیں پیدا کرتے رہیں گے۔ کربلا ایک لگاتار پکار ہے،یزیدیت ایک فکر اور سوچ کا نام ہے اسی طرح حسینیت بھی ایک کردار کا نام ہے قیامت تک حسینیت یزیدیت کے مقابلے میں بر سر میداں رہے گی۔
علامہ ساجد نقوی کے مطابق امام حسین ؑکی جدوجہد اور واقعہ کربلا سے الہام لینے اور استفادہ کرنے کا سلسلہ61 ھجری سے آج تک جاری وساری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔ دنیا میں حریت پسندی کی ہر تحریک کربلا کی مرہون منت نظر آتی ہے اور دنیا کی تمام حریت پسند تحریکیں امام حسین ؑ کی شخصیت سے متاثر نظر آتی ہیں۔